نظریاتی سیاست میں کوئی فرد اہم نہیں ہوتا، طے شدہ عقیدے کے مفروضہ مقاصد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اپنے نظریات سے مخلص فرد یا گروہ غیر ارادی طور پر ایسی قوتوں میں گھر جاتا ہے جو اس کی ذاتی صلاحیت اور اثر و رسوخ سے بہت زیادہ طاقتور ہوتی ہیں۔
Browsing: کالم
اگر مستقبل میں خواتین اور غیر مسلم نمائندے براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہوں تو ان کی سیاسی حیثیت اور عوامی جواب دہی مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے آئینی ترمیم ناگزیر ہوگی۔
اس بار عجیب رسم یہ چلی ہے کہ ری سیٹ منصوبے کی خاطر منجی تھلے ڈانگ پھیری جارہی ہےاور اس میں اگر اپنوں کی بھی ’’ منجی ٹھک‘‘ رہی ہے تو کسی کو کوئی پروا نہیں۔ اہل حکم، دباؤ اور احساسات سے بے نیاز ہوجاتے ہیں اپنا یا پرایااوراتحادی یا مخالف،اہم نہیں ہوتے ایجنڈا اہم ہوتا ہے اس میں کسی کی ’’منجی چکی جائے‘‘ یا’’ منجی بسترا گول ہوجائے‘‘ انہیں اس سے نہ غرض ہوتی ہے اور نہ اسکی پروا ۔ اسی لئے تو وہ اہل حکم ہوتے ہیں اور باقی سب اہل ظلم۔
آپ ببانگ دہل فرماتے ہیں کہ سافٹ وئیر تو وہ اپ ڈیٹ کرے جس میں وائرس آ گیا ہو۔ہم تو بقلم خود چلتے پھرتے وائرس ہیں کہ جنہیں کسی اپ ڈیٹ کی ضرورت نہیں ۔آپ کے احوال لطیف پڑھنے کے بعد ایٹمی سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ چوہدری صاحب کی عقل پر زنگ نہیں لگا، بلکہ زنگ پر تھوڑی سی عقل لگ گئی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کون سا عقیدہ درست ہے اور کون سا غلط۔ شاید اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے اختلافِ عقیدہ کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ بہتر انسانوں کی طرح کیسے رہ سکتے ہیں۔
مریم نواز نے فرمایا ہے کہ اُنہیں اپنے پڑوسی ملک سے نہیں بلکہ اپنے پڑوسی صوبوں سے دہشت گردی کے خطرے کا سامنا ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی وزیرِاعلیٰ کا یہ بیان ہمارے اُن تمام صاحبانِ اختیار کے دعووں کی تردید کرتا ہے جن کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں موجود دہشت گردوں کے پیچھے بھارت ہے۔
ہم نے اپنے فون کو وہ تمام اجازتیں رضاکارانہ طور پر خود دے رکھی ہیں کہ جن کی مدد سے وہ ہمارا کچا چٹھا جانتا ہے۔ سونے پہ سہاگا یہ چیٹ بوٹ ہیں۔ ہم اُنہیں وہ باتیں بتا رہے ہیں جو بیوی، دوست، ڈاکٹر یا وکیل کو بھی نہیں بتاتے۔ کوئی اپنی بیماری کی علامات لکھ رہا ہے، کوئی گھریلو جھگڑے کی تفصیل اور کوئی محبوبہ کے نام پیغام۔ کئی صدیاں پہلے یہ کام کلیسا میں پادری کے سامنے ہوتا تھا، مگر وہاں پادری کم از کم آپ کے اعترافات لکھ کر محفوظ نہیں کرتا تھا اور نہ ہی اگلی صبح آپ کو گناہوں سے متعلقہ اشتہار بھیجتا تھا۔
ہ ماڈل کامیاب ہوتا ہے تو باقی پورے ملک کیلئے مثال بنے گا ۔ کم آبادی اور مضبوط انتظامیہ اور وہ بھی عین حکومتی ناک کے نیچے، اسلام آباد کی خود مختار حکومت کوٹھیک سے چلانا سب سے آسان ہو گا۔
پیپلز پارٹی کی حمایت سے خواتین کیلئے مخصوص نشستوں پر بٹھائی سیدہ عابدہ حسین نے جواں سال اور انقلابی خیالات کی حامل ہونے کی وجہ سے کسی عوامی مسئلے پر ایک تحریک التوا پیش کردی تھی۔ جاگیردارانہ تعلقات ہوتے ہوئے بھی کھر صاحب نے انہیں اپنے چیمبر میں بلواکر ایک سرزنشی لیکچر دیا۔ عابدہ بی بی اس کے بعد بتدریج اسمبلی کارروائی سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے بالآخر بھٹو مخالف قوتوں کے کیمپ کا حصہ بن گئیں۔
اس درد کو بیان کرنے کے لیے جو حوصلہ درکار ہے وہ حوصلہ دو روز سے ہم تو پیدا نہیں کرسکے ۔۔ اور یہ حوصلہ پیدا…
