سب سے پرانا لفظ(815 ق م) عراق میں آشوری بادشاہ شلمنصر سوم کے کتبے میں ایک عربی سردار کا نام (جندب العرب) آیا ہے، جو عربی کا پہلا مکمل نام ہے اور لفظ عرب بھی پہلی بار کہیں تحریر شدہ ملا ہے اگرچہ یہ عربی رسم الخط میں نہیں ۔
Browsing: ادب
عرض کیا حضور کچھ خدا کا خوف کریں۔ یہ تو مرزا غالب کا مشہور شعر ہے۔کہنے لگےدیکھو یار شعر میرا ہی ہے۔البتہ کچھ عرصے سے دیوان غالب میں رہ رہا تھا ۔
وہ 8 زبانیں مکمل مہارت سے جانتے تھے، 8 زبانیں روانی سے اور 12 زبانوں میں مناسب دسترس رکھتے تھے
انگریزی فادر، فارسی پدر، سنسکرت پتر ہندی میں پتا، لاطینی پیدرے (پادری اسی سے نکلا ہے) فارسی مادر ، انگریزی مدر لاطینی ماترے ، سنسکرت ماتر جو ہندی میں ماتا اور اردو میں ماں ہو گیا ۔
یہ کتاب یاد دلاتی ہے کہ زندگی کی معنویت محض ذاتی کامیابیوں، آسائشوں اور مرتبے میں نہیں، بلکہ اس شعور میں پوشیدہ ہے جو انسان کو اپنی ذات سے آگے بڑھ کر دوسروں کے لیے سوچنے، اجتماعی مسائل کو سمجھنے اور اپنے وسائل کو بامقصد بنانے کی طرف مائل کرتا ہے۔
اگر ہم گریئرسن کی کلاسیکی تقسیم کو سامنے رکھیں تو پنجابی کی بولیاں معیاری پنجابی ماجھی، مالوی، دوآبی ہیں
جبکہ شاہ پوری، جھنگوچی، پوٹھوہاری، ہندکو لہندا یا موجودہ سرائیکی کی بولیاں ہیں ۔
گریئرس صاحب کا Linguistic Survey of India کل 11 جلدوں اور 19 حصوں پر مشتمل ہے، 9500 سے زیادہ صفحات ہیں ۔ اس کا خلاصہ درج…
جارج گریئرسن نوآبادیاتی افسر ضرور تھے، لیکن انہوں نے بندوق کی جگہ قلم سے برصغیر کی خدمت کی – انہوں نے ان زبانوں کو لکھ کر محفوظ کیا جنہیں اس وقت کوئی لکھنے والا بھی نہ تھا۔
صحرا میں رہنے والے کو برف کے لیے 1 لفظ چاہیے، برفانی علاقے والے کو 20 لفظ۔ جنگل والے کے پاس درختوں کے 100 نام، ریگستان والے کے پاس اونٹ کی نسلوں کے 50 نام۔ ہر ماحول نے زبان کو نئے الفاظ پر مجبور کیا۔
تحریر بولی جانے والی زبان کے مقابلے میں بہت بعد میں وجود میں آئی، تقریباً پانچ ہزار سال پہلے میسوپوٹیمیا اور مصر میں اس کے واضح شواہد ملتے ہیں۔ لکھنے سے انسان کو حساب، قانون، کہانی اور عقیدہ محفوظ کرنے میں مدد ملی
