18 پروازوں نے ملتان ایئرپورٹ پر لینڈ کیا جبکہ 19 پروازیں روانہ ہوئیں۔کراچی سے 135، پشاور 10، فیصل آباد 12، لاہور 105، سیالکوٹ 15، اسلام آباد 118، پشاور سے 17 پروازیں آپریٹ ہوئیں۔
Browsing: علاقائی رنگ
بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں موبائل فون سروس بند ہونے کا سلسلہ اتوار کو ڈیڑھ بجے کے بعد شروع ہوا۔ اس کے ساتھ ہی بلوچستان کے دیگر علاقوں سے بھی موبائل فون سروس بند ہونے کی اطلاعات موصول ہونا شروع ہوگئیں۔
بچی کے والد کے مطابق ملزم ان کا رشتہ دار ہے جو بچی کو چیز دلانے لے کر گیا تھا ۔ بیس منٹ بعد جب واپس آیا تو بچی کی حالت غیر تھی ۔ اہلخانہ نے پولیس حکام سے انصاف کی اپیل کی ہے۔
ترجمان ریسکیو 1122 بلال فیضی کے مطابق نو افراد کی لاشیں سینٹرل ہسپتال سیدو شریف جبکہ کبل ہسپتال نے پانچ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے مطابق دھماکہ خودکش تھا۔ اُن کے بقول بہادر پولیس جوانوں نے جان دے کر خودکش بمبار کو تھانے کے اندر جانے سے روکا۔
مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق مظفرآباد لوئر پلیٹ میں حالات کشیدہ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’لوئر پلیٹ، چہلہ بانڈی اور اپر اڈہ میں کئی لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ دکانیں بند، سیاسی جماعتوں کے پوسٹرز اتار کر آگ لگائی گئی۔ مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔‘
الپائن کلب کے مطابق نرمل پُرجا، جو ’نمز ڈائی‘ کے نام سے بھی معروف ہیں، نیپالی نژاد برطانوی شہری ہیں۔ انہوں نے 2019 میں دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں کو صرف 189 دنوں میں سر کر کے ریکارڈ قائم کیا تھا۔ بعد ازاں 2023 میں ناروے کی ایک خاتون کوہ پیما اور ان کے نیپالی شیرپا گائیڈ نے یہ ریکارڈ توڑ دیا۔
سورینج اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں ماضی میں بھی کوئلہ کانوں میں حادثات پیش آتے رہے ہیں۔
دیگر جدید صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے کوئلے کی کانکنی بلوچستان کی بڑی صنعت ہے۔ کوئلے کی کانیں زیادہ تر کوئٹہ، کچھی، ہرنائی اور دکی کے اضلاع میں موجود ہیں
خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے جاری بیان مطابق بدھ کے روز ہونے والے حملے اور اس کے جواب میں کیے جانے والے آپریشن میں ڈی ایس پی دیار خان سمیت نو پولیس اہلکار ہلاک جبکہ ڈی ایس پی مجاہد حسین سمیت 28 اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موبائل سروس تو تاحال چل رہی لیکن انٹرنیٹ سروس میرپور کے علاوہ تمام جگہوں پر بند ہے۔
میرپور کے رہائشی فیضان کا کہنا ہے کہ ’صرف لینڈ لائن انٹرنیٹ کنیکشن کام کر رہا ہے۔ لیکن وہ بھی مستحکم نہیں جبکہ موبائل فون پر انٹرنیٹ نہیں چل رہا۔‘
یہ بی اے جمال کا ہی ہنر اورکمال تھا کہ اس سے جو ملا وہ ہیرو بن گیا اور اس نے خوب نام ، دولت اور عزت کمائی۔ بی اے جمال نئے شعرا اور لکھاریوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے تھے جس اخبار رسالے یا جریدہ میں ممکن ہوتا اس کو ضرور کوریج دلاتے۔ شعبہ صحافت ان کا اوڑھنا بچھونا تھا گوکہ ان کا زیادہ تعلق فن و ثقافت تھا مگر ان کی ساری زندگی اخبارات کے دفاتر میں گزری ۔
