عرض کیا حضور کچھ خدا کا خوف کریں۔ یہ تو مرزا غالب کا مشہور شعر ہے۔کہنے لگےدیکھو یار شعر میرا ہی ہے۔البتہ کچھ عرصے سے دیوان غالب میں رہ رہا تھا ۔
Browsing: مزاح
آٹا چھ سو روپے کلو ہو گیا ہے اور سبزی والے نے ٹماٹر کو ہاتھ لگانے کی الگ سےفیس رکھ دی ہے۔ اسے دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے اسٹیٹ گیسٹ کا درجہ دے دیا گیا ہو .
لفظوں کا زخم تو مرہم سے بھر جاتا ہےمگر دوستو! گھر میں موجود بعض ‘خانگی آلاتِ حرب’ ایسے بھی ہیں کہ جن کا درد انسان کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپاہج رکھتا ہے۔ دنیا کی ہر جنگ کا انجام معاہدۂ امن پر ہوتا ہے۔لیکن بیگم سے جنگ کا واحد نتیجہ غیر مشروط سرنڈر نکلتا ہے ۔
آپ ببانگ دہل فرماتے ہیں کہ سافٹ وئیر تو وہ اپ ڈیٹ کرے جس میں وائرس آ گیا ہو۔ہم تو بقلم خود چلتے پھرتے وائرس ہیں کہ جنہیں کسی اپ ڈیٹ کی ضرورت نہیں ۔آپ کے احوال لطیف پڑھنے کے بعد ایٹمی سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ چوہدری صاحب کی عقل پر زنگ نہیں لگا، بلکہ زنگ پر تھوڑی سی عقل لگ گئی ہے۔
ملا بک بک ایک بار پھر سے ٹانگ اڑاتے ہوئے بولے۔اور بیچاری عوام اس خوش فہمی میں مبتلا رہتی ہے کہ اس نے جمہوریت کا پورا ٹکٹ خریدا ہے۔لیکن کچھ عرصہ بعد یہ عقدہ کھلتا ہے کہ یہ تو ٹیکسوں کی تاحیات ممبر شب تھی ۔ یہاں تو نظام والے ہر سہولت کا الگ سے ضمنی ٹکٹ بیچ کر ہمارا ‘شغل میلہ’ بنا رہے ہیں۔
آج کل کا شہزادہ چائے ختم ہوتے ہی شاہانہ انداز میں آئی فون نکالے گا۔ سکرین پر انگلیاں نچاتے ہوئے کہےگا۔کیش نہیں ہے بھائی، QR کوڈ دکھاؤ۔جیسے ہی چائے والا کوڈ آگے کرے گا۔یہ سوانگ رچاتے ہوئے صدمے سے کہے گا۔اوہ شٹ یار! جاز کیش ہینگ ہو گیا ہے۔ تم نمبر لکھو میں ، گھر جا کر پیسے بھیجتا ہوں۔ لیکن وہ پیسے قیامت تک نہیں آتے۔
گزارش ہے کہ آج کل اچھی بھلی، ہٹی کٹی بھینس بھی مہنگائی کے ہاتھوں پچک کر بکری معلوم ہوتی ہے۔ ویسے بھی یہ دنیا ہے پیارے! یہاں ہم نے اچھے اچھے ‘سانڈ نما’ سورماؤں کو حالات کے آگے بھیگی بلی بنتے دیکھا ہے۔
اگلی بار موبائل میں جب کوئی نام سیو کرنا تو ‘اللہ دتہ منجی والا’ یا ‘ خیر الدین بوٹ پالش’ ٹائپ کا مردانہ نام مت لکھنا ۔ کیونکہ بار بار کے تجربات سے بھابھی اب اتنی بھولی نہیں رہیں۔ اس لئے اب کی بار کسی نسوانی نام مثلاً شیداں تندور والی ۔ماسی خیراں دم بلکہ اک دم والی۔
پھر تھوڑی دور جا کر رکے ۔ تھرمس کا ڈھکن کھولا اس میں سے قلفی باہر نکالی اور اپنا مشہور زمانہ ‘سٹیپ’ دہرانے سے پہلے قلفی پر ایک بڑا سا چک مارا۔ ۔پھر مولانا کی طرف دیکھتے ہوئے اونچی آواز میں بولے۔ بجلی بھری ہے میرے انگ انگ میں !
مکمل کالم پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں دیا گیا لنک کھولیں
ہمارے قدموں کی چاپ یا گفتگو کا شور شرابہ نہ پہنچ جائے، اس لیے پورے شہر کو حکم ہے کہ سر پر جوتے اور ہونٹوں پر انگلی رکھ کر چلا جائے ۔اتنا کہہ کر وہ بڑے تفاخر سے میری طرف دیکھ کے بولا۔ آفٹر آل ایسے موقع پر شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ موقع ملے کدی کدی ۔
