ڈاکٹر صاحبزادہ جواد الفیضی کی یہ کاوش بلاشبہ ایک ایسا ادبی شاہکار ثابت ہو گی جو قارئین کے ذوق مطالعہ کی تسکین کے ساتھ ساتھ مستقبل کے مسافروں اور قلم کاروں کے لیے بھی تخلیقی رہنمائی کا ایک مستقل سرچشمہ بنی رہے گی۔
Browsing: ادب
ان کا کہنا تھا کہ انگریزی لفظ cot کا ماخذ سرائیکی لفظ” کھٹ“ ہے اور دونوں کا مطلب چار پائی ہے۔ اس طرح سرائیکی میں ایک لفظ ” ونج“ استعمال کیا جا تا ہے جو انگریزی میں went بن جا تا ہے ۔ معنی ان دونوں کے بھی ایک ہی ہیں۔
ایک بچہ سڑک پر رو رہا تھا۔ وہ جلوس میں شامل ہونا چاہتا تھا لیکن اس کی خوف زدہ ماں اسے روک رہی تھی۔ وہ ٹانگیں چلاتا اور روتا رہا۔ وہ ماں کے ہاتھ پر کاٹ کر اس سے جدا ہونے میں کامیاب ہوا اور جلوس میں شامل ہوتے ہی خاموش اور پرسکون ہوگیا۔ اس نے اپنے آنسو تک نہیں پونچھے کہ جلوس کا نظم خراب نہ ہوجائے۔
جب اُن کا اپنا انتقال ہوا تو سینکڑوں لوگوں میں سے کوئی بھی ایک شخص ایسا نہ تھا کہ جس کو ہم پروفیسر شوکت مغل کا متبادل جان کر اُس سے افسوس کرتے! اس خطے میں اپنے تحقیقی اور تنقیدی کام کے حوالے سے ایک ہی نام پروفیسر شوکت مغل کا تھا جس نے کئی اداروں کا اکیلے بیٹھ کر کیا۔
اپنے رسالے ” اوراق“ کے ذریعے قریباً چالیس سال تک متعدد نئے لکھنے والوں کو اعتماد اور قوت اظہار عطا کیا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی میں ہی ان کے ادبی کام پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات لکھے جا چکے تھے۔ صدر پاکستان نے انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا۔
بی اے جمال روزنامہ خبریں کے سابق سینئر کارکن ندیم جمال اور نعیم جمال کے والد تھے ۔ ان کا گھر سمیجہ آباد بالمقابل ڈیرہ اللہ ہو واقع ہے نمازہ جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا رابطہ نمبر03462862633
یہ کتاب آپ گردوپیش پبلی کیشن ملتان رضی الدین رضی صاحب سے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کر کے منگوا سکتے ہیں۔
03186780423
یہ تصنیف اس حقیقت کو بھی واضح کرتی ہے کہ روسی ناول صرف کہانی یا ادب نہیں بلکہ ایک فکری بیداری ہے، جو انسان کو اپنے معاشرے، اپنے ضمیر اور اپنے عہد سے مکالمے پر مجبور کرتی ہے۔ انسانی نفسیات، اخلاقی کشمکش اور سماجی ناانصافیوں کی گہری عکاسی اس کتاب کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہے۔
کتاب حجم میں مختصر ہے، مگر محسوس ہوتا ہے کہ ہر جملہ سوچ سمجھ کر لکھا گیا ہے۔ ضخیم کتابوں میں بعض اوقات غیر ضروری تفصیلات قاری کی دلچسپی کم کر دیتی ہیں، جبکہ اس کتاب میں ہر صفحہ اور ہر سطر اپنی اہمیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے یہ کتاب نہ صرف دل چسپ بلکہ دوبارہ پڑھے جانے کے قابل بھی محسوس ہوئی۔
اسے عصرِ حاضر کے سماجی اور فکری ادب میں ایک قابلِ توجہ اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ کتاب آپ رضی الدین رضی صاحب کے ادارے گردوپیش پبلی کیشنز ملتان سے منگوا سکتے ہیں۔
رابطہ نمبر
03186780423
