رانچی : جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی قومی صدر نیہا بورا پر ایک شخص نے سیاہی پھینک دی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ جھارکھنڈ اسمبلی کی جانب نکالے گئے احتجاجی مارچ میں شریک تھیں، جہاں طلبہ JPSC اور JSSC کے بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
واقعے کے فوراً بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سیاہی پھینکنے کے الزام میں ایک شخص کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے نیہا بورا کو "قوم مخالف” قرار دیا، تاہم اس معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
نیہا بورا نے الزام لگایا کہ انہیں ڈرانے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن وہ اس سے خوفزدہ نہیں ہوں گی اور طلبہ کی تحریک جاری رہے گی۔ دوسری جانب AISA اور سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ واقعہ سیاسی مخالفت کا نتیجہ ہے، جبکہ اس الزام کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
اتوار, اگست 9, 2026
تازہ خبریں:
- بھارت میں طالب علم رہنما نیہا بورا کے چہرے پر سیاہی پھینک دی گئی
- سیدان بادشاہ گر کی مدح میں ۔۔۔ علمدار حسین بخاری کا کالم ( پہلا حصہ )
- آزادی کے سفر سے معاشی انحصار تک :شہزاد عمران خان کا کالم
- سہ ملکی دفاعی معاہدہ کیا تبدیل کرسکتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ایک نامعلوم حکمران کی فرضی تقریر ۔۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- عمران خان کی قید : حالات بہتر نہیں ہوں گے ۔سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کراچی میں سوا سال کی بچی زیادتی کے نتیجے میں دم توڑ گئی
- آزاد کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد ’دو ہندسوں‘ میں، ایکشن کمیٹی کو ’انڈیا کی حمایت‘ حاصل ہے: رانا ثنا اللہ
- ہوئی نجات سفر میں فریب صحرا سے : وجاہت مسعود کا کالم
- کیا ریفرنڈم نئے صوبوں کی راہ ہموار کر دے گا : نصرت جاوید کا کالم

