رانچی : جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی قومی صدر نیہا بورا پر ایک شخص نے سیاہی پھینک دی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ جھارکھنڈ اسمبلی کی جانب نکالے گئے احتجاجی مارچ میں شریک تھیں، جہاں طلبہ JPSC اور JSSC کے بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
واقعے کے فوراً بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سیاہی پھینکنے کے الزام میں ایک شخص کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے نیہا بورا کو "قوم مخالف” قرار دیا، تاہم اس معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
نیہا بورا نے الزام لگایا کہ انہیں ڈرانے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن وہ اس سے خوفزدہ نہیں ہوں گی اور طلبہ کی تحریک جاری رہے گی۔ دوسری جانب AISA اور سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ واقعہ سیاسی مخالفت کا نتیجہ ہے، جبکہ اس الزام کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
بدھ, ستمبر 23, 2026
تازہ خبریں:
- جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ
- امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم

