یہ بھی کہا جارہا ہے کہ صدر آصف زرداری نے اسی معاملہ پر اختلاف کی وجہ سے لندن جاکر ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ محسن نقوی نے البتہ اب یہ اعلان کیا ہے کہ صوبوں کے بارے میں جو فیصلہ بھی ہوگا ،وہ اتفاق رائے اور عوام کی مرضی سے ہی ہوگا۔ اس سلسلہ میں کوئی غیر آئینی فیصلہ ٹھونسا نہیں جاسکتا۔ جبکہ وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ کا اصرار ہے کہ ’ نئے صوبوں کے معاملہ پر کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے اور نہ ہی ایسا کوئی بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ہے‘۔
Browsing: تجزیے
سوشل میڈیا پر دکانیں چمکانیں والوں سے قطع نظر اب ملک کے ممتاز تجزیہ نگار، صحافی اور اندر کی خبر کھوج کر باہر نکال لانے والے…
کمیونسٹ انٹرنیشنل (کامنٹرن) کے زیرِ اہتمام مشرق کے اقوام کی کانگریس کا افتتاح یکم ستمبر ۱۹۲۰ء کی شب باکو، آذربائیجان میں ہوا۔ بنیادی طور پر براعظم…
پاکستانی وزیر اعظم کے دفتر نے سربراہی اجلاس کی جو ابتدائی تصویر شائع کی، اس میں بھارتی وزیر اعظم کی تصویر کاٹ دی گئی تھی۔ تاہم سوشل میڈیا پر اس پر تبصروں اور حرف زنی کے بعد میں مکمل تصویر جاری کی گئی۔ اس قسم کا طرز عمل سردمہری اور فاصلوں میں اضافہ کا سبب بنتا ہے حالانکہ بوجوہ پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے اور باہمی تعلقات میں حائل دیواریں گرانے کی ضرورت ہے۔
ناروے کے مرد و زن ، چھوٹے بڑے، مقامی یا تارکین وطن آج رنجیدہ و افسردہ ہیں۔ آج علی الصبح گزشتہ 35 برس سے ملک کا…
وزیر اعظم نے سیکرٹری صحت کو معطل تو کردیا ہے لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ ان کا کیا قصور تھا ؟ کیا وہ تنہا ہی اس سانحہ کے ذمہ دار تھے یا وزیر اعظم کو کوئی چہیتا وزیر بھی جواب دہ ہے؟
22 اگست 1978 کی گونج نکاراگوا کی سرحدوں سے کہیں آگے تک سنائی دیتی ہے۔ یہ سبق دیتی ہے کہ جب مظلوم اقوام کو تمام قانونی راستوں سے محروم کر دیا جائے، تو ان کے پاس ریاست کے جبر و تشدد کا مقابلہ شجاعانہ، نظم و ضبط سے آراستہ قوت سے کرنے کا پورا حق ہے، لیکن ہمیشہ عوام کے مفاد کو ہی اپنا قطب نما بنا کر۔
تحریک انصاف کی بجائے حکومت اور اس کے نمائندوں نے اس سوال پر سیاست کی اور ہر لحظہ بدلتے بیانات کے ذریعے پورا ہفتہ بے یقینی کی فضا قائم رکھی۔ اس کا نقصان بنیادی طور پر حکومت ہی کو برداشت کرنا پڑے گا لیکن کسی سرکاری سیاسی عہدے دار میں اس کا اعتراف کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔
2022 میں قائم ہو کر 2025 میں رسمی شکل اختیار کرنے والا ہائبرڈگورنس ماڈل ظاہراً مضبوط نظر آتا ہے لیکن اس کے باوجود طویل مدت میں پائیدار نہیں رہ سکے گا۔ ماضی کے طرز حکمرانی کی طرح موجودہ ہائبرڈ ماڈل کو بھی ایک انتہائی غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے۔ اگرچہ اس نے قلیل مدتی استحکام کی ایک حد حاصل کر لی ہے لیکن پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ ایسااستحکام ایک وقتی عنصر ہوتا ہے جومستقل اور پائیدار حکمرانی کے ڈھانچے کے طور پر قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ اس کی ساختی کمزوریاں اور تاریخی شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ پاکستان کے لیے ایک مستقل حل کے بجائے ایک عارضی انتظام ہے۔
بنگالیوں کو ہی پاکستان کا اصل بانی قراردیا جاتا ہے ۔ ایسا کہہ کر لوگ پاکستان کے حصول کی خاطر ہندوستان کے دوسرے خطوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی طرف سے دی جانے والی قربانیوں پر پانی پھیر دیتے ہیں،
