اسلام آباد : پاکستان میں ہونے والا سکیورٹی ڈائیلاگ خود سکیورٹی خدشات کی نذر ہو گیا جس کے بعد انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی ۔یہ کانفرنس بیس اور اکیس اکتوبر کو ہونے والی تھی اور مختلف عالمی وفود روانہ بھی ہو گئے تھے
کانفرنس کے منتظم محمد عامر رانا نے کہا ہے کہ ’مجھے افسوس کے ساتھ اعلان کرنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز (پپس) کا آئندہ پاکستان سکیورٹی ڈائیلاگ 2026 منسوخ کر دیا گیا ہے، کیونکہ بیشتر غیر ملکی مندوبین کے ویزے منسوخ کر دیے گئے ہیں جبکہ سرینا ہوٹل نے بھی سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے تمام بکنگز ختم کر دی ہیں۔ تاحال اس حوالے سے کوئی تحریری وضاحت نہیں دی گئی ہے۔‘
کانفرنس میں چین، امریکہ، بنگلہ دیش، یورپی اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے مندوبین کی شرکت متوقع تھی، تاہم متعدد غیر ملکی شرکا کے ویزے منسوخ ہونے اور اسلام آباد کے سرینا ہوٹل کی جانب سے سکیورٹی خدشات کے باعث بکنگ منسوخ کیے جانے کے بعد تقریب ملتوی کر دی گئی۔
پپس نے اس سے قبل ماضی میں بھی ایسی متعدد کانفرنسز کا انعقاد کیا اور ان تقریبات میں غیرملکی مہمان اور ماہرین شریک ہوئے۔
عامر رانا نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ اس بار بھی اس کانفرنس کے لیے ان کے ادارے اور ان کی ٹیم نے بہت محنت کی تھی۔ ان کے مطابق اس کانفرنس میں حکومتی وزرا، ماہرین، صحافی اور سیاسی رہنما بھی مدعو تھے۔
واضح رہے کہ ملتوی ہونے والی کانفرنس کے شرکا میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی اور سابق وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ بھی شامل تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پروگرام میں کسی انڈین مندوب کی براہِ راست شرکت متوقع نہیں تھی۔ البتہ سابق انڈین وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے سابق سپیچ رائٹر اور معروف تجزیہ کار سدھیندرا کلکرنی نے آن لائن خطاب کرنا تھا۔ اس کے باوجود کانفرنس کی منسوخی نے منصوبہ بندی، ویزا انتظامات اور سکیورٹی جائزے سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
سرینا ہوٹل کے ایک مینیجر نے بی بی سی کو بتایا کہ ہمیں بتایا گیا کہ موجودہ حالات میں مہمانوں کے لیے مناسب انتظامات کرنا ممکن نہیں ہوگا جس وجہ سے بکنگ ملتوی کی گئی۔ تاہم انھوں نے کہا کہ یہ صرف ہوٹل کا فیصلہ نہیں تھا۔
اس حوالے سے بی بی سی نے دفترِ خارجہ سے رابطہ کیا تو انھوں نے وزارتِ داخلہ سے رابطہ کرنے کو کہا۔ ہم نے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کو بھی اس حوالے سے سوال بھیجا ہے، تاہم اس خبر کی اشاعت تک ہمیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
بی بی سی کے رابطہ کرنے پر پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز (پپس) نے ’پاکستان سکیورٹی ڈائیلاگ 2026: علاقائی امن اور استحکام کی راہیں‘ کے عنوان سے 20 اور 21 ستمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی دو روزہ کانفرنس منسوخ کرنے کی تصدیق کی۔ ادارے کے مطابق یہ مکالمہ بین الاقوامی یومِ امن کے موقع پر منعقد کیا جانا تھا۔
پپس کے مطابق یہ فیصلہ اُس وقت کیا گیا جب کانفرنس کے میزبان مقام سرینا ہوٹل نے اچانک تقریب اور اس میں شرکت کے لیے آنے والے مہمانوں کی تمام ہال اور کمروں کی بکنگ منسوخ کر دی۔
ہوٹل انتظامیہ نے اس کی وجہ سکیورٹی خدشات بتائی، جن کے بارے میں کہا گیا کہ متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے آگاہ کیا گیا تھا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب کئی بین الاقوامی مندوبین پہلے ہی اسلام آباد کے لیے روانہ ہو چکے تھے۔ پپس نے اس صورتحال کے باعث متاثر ہونے والے تمام شرکا سے معذرت اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
پپس 2006 میں اپنے قیام کے بعد سے علاقائی اور داخلی سکیورٹی سے متعلق متعدد قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں اور مکالموں کا انعقاد کرتا رہا ہے۔ ان سرگرمیوں نے علاقائی سلامتی، جغرافیائی سیاست، انسدادِ دہشت گردی، قیامِ امن اور استحکام جیسے موضوعات پر علمی اور پالیسی مباحث میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
(بشکریہ : بی بی سی )
اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
ایڈیٹر6 Views

