Browsing: کالم

اسلام آ باد کے ہر سیکٹر میں تقریباََ روزانہ کی بنیاد پر نیٹ میٹر کے گرد لپٹی تاریں کاٹی جارہی ہیں۔ میں شرمسار ہوں کہ برسوں سے اخبارات کا پلندہ نہایت توجہ سے ختم کرنے کے باوجود مجھے ’’جرم‘‘ کی اس قسم کا کبھی علم نہیں ہوا۔

اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ کتابیں بڑی بڑی اے آئی کمپنیاں خرید رہی ہیں۔ انہیں ہائی اسپیڈ سکینرز سے کاپی کر رہی ہے اور پھر ہائیڈرولک کٹرز سے کاٹ کے گودا بنا رہی ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے کہ یہ کمپنیاں کتابوں کو کاپی کرنے کے بعد ہارڈ کاپی محفوظ کرنے کے بجائے ضائع کر رہی ہیں۔

ہر صوبے میں تھانے ہوں گے۔ ایس ایچ او صاحبان ہوں گے اور وہ لوگ بےشمار ہوں گے۔ عدالتیں ہوں گی۔ ایک صوبائی بڑی عدالت ہوگی جس کا کوئی جج صوبائی عدالت کا چیف جسٹس ہوگا۔ وہ جج صاحب نئی صوبائی حکومت کی پسند کا ہوگا۔

پاکستان کے سیاسی نظام میں اپر مڈل کلاس تک کے آدمی کی رسائی صرف اور صرف ووٹر کی حد تک ہے اور اس کے ووٹ کے ساتھ کیا ہوتا ہے ووٹ دیتے وقت بیچارے کو خود یقین ہی نہیں ہوتا کہ جو جس جماعت کو ووٹ دے رہا ہے اس کے ووٹوں کی تعداد کی وجہ سے اگر وہ جیت پاتی بھی ہے یا نہیں یا اس سے جیتنے دیا جاتا بھی ہے یا نہیں کیونکہ پاکستان کے سیاسی نظام میں ایک مذاق کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں اہم ووٹ دینے والا نہیں بلکہ ووٹ گننے والا ہے

اگر کسی ایشر سنگھ گریوال نے سرگودھا آنا ہے تو سو دفعہ آئے، ہم اُس کا راستہ روکنے کے بجائے خود اُسے وہاں تک لے جائیں گے جہاں کبھی ملکہ دلفریب رہا کرتی تھی۔ وہ فلم میں وعدہ کرتا ہے کہ ”میں واپس آؤں گا“۔ ہم اِس وعدے کے دوسرے سرے پر بانہیں کھولے کھڑے ہیں اور ہمارے پاس کہنے کو بس ایک ہی جملہ ہے: جی آیاں نوں!

نوحہ گری پر آنسو بہاتے حاضرین کی وڈیو کلپ کو غور سے دیکھا تو ان کو کنکھیوں سے باہم اشارہ بازی کرتے دیکھ کر یوں لگا کہ وہ تو ڈھئی ہوئی عمارت کا ملبہ خریدنے والوں کا مجمع ہے (جن میں ہر فرد خود اپنی بولی کے عوض اپنی مرضی کا ملبہ خریدنے کو تیار ہے

آج آزادی کے ۷۹ برس بعد سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا ہم نے ان لاکھوں قربانیوں کے اصل مقصد کو حاصل کر لیا ہے، یا اب بھی ہمیں اپنی معاشی پالیسیوں، حکمرانی کے نظام اور قومی ترجیحات پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے

بلدیاتی حکومتوں کو آئینی روح کے مطابق سیاسی، انتظامی اور مالی اختیار دیا جائے گا۔ گلی کی نالی، پینے کا پانی، کچرا، ٹرانسپورٹ اور بنیادی صحت کا فیصلہ صوبائی یا وفاقی دارالحکومت میں نہیں بلکہ یونین کونسل میں ہو گا۔ جمہوریت صرف وزیراعظم اور وزیراعلیٰ منتخب کرنے کا نام نہیں، جمہوریت اس وقت شروع ہوتی ہے جب شہری اپنے محلے کا جواب دہ نمائندہ منتخب کر سکے۔