Browsing: اہم خبریں

نیہا بورا نے الزام لگایا کہ انہیں ڈرانے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن وہ اس سے خوفزدہ نہیں ہوں گی اور طلبہ کی تحریک جاری رہے گی۔ دوسری جانب AISA اور سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ واقعہ سیاسی مخالفت کا نتیجہ ہے، جبکہ اس الزام کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

رانا ثنا اللہ نے ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’پراپیگنڈا کا حال یہ ہے کہ کچھ دن پہلے میرپور میں ایک واقعہ ہوا، جس میں کوئی ہلاک نہیں ہوا۔ لیکن ایک ویڈیو بنائی گئی کہ تقریباً 25 لاشیں خون میں لت پت وہاں پر موجود ہیں اور بتایا گیا کہ دیکھیں یہ قتلِ عام ہو گیا ہے اور بعد میں وہ ساری لاشیں لوگوں کو چلتی پھرتی نظر آئیں۔‘

ترجمان ریسکیو 1122 بلال فیضی کے مطابق نو افراد کی لاشیں سینٹرل ہسپتال سیدو شریف جبکہ کبل ہسپتال نے پانچ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے مطابق دھماکہ خودکش تھا۔ اُن کے بقول بہادر پولیس جوانوں نے جان دے کر خودکش بمبار کو تھانے کے اندر جانے سے روکا۔

مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق مظفرآباد لوئر پلیٹ میں حالات کشیدہ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’لوئر پلیٹ، چہلہ بانڈی اور اپر اڈہ میں کئی لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ دکانیں بند، سیاسی جماعتوں کے پوسٹرز اتار کر آگ لگائی گئی۔ مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔‘

سورینج اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں ماضی میں بھی کوئلہ کانوں میں حادثات پیش آتے رہے ہیں۔
دیگر جدید صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے کوئلے کی کانکنی بلوچستان کی بڑی صنعت ہے۔ کوئلے کی کانیں زیادہ تر کوئٹہ، کچھی، ہرنائی اور دکی کے اضلاع میں موجود ہیں

خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے جاری بیان مطابق بدھ کے روز ہونے والے حملے اور اس کے جواب میں کیے جانے والے آپریشن میں ڈی ایس پی دیار خان سمیت نو پولیس اہلکار ہلاک جبکہ ڈی ایس پی مجاہد حسین سمیت 28 اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موبائل سروس تو تاحال چل رہی لیکن انٹرنیٹ سروس میرپور کے علاوہ تمام جگہوں پر بند ہے۔
میرپور کے رہائشی فیضان کا کہنا ہے کہ ’صرف لینڈ لائن انٹرنیٹ کنیکشن کام کر رہا ہے۔ لیکن وہ بھی مستحکم نہیں جبکہ موبائل فون پر انٹرنیٹ نہیں چل رہا۔‘

ان کا گھر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز رہا وہ مختلف اوقات میں ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو ، فاروق لغاری، اجمل خٹک، یوسف رضا گیلانی اور تاج لنگاہ ان کے ہاں آتے تھے ۔ آخری عمر میں پیپلز پارٹی کی اعلٰی قیادت نے انہیں بھلا دیا تھا