Browsing: تجزیے

لکیر حب الوطنی اور غداری کے کے بیچ واضح کی جارہی ہے۔ لیکن اسے نمایاں کرنے کی وجوہات کا تعین کرنے کا اختیار ’ریاست‘ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ بدنصیبی سے ہر گزرنے والے دن کے ساتھ لوگوں کی بڑی تعداد اس نادیدہ ریاست کے ساتھ اپنے تعلق و شناخت کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہورہی ہے۔ اور یہاں آباد 25 کروڑ لوگ اس دوران اس مشکل میں ہیں کہ کس آئینے میں اپنا عکس تلاش کریں۔ وہ جو آئین کی کتابوں تک محدود ’ریاست‘ دکھاتی ہے یا وہ جو ہزاروں سال کا تہذیبی ورثہ انہیں فراہم کرتا ہے۔
( تجزیئے کا لنک پہلے کمینٹ میں دیئے گئے )

تحریک انصاف کے بانی رہنما کے ساتھ ملاقاتوں پر پابندی کی وجہ سے خاص طور سے جھوٹ پھیلانے والے ،بے بنیاد خبریں عام کرکے ملک میں مزید مایوسی و پریشانی پیدا کررہے ہیں۔ حکومتی اہلکاروں کی باتوں سے لگتا ہے کہ وہ اس صورت حال کا مزہ لے رہے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ تحریک انصاف کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور اس کی قیادت ایک دوسرے سے الجھنے میں زیادہ مصروف ہے۔

پاکستان اگر بھارت کے ساتھ کسی تنازعہ میں ملوث ہوتا ہے تو معاہدے کے تحت دیگر ملکوں کو اس جنگ میں شامل ہونے پر مجبور نہیں کرسکتا بلکہ ترکیہ اور سعودی عرب خود مختارانہ طور پر یہ طے کرنے کے مجاز ہوں گے کہ کیا واقعی پاکستان پر حملہ ہؤا ہے اور کیا انہیں بھی اس جنگ میں ملوث ہونا چاہئے۔

پاکستان کے سیاسی نظام میں اپر مڈل کلاس تک کے آدمی کی رسائی صرف اور صرف ووٹر کی حد تک ہے اور اس کے ووٹ کے ساتھ کیا ہوتا ہے ووٹ دیتے وقت بیچارے کو خود یقین ہی نہیں ہوتا کہ جو جس جماعت کو ووٹ دے رہا ہے اس کے ووٹوں کی تعداد کی وجہ سے اگر وہ جیت پاتی بھی ہے یا نہیں یا اس سے جیتنے دیا جاتا بھی ہے یا نہیں کیونکہ پاکستان کے سیاسی نظام میں ایک مذاق کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں اہم ووٹ دینے والا نہیں بلکہ ووٹ گننے والا ہے

جنگ بند ہونے اور حالات معمول پر آنے کی صورت میں پاسداران کے جنرلز شاید من مانی کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہیں گے۔ خاص طور سے اگر انہیں ’قوت‘ فراہم کرنے والا رہبر اعلیٰ بھی کوئی فیصلہ کرنے یا عوام کو شکل دکھانے کے قابل نہیں ہے تو پاسداران انقلاب کی ’مجبوری‘ قابل فہم بھی ہوجاتی ہے۔

بعض تجزیہ نگار یہ بھی قیاس کررہے ہیں کہ جلد ہی قطر اور مصر بھی اس معاہدے میں شامل ہوجائیں گے۔ اور جب ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ جنگ کی دھول بیٹھ جائے گی تو ایران بھی ایسے معاہدے میں شامل ہوکر علاقائی سلامتی میں کردار ادا کرنا چاہے گا۔

’’صوبوں کی حدود‘‘ طے کرنے کے لئے متعلقہ صوبے کی اسمبلی سے بھی دو تہائی اکثریت کی منظوری درکار ہے۔ سندھ کو تقسیم کرنے کے لئے وہاں کی صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کی حمایت لازمی ہے اور اس کا حصول ناممکن نظر آرہا ہے۔ محض ’’نئے انتظامی یونٹوں‘‘ کے قیام کے لئے عوم سے بذریعہ ریفرنڈم حاصل کردہ ’’ہاں‘‘ اس تناظر میں کام نہیں آئے گی۔

یادش بخیر روزنامہ جنگ کے ایڈیٹر سہیل وڑائچ نے جب موجودہ حکومت کے دن گنے جانے کی پیش گوئی پر مشتمل کالموں کی سیریز لکھی تھی تو اس وقت سہیل وڑائچ سے ذاتی دوستی کے باوجود محسن نقوی نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ اب ’ناکارہ‘ ہوچکے ہیں، اس لیے انہیں ریٹائر ہوجانا چاہئے۔ اس وقت یہ تاثر سامنے آیا تھا کہ محسن نقوی شاید مستقبل کا وزیر اعظم بننے کی خواہش میں موجودہ نظام کی ’حفاظت‘ کے لئے سینہ سپر ہورہے ہیں۔ البتہ اب انہوں نے خود اس نظام کے ’ڈھیر‘ ہونے کی خبر دی ہے۔

احتجاج کے لیے لوگوں کا گھروں سے نکلنا بے چینی، محرومی اور غم و غصہ کا اظہار ضرور ہے۔ کسی حکومت کو اس پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ دوسرا یہ کہ حکومت عوام کی کثیر تعداد کو طویل عرصہ تک بے یار مددگار کسی علاقے میں محصور رہنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔ اختلاف اتفاق سے قطع نظر یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی حفاظت کرے اور انہیں مناسب دیکھ بھال، خوراک اور سہولتوں تک رسائی دی جائے۔