18 پروازوں نے ملتان ایئرپورٹ پر لینڈ کیا جبکہ 19 پروازیں روانہ ہوئیں۔کراچی سے 135، پشاور 10، فیصل آباد 12، لاہور 105، سیالکوٹ 15، اسلام آباد 118، پشاور سے 17 پروازیں آپریٹ ہوئیں۔
Browsing: ملتان
یہ بی اے جمال کا ہی ہنر اورکمال تھا کہ اس سے جو ملا وہ ہیرو بن گیا اور اس نے خوب نام ، دولت اور عزت کمائی۔ بی اے جمال نئے شعرا اور لکھاریوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے تھے جس اخبار رسالے یا جریدہ میں ممکن ہوتا اس کو ضرور کوریج دلاتے۔ شعبہ صحافت ان کا اوڑھنا بچھونا تھا گوکہ ان کا زیادہ تعلق فن و ثقافت تھا مگر ان کی ساری زندگی اخبارات کے دفاتر میں گزری ۔
بھرپور سیاسی زندگی گزارنے کے بعد رانا تاج احمد نون 9 ستمبر 2017ء کی صبح ملتان میں انتقال کر گئے۔ ان کو آبائی گاؤں میں جب سپردِ خاک کیا گیا تو ہزاروں لوگ ان کی معنوی اولاد بن کر نم آنکھوں سے انہیں رخصت کر رہے تھے کہ شجاع آباد کی سیاست کا تاج اب منوں مٹی کے تلے جا سویا ۔ رانا تاج احمد نون کی شخصیت کی سب سے اہم خوبی یہ تھی کہ وہ کرپشن کیے بغیر دنیا سے چلے گئے۔ ایسے بے داغ اور اُجلے سیاست دان اب ہمارے بچوں کے نصیب میں کہاں ہیں؟
جب اُن کا اپنا انتقال ہوا تو سینکڑوں لوگوں میں سے کوئی بھی ایک شخص ایسا نہ تھا کہ جس کو ہم پروفیسر شوکت مغل کا متبادل جان کر اُس سے افسوس کرتے! اس خطے میں اپنے تحقیقی اور تنقیدی کام کے حوالے سے ایک ہی نام پروفیسر شوکت مغل کا تھا جس نے کئی اداروں کا اکیلے بیٹھ کر کیا۔
دربار کے پہلو میں ایک بار پھر عظیم الشان مدرسہ اور جدید لائبریری قائم کی جائے تاکہ آنے والی نسلیں اپنے اسلاف کے علمی ورثے سے مستفید ہو سکیں۔ یہ صرف ایک عمارت کی تعمیر نہیں ہوگی بلکہ یہ ایک تحریک ہوگی جو وسیب کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی کی طرف لے جائے گی۔
نشتر ہسپتال ملتان کے پرنسپل میڈ یکل آفیسر ڈاکٹر عبد القادر خان کو مستقل ایم ایس تعینات ہونے تک اگلے تین ماہ کیلئے ایم ایس نشتر ہسپتال ملتان کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے۔ڈاکٹر امجد گزشتہ دو برس سے اس عہدے پر فائز تھے ۔
ان کی عمر 73 برس تھی اور وہ طویل عرصہ سے سرطان کا شکار تھے۔ راؤ شمیم اصغر پی ایف یو جے دستور گروپ کے اہم عہدوں پر بھی فائز رہے ۔۔
ارشد حسین ارشد کے صاحبزادے عادل ذیشان قریشی نے کہا کہ انہوں نے بہت مشکل وقت گزارا،انتھک محنت کی لیکن ہماری ہر ضرورت کو پورا کیا ،ہمیں اس قابل بنایا کہ آج ہم معاشرے میں بہتر زندگی گزاررہے ہیں۔ سلیم قیصر نے کہا وہ گروہ بندی پر یقین نہیں رکھتے تھے لیکن جوبات ناگوار گزرتی تھی اس کا بر ملا اظہار بھی کردیتے تھے،انہوں نے کہاان کی خدمات کے حوالے سےایک کتاب کی اشاعت ہم سب پر قرض ہے ۔مکمل خبر پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں
اس دوران بہت سی قیاص آرائیوں نے جنم لیا سید یوسف رضا گیلانی پر ایک بڑا دباؤ یہ تھا کہ اس اغواء کا مقدمہ سیاسی مخالفین کے خلاف درج کرایا جائے مگر انہوں نے صبر و تحمل سے کام لیا اور نا معلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا جس کے بعد سے سید علی حیدر گیلانی کی بازیابی کی بھر پور مہم چلانے کے ساتھ دعاؤں کا سلسلہ بھی جاری رکھا ۔
اسپتال ذرائع کے مطابق خاتون اور بچوں کا رات گئے پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا جس کے مطابق تینوں بچوں کی موت گلا دبانے سے ہوئی، بچوں کو قتل کے بعد لاشیں لٹکائی گئیں۔
اسپتال ذرائع کا بتانا ہے کہ مزید تحقیقات کے لیے نمونے فرانزک لیب روانہ کردیے گئے ہیں۔
