Browsing: ادب

ماں نےاس ر شتے کو یکسر مسترد کر دیا۔ان کے الفاظ میں بحث تھی نہ کوئی سوال،صرف فیصلہ تھا”میں نیچے نہیں أؤں گی”یہ جملہ گھر کی دیواروں سے ٹکرا گیا۔

یہ داستان ترک روایت میں "Üç Turunçlar” کے نام سے بھی جانی جاتی ہے اور اس کی کئی علاقائی صورتیں موجود ہیں؛ بعض روایات میں نارنجی کی جگہ لیموں، انار یا دوسری اشیا بھی آتی ہیں۔ ترک لوک کہانیوں کے معروف مجموعے میں Ignác Kúnos کی جمع کردہ "The Three Orange-Peris” بھی شامل ہے۔

ڈاکٹر صاحبزادہ جواد الفیضی کی یہ کاوش بلاشبہ ایک ایسا ادبی شاہکار ثابت ہو گی جو قارئین کے ذوق مطالعہ کی تسکین کے ساتھ ساتھ مستقبل کے مسافروں اور قلم کاروں کے لیے بھی تخلیقی رہنمائی کا ایک مستقل سرچشمہ بنی رہے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ انگریزی لفظ cot کا ماخذ سرائیکی لفظ” کھٹ“ ہے اور دونوں کا مطلب چار پائی ہے۔ اس طرح سرائیکی میں ایک لفظ ” ونج“ استعمال کیا جا تا ہے جو انگریزی میں went بن جا تا ہے ۔ معنی ان دونوں کے بھی ایک ہی ہیں۔

ایک بچہ سڑک پر رو رہا تھا۔ وہ جلوس میں شامل ہونا چاہتا تھا لیکن اس کی خوف زدہ ماں اسے روک رہی تھی۔ وہ ٹانگیں چلاتا اور روتا رہا۔ وہ ماں کے ہاتھ پر کاٹ کر اس سے جدا ہونے میں کامیاب ہوا اور جلوس میں شامل ہوتے ہی خاموش اور پرسکون ہوگیا۔ اس نے اپنے آنسو تک نہیں پونچھے کہ جلوس کا نظم خراب نہ ہوجائے۔

جب اُن کا اپنا انتقال ہوا تو سینکڑوں لوگوں میں سے کوئی بھی ایک شخص ایسا نہ تھا کہ جس کو ہم پروفیسر شوکت مغل کا متبادل جان کر اُس سے افسوس کرتے! اس خطے میں اپنے تحقیقی اور تنقیدی کام کے حوالے سے ایک ہی نام پروفیسر شوکت مغل کا تھا جس نے کئی اداروں کا اکیلے بیٹھ کر کیا۔

اپنے رسالے ” اوراق“ کے ذریعے قریباً چالیس سال تک متعدد نئے لکھنے والوں کو اعتماد اور قوت اظہار عطا کیا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی میں ہی ان کے ادبی کام پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات لکھے جا چکے تھے۔ صدر پاکستان نے انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا۔