یو ایس جی ایس کے اندازے کے مطابق دوسرے زلزلے کے بعد 44 فیصد امکان ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 10,000 سے زائد ہو سکتی ہے جبکہ ہلاکتیں ایک لاکھ سے تجاوز کرنے کا 30 فیصد امکان ہے۔
Browsing: اہم خبریں
ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بڑی تعداد میں زائرین بہشتی دروازے سے گزرنے کے لیے جمع تھے۔ رش بڑھنے اور انتظامی مشکلات کے باعث اچانک بھگدڑ مچ گئی، جس سے متعدد افراد گر کر زخمی ہوگئے۔
جج محمد علی مبین نے پیر کے روز یہ فیصلہ ایک ایسے موقع پر سنایا جب نہ صرف ڈاکٹر ماہ رنگ اور بی وائی سی کے دیگر گرفتار رہنماؤں اور ان کے وکلا نے عدالت کا بائیکاٹ کیا بلکہ گرفتار رہنما ڈسٹرکٹ جیل ہدہ میں 12 جون سے دھرنے پر بیٹھے ہیں۔
پولیس نے ویگن میں سوار تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق گاڑی کا ڈرائیورنشے میں تھا اور حادثہ بریک فیل ہونے کی وجہ سے پیش آیا۔
ڈی آئی جی کے مطابق اس واقعے کے حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔ ادھر شیعہ علما نے بھی اس واقعے کو سکیورٹی کی ناکامی قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اس دھماکے کی نوعیت کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہوئی ہیں ابتدائی طور پر پولیس بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دھماکے ریموٹ کنٹرول سے کیے گئے ہیں تاہم پولیس اس بارے میں تحقیقات کر رہی ہے۔ پولیس کی ٹیمیں شواہد اکٹھے کر رہے ہیں جبکہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
اپنے بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جو کمی آئےگی وہ من وعن عوام کو منتقل کررہے ہیں، معاشی استحکام برقرار رکھنے اور منہگائی میں مزید کمی کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھیں گے۔
سوئٹزرلینڈ کے وفاقی محکمہ برائے اُمور خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ برگن شٹاخ میں اس حوالے سے تیاری کی گئی ہے تاہم فی الحال اس سے زیادہ معلومات فراہم نہیں کی جا سکتی ہیں۔
اسلام آباد : پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر الیکٹرانک دستخط کیے جانے کا…
’ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ طویل مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ دونوں فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل طور پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔‘
اگر ہم نے اپنی درسگاہوں کو آؤٹ سورس کر دیا تو صرف عمارتیں اور انتظام نہیں بدلیں گے، بلکہ خدشہ ہے کہ ہماری صدیوں کو محیط تعلیمی روایت، ہماری علمی شناخت اور ہمارا فکری ورثہ بھی آؤٹ سورس ہو جائے گا۔
