Browsing: کالم

ہم نے اپنے فون کو وہ تمام اجازتیں رضاکارانہ طور پر خود دے رکھی ہیں کہ جن کی مدد سے وہ ہمارا کچا چٹھا جانتا ہے۔ سونے پہ سہاگا یہ چیٹ بوٹ ہیں۔ ہم اُنہیں وہ باتیں بتا رہے ہیں جو بیوی، دوست، ڈاکٹر یا وکیل کو بھی نہیں بتاتے۔ کوئی اپنی بیماری کی علامات لکھ رہا ہے، کوئی گھریلو جھگڑے کی تفصیل اور کوئی محبوبہ کے نام پیغام۔ کئی صدیاں پہلے یہ کام کلیسا میں پادری کے سامنے ہوتا تھا، مگر وہاں پادری کم از کم آپ کے اعترافات لکھ کر محفوظ نہیں کرتا تھا اور نہ ہی اگلی صبح آپ کو گناہوں سے متعلقہ اشتہار بھیجتا تھا۔

پیپلز پارٹی کی حمایت سے خواتین کیلئے مخصوص نشستوں پر بٹھائی سیدہ عابدہ حسین نے جواں سال اور انقلابی خیالات کی حامل ہونے کی وجہ سے کسی عوامی مسئلے پر ایک تحریک التوا￿ پیش کردی تھی۔ جاگیردارانہ تعلقات ہوتے ہوئے بھی کھر صاحب نے انہیں اپنے چیمبر میں بلواکر ایک سرزنشی لیکچر دیا۔ عابدہ بی بی اس کے بعد بتدریج اسمبلی کارروائی سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے بالآخر بھٹو مخالف قوتوں کے کیمپ کا حصہ بن گئیں۔

اس کی جھکی ہوئی کمر میں مجھے قرضوں کا بوجھ دکھائی دیا، اس کے کانپتے ہاتھوں میں معیشت کی بے بسی، اس کی دھندلائی ہوئی آنکھوں میں عوام کی امیدیں اور اس کی خاموشی میں کروڑوں لوگوں کی بے آواز چیخیں سنائی دینے لگیں۔

قانون موجود ہو مگر اس پر عمل درآمد نہ ہو تو قانون محض کتاب کے صفحات پر لکھے چند الفاظ بن کر رہ جاتا ہے۔ ون ویلنگ، خطرناک ڈرائیونگ، ریسنگ اور ٹریفک قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔ نوجوان ہو یا بااثر خاندان کا فرد، قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔

قائداعظم نے چودھری خلیق الزمان کو ہندوستان میں بچ رہنے والے ساڑھے تین کروڑ مسلمانوں کی رہنمائی سونپی تھی لیکن چودھری صاحب چپکے سے کراچی آئے اور ایک آنہ فی گز کے بھاﺅ پر وسیع و عریض اراضی خرید کر ہندوستان واپس چلے گئے۔

یہ کمرہ آپ کی بنائی ہوئی ترتیب کے ساتھ آج بھی آپ کی یادوں کے حوالے سے مہکتا ہے سامنے وہی وال کلاک ہے جو خراب ہو جاتا تو آپ اصرار کرتی تھیں اسے ٹھیک کراؤ یہ تمہاری خالہ نے اس گھر میں آنے پر تحفہ دیا تھا ۔۔ وہ کلاک اب نہیں چلتا ، خالہ کے جیون کی ساعتیں بھی باقی نہ رہیں تو کلاک کیا ٹھیک کرانا ۔ بس آپ کی محبت میں آویزاں رہے گا ۔

بیٹا، ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا۔ زندگی رکا نہیں کرتی۔ میرے جانے کے بعد اگر تم ہر روز صرف غم ہی کو سینے سے لگائے رکھو گے تو مجھے بھی سکون نہیں ملے گا۔ میری خوشی اسی میں ہے کہ تم اپنے بچوں، اپنے گھر والوں اور اپنے دوستوں کے ساتھ محبت سے رہو، ہنستے رہو اور اللہ کا شکر ادا کرتے رہو۔

ان کا سیاسی جھکاؤ پاکستانی ڈاکٹروں کی اکثریت کی طرح پی ٹی آئی کی طرف تھا۔ وہ پاک فوج سے محبت کرتے تھے اور پاکستانی اداروں کو مضبوط دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ مضبوط ادارے، خصوصاً مضبوط فوج، پاکستان کی بقا اور سلامتی کی ضمانت ہیں۔