فیصل واوڈا نے سسٹم ری بوٹ کرنے، ملکی معاملات میں بوٹ یعنی فوج کی غیر مشروط سیاسی حمایت کرنے اور کارکردگی نہ دکھانے والوں کو گھر جانے کے جو پیغامات دئے ہیں، وہ ملکی فوج کی شہرت، وقار اور نیک نامی پر داغ لگانے کے مترادف ہیں۔
Browsing: تجزیے
خیبر پختون خوا میں چونکہ پیپلز پارٹی کا گورنر ہے، اس لیے اسحاق ڈار کی نگرانی میں قائم ہونے والی غیر رسمی مگر ’سپر کمیٹی ‘درحقیقت پیپلز پارٹی کی سیاسی نگرانی کے لیے قائم کی گئی ہے۔ اس اقدام سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وزیر اعظم پارٹی سیاسی مفاد کی حفاظت کررہے ہیں یا قومی سلامتی اور جمہوریت کے لیے فکرمند ہیں۔
پاکستان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ وقتی انتظامی سکون کو مستقل سیاسی استحکام کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ قوموں کی ترقی کا راستہ مضبوط اداروں، شفاف حکمرانی، آئینی بالادستی اور عوامی اعتماد سے ہو کر گزرتا ہے۔
اگر تحریک انصاف کی یہ بات مان بھی لی جائے کہ وفاقی حکومت ناجائز اور فارم 47 کی وجہ سے قائم ہوئی ہے تو بھی اس حکومت کی مخالفت میں کسی پارٹی یا سیاسی حکومت کو فوج کے خلاف محاذ آرائی کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہئے ۔
کسی صوبائی حکومت کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ حالت جنگ میں ایک ایسے ملک کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرے جس کے ساتھ پاکستان اس وقت برسر پیکار ہے۔ یا ایسے عناصر کو تحفظ دینے کے لیے مؤقف اختیار کرے جو مسلح افواج کے خلاف تشدد میں مصروف ہوں۔ بدقسمتی سے سہیل آفریدی خود اپنی حکومت کے خلاف وفاق کا مقدمہ مضبوط کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔
تحریک انصاف کی مشکل اس وقت زیادہ قابل رحم لگتی ہے۔ وہ احتجاج کرنا چاہتی ہے لیکن اس کا انتظام کرنے میں ناکام ہے۔ خیبر پختون خوا کے علاوہ کسی بھی صوبے سے پارٹی تنظیم کارکنوں کو باہر نکالنے یا جلوس کی صورت میں اسلام آباد لانے پر آمادہ نہیں کرسکی۔
البتہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ حکمت عملی، فلسطین اور غزہ کے علاوہ لبنان کے بارے میں اس کی پالیسی اور گریٹر اسرائیل قائم کرکے پورے خطے میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی اسرائیلی خواہش ، ایک اہم خلیجی مسلمان ملک سے اس کی قربت کے بارے میں عرب ممالک اور مسلم دنیا میں تشویش کا باعث بنے گی
ایران نے اگر نومبر میں امریکی مڈ ٹرم انتخابات تک کسی معاہدے پر اتفاق نہ کیا تو اس کے بعد صدر ٹرمپ نئے اور خطرناک حملوں کا سلسلہ شروع کرسکتے ہیں۔ ایران، خطے اور دنیا کے لیے جنگ کے اس نئے دور سے بچنا بے حد اہم ہے۔
عطااللہ تارڑ اور سہیل آفریدی کے بیانات یکساں طور سے واضح کرتے ہیں کہ اپوزیشن ہی نہیں حکومت بھی مسائل کی شدت سمجھنے یا انہیں حل کرنے کی طرف پیش قدمی کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔
’اعلان اسلام آباد‘ کے نام سے طے والے معاہدہ میں بھی امریکہ شکست خوردہ ہی دکھائی دیتا تھا ۔ البتہ ایران کے حقیقی حکمرانوں، پاسداران انقلاب نے اس کا احترام کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر ایک بار پھر جنگ کا آغاز کیا۔
