بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں موبائل فون سروس بند ہونے کا سلسلہ اتوار کو ڈیڑھ بجے کے بعد شروع ہوا۔ اس کے ساتھ ہی بلوچستان کے دیگر علاقوں سے بھی موبائل فون سروس بند ہونے کی اطلاعات موصول ہونا شروع ہوگئیں۔
Browsing: بلوچستان
سورینج اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں ماضی میں بھی کوئلہ کانوں میں حادثات پیش آتے رہے ہیں۔
دیگر جدید صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے کوئلے کی کانکنی بلوچستان کی بڑی صنعت ہے۔ کوئلے کی کانیں زیادہ تر کوئٹہ، کچھی، ہرنائی اور دکی کے اضلاع میں موجود ہیں
خالد خان بلوچ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ کو بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر سزا سنائی گئی۔
ان کے مطابق سیشن کورٹ گوادر نے اسی مقدمے میں استغاثہ کی پیش کردہ شہادتوں کو مسترد کرتے ہوئے ایک ملزم کو بری کر دیا تھا، جبکہ انھی شہادتوں کی بنیاد پر بی وائی سی کے رہنماؤں کو سزا سنائی گئی۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے شفیق الرحمان مینگل کا کہنا تھا کہ ’بیرونی ممالک کی ایما پر کام کرنے والے کرائے کے قاتلوں نے میرے گھر کے دروازے پر بارود سے بھری ایک گاڑی ٹکرا دی۔‘
مانگی بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ سے شمال مشرق کی جانب تقریباً 85 کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع زیارت اور ضلع ہرنائی کے سرحدی علاقے میں واقع ہے۔
حکومتِ بلوچستان یہاں اربوں روپے کی لاگت سے مانگی ڈیم تعمیر کر رہی ہے، جس کا مقصد کوئٹہ کو درپیش پانی کی قلت پر قابو پانا ہے۔
مانگی کے علاقے میں ماضی میں بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔
حادثے کے بعد شیرانی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ زخمیوں کو فوری اور بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
آصف خان کے بھائی ظریف خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کا بھائی گذشتہ ایک، ڈیڑھ ماہ سے بہت زیادہ پریشان تھا۔
متعلقہ تھانے کے ڈیوٹی افسر محمد ارشد نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے کی تفتیش سیریس کرائمز انویسٹیگیشن ونگ کے حوالے کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آ رہی کہ محمد آصف کو مبینہ طور پر بعض لوگوں کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا تھا،
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک گاڑی ٹرین کی ایک بوگی سے ٹکرائی، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکہ ہوا۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابریوسفزئی نے بازیابی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چاروں افراد ضلع مستونگ کے علاقے کردگاپ سے بازیاب ہو گئے ہیں تاہم انھوں نے اس حوالے سے زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
سینیئر سرکاری اہلکار کے مطابق مغوی آفیسر اور اہلکار کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ تاحال سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
بلوچستان میں گذشتہ چند دنوں سے قومی شاہراہوں پر معدنیات لے جانے والے گاڑیوں پر حملوں اور اغوا کے واقعات میں اضافہ سامنے آیا ہے۔ گذشتہ شب ضلع زیارت میں مانگی کے علاقے سے پولیس کے ایک ایس ایچ او سمیت تین افراد کو اغوا کرلیا گیا۔
