یہ لانگ مارچ میرپور سے ہوتا ہوا گذشتہ دو روز سے راولاکوٹ کے مقام پر رکا ہوا تھا۔ سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مظاہرین کو مظفر آباد کی طرف پیش قدمی سے روک دیا تھا اور جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب عوامی ایکشن کمیٹی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ وہ ابھی راولاکوٹ میں ہی رکیں گے۔
Browsing: اہم خبریں
جب ہیلی کاپٹر گرنے کا واقعہ رونما ہوا تو اس کے بعد پولیس کنٹرول پر ایس ایس پی کی طرف سے وائر لیس پر یہ پیغام چلایا گیا کہ علاقے میں کسی کو بھی اس واقعے کی ویڈیو نہ بنانے دی جائے اور اگر لوگ اپنے گھروں کی چھتوں پر سے اس کی ویڈیو بنا رہے ہیں تو ان کو روکنے کے لیے جو ممکن ہو سکے اقدامات کریں۔
مقامی پولیس کے اہلکار کے مطابق پولیس اہلکار چند گھروں کی چھتوں پر بھی گئے جہاں پر کچھ نوجوان جلے ہوئے ہیلی کاپٹرز اور امدادی کاموں کی ویڈیوز بنا رہے تھے۔
ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا، بدقسمت خاندان ملتان سے مری کی جانب جا رہا تھا، وین میں زیادہ تعداد بچوں کی تھی، جن کی تعداد 10 تھی، وین اس جانب گری جہاں سے دروازے کھولنا ممکن نہ تھا۔
ٹرمپ نے مزید کہا، ’یہ اس کا ردعمل ہے جو انھوں نے گزشتہ رات ہمارے ہیلی کاپٹر کے ساتھ کیا، اور میں سمجھتا ہوں کہ ردعمل بہت مضبوط ہونا چاہیے، اور موجودہ ردعمل اسی کی نمائندگی کرتا ہے۔‘
تاجروں کے ایک دھڑے کے صدر حاجی عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ کے حالات ماضی کے مقابلے میں مختلف ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب کوئی زبردستی دکان بند نہیں کروا سکتا۔
انھوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے انھیں یقین دہانی کروائی ہے کہ کوئی زبردستی ان کی دکانیں بند نہیں کروا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ ہڑتال سے روزانہ ایک ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے اور اس ہڑتال کی وجہ سے ہزاروں افراد جو مختلف ہوٹلوں میں یومیہ اجرت کی بنیاد پر کام کرتے ہیں، گھروں میں بیٹھ گئے ہیں۔
مظفر آباد میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جبکہ انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔
مظفر آباد اور دیگر شہروں میں پیرا ملٹری فورس اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
سنیچر کو کریک ڈاؤن کے دوران راولا کوٹ میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ مبینہ جھڑپ کے دوران عوامی ایکشن کمیٹی کے رُکن کی ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے تھے۔
جی این این چینل میں کام کرنے والے ایک سینیئر عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ آبپارہ پولیس اس واقعے کو دیکھ رہی ہے اور مانسہرہ کے ایک گاؤں میں مقیم یاسر ایاز کے گھر والوں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ہوم ڈپارٹمنٹ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ ڈھائی سو سے زیادہ ایسے افراد کی فہرست تیار کر لی گئی ہے جن کے بارے میں کہ بتایا جاتا ہے کہ وہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سرکردہ رہنما ہیں۔
دریں اثنا کشمیر کے مختلف شہروں سے لوگوں نے انٹرنیٹ سروس کی سست روی اور تعطل کی شکایات کی ہیں۔ کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ مجموعی سکیورٹی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ادارے الرٹ ہیں۔
این ڈی ایم اے نے دو تا چھ جون پہاڑی علاقوں میں ممکنہ لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری کر دیا۔
ادارے کے مطابق دو تا پانچ جون خیبر پختونخوامیں جاری بارشوں اور پگھلتے گلیشئیرز کے باعث لینڈ سلائیڈ کے خطرات میں اضافہ ہو گا جس کے سبب چترال، دیر، سوات، شانگلہ، کوہستان، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور ہری پورکے علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا شدید خطرہ ہے۔
