Browsing: تجزیے

وائٹ ہاؤس اب بھی ٹرمپ کے پاس ہے، لیکن کانگریس میں انہیں اپنی بڑی ترجیحات کے لیے پہلے سے زیادہ سوالات، مزاحمت اور مذاکرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں امریکی جمہوریت، اداروں کی خودمختاری اور سیاسی برداشت کا امتحان شروع ہوتا ہے۔

منتخب لیڈر ’ہائبرڈ‘ نظام کی آڑ میں عوام کے تفویض کردہ اعتماد پر پورا نہیں اتریں گے اور تمام اختیارات عسکری قیادت کے حوالے کرکے ملک میں گھٹن اور خوف کا ماحول پیدا کریں گے تو اس سے سیاسی عمل اور آئینی انتظام پر عوام کا بھروسہ ٹوٹے گا ۔

وہ ہر قیمت پر ایک بار پھر یہ عہدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں کرپشن کے سنگین الزامات کا سامنا ہے اور امکان ہے کہ اگر وہ وزیر اعظم نہ بنے تو انہیں جیل جانا پڑے گا۔ البتہ اقتدار میں رہنے کی بدولت انہیں عدالتی کارروائی سے استثنی ٰ حاصل ہوجاتا ہے۔

ایک استاد نے کینٹین سے معمولی چوری کرنے پر ایک طالب علم کو جوتے سے مارا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس واقعہ پر شدید غصہ کا اظہار کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ بچے کو جوتے سے اس استاد کو مارمار کر اس کا منہ لال کردینا چاہئے۔تجزیئے کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے ۔

معصوم یتیم بچے کی ہلاکت اور اس کے بعد ضلع کچہری میں وکلا کے ہاتھوں ملزم کی پٹائی اور بعد میں پولیس حراست میں اس کی پراسرار ہلاکت، ایک ہی تصویر کے مختلف رخ ہیں۔ یہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور متشدد رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔

مولانا چونکہ ہوشیار سیاسی کھلاڑی ہیں، اس لیے انہوں نے خاص طور سے خیبر پختون خوا میں اپنی سیاسی ناکامی کا حوالہ دینے کی بجائے قومی سطح پر انتخابی دھاندلی کے بیانیہ کا حصہ بننا بہتر سمجھا تاکہ ان کی باتوں کو جمہوریت اور آئینی انتظام کے ساتھ ان کی وفاداری سے تعبیر کرایا جائے۔

فیصل واوڈا نے سسٹم ری بوٹ کرنے، ملکی معاملات میں بوٹ یعنی فوج کی غیر مشروط سیاسی حمایت کرنے اور کارکردگی نہ دکھانے والوں کو گھر جانے کے جو پیغامات دئے ہیں، وہ ملکی فوج کی شہرت، وقار اور نیک نامی پر داغ لگانے کے مترادف ہیں۔

خیبر پختون خوا میں چونکہ پیپلز پارٹی کا گورنر ہے، اس لیے اسحاق ڈار کی نگرانی میں قائم ہونے والی غیر رسمی مگر ’سپر کمیٹی ‘درحقیقت پیپلز پارٹی کی سیاسی نگرانی کے لیے قائم کی گئی ہے۔ اس اقدام سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وزیر اعظم پارٹی سیاسی مفاد کی حفاظت کررہے ہیں یا قومی سلامتی اور جمہوریت کے لیے فکرمند ہیں۔