راولپنڈی : پاکستان فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعے کو ایک نیوز بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان میں اچھی حکمرانی کے بغیر حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔
راولپنڈی میں میڈیا بریفنگ کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی کے کل بیان سے متعلق سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وزیر داخلہ کا مؤقف ان کی ذاتی رائے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’گڈ گورننس کے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات ہیں جن پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی کے لیے مؤثر طرزِ حکمرانی انتہائی ضروری ہے، اور اگر مسائل حل نہیں ہو رہے تو اس کا مطلب ہے کہ گڈ گورننس کے حوالے سے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔‘
ان کے مطابق بہتر حکمرانی کے بغیر ملکی معاملات درست انداز میں نہیں چل سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان، آئین اور قانون سب کے لیے یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔
ان کے بقول، ہارڈ اسٹیٹ وہ ہوتی ہے جہاں تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق چلائے جائیں۔ ہارڈ اسٹیٹ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ریاستی امور فوج چلا رہی ہو۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب پر لازم ہے کہ ریاست کے ساتھ وفادار رہیں، کیونکہ ریاست ہوگی تو سیاست بھی ہوگی۔ ریاست ہم سب کی جان ہے اور پاکستان ہی ہماری پہلی اور آخری شناخت ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں اور انہیں نشانہ بنا رہی ہیں۔
ان کے مطابق: ’اسی وجہ سے فتنۃ الخوارج، فتنۃ الہندوستان اور ان کے انڈیا میں موجود ہینڈلرز اب سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’رواں سال اب تک 178 شہری شہید ہو چکے ہیں، جبکہ دہشت گردوں نے 24 مقامات پر پلوں اور سڑکوں کو نقصان پہنچایا اور 60 مقامات پر آگ لگائی۔‘
ان کے بقول، یہ ان عناصر کے ترقی مخالف ایجنڈے اور احساسِ محرومی کے بیانیے کی عکاسی کرتا ہے جسے وہ فروغ دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی بچیوں کو ذہنی طور پر متاثر اور گمراہ کرکے دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق، اس کا نہ تو ہمارے دین سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی ہماری ثقافت سے۔ لاپتہ افراد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کبھی ان کی تعداد 10 ہزار اور کبھی 20 ہزار بتائی جاتی ہے، جبکہ اس معاملے کے لیے ایک کمیشن قائم کیا گیا تھا جس میں درخواستیں بھی جمع کرائی گئیں۔
پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ’رواں سال سکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف 40 ہزار سے زیادہ انٹیلی جینس بیسڈ آپریشنز کیے جن میں 2084 دہشت گردوں کو مارا گیا۔‘
راولپنڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس عرصے کے دوران 819 سکیورٹی اہلکار اور 322 عام شہری جانوں سے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ’سب سے زیادہ آپریشنز بلوچستان میں کیے گئے جہاں انڈیا کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف 31 ہزار سے زیادہ کارروائیاں کی گئیں۔ خیبر پختونخوا میں سات ہزار سے زیادہ انٹیلی جینس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’رواں سال ملک بھر میں تین ہزار 145 دہشت گردی کے واقعات پیش آئے جن میں سب سے زیادہ واقعات خبیر پختونخوا میں 1971، بلوچستان میں 1148 اور باقی ملک میں 2091 دہشت گردی کے واقعات پیش آئے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ان واقعات اور بم دھماکوں میں زیادہ تر افغان شہری ملوث پائے گئے۔‘
ان کے مطابق ’’بلوچستان میں یہ جان بوجھ کر یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہاں حالات انتہائی خراب ہیں اور صوبہ ہاتھ سے نکل رہا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’دہشت گردوں کے ساتھ کوئی بات نہیں ہو گی، یا تو وہ ہتھیار ڈالیں ورنہ ہم ان سے لڑیں گے۔‘
فیس بک کمینٹ

