Browsing: مزاح

گزارش ہے کہ آج کل اچھی بھلی، ہٹی کٹی بھینس بھی مہنگائی کے ہاتھوں پچک کر بکری معلوم ہوتی ہے۔ ویسے بھی یہ دنیا ہے پیارے! یہاں ہم نے اچھے اچھے ‘سانڈ نما’ سورماؤں کو حالات کے آگے بھیگی بلی بنتے دیکھا ہے۔

اگلی بار موبائل میں جب کوئی نام سیو کرنا تو ‘اللہ دتہ منجی والا’ یا ‘ خیر الدین بوٹ پالش’ ٹائپ کا مردانہ نام مت لکھنا ۔ کیونکہ بار بار کے تجربات سے بھابھی اب اتنی بھولی نہیں رہیں۔ اس لئے اب کی بار کسی نسوانی نام مثلاً شیداں تندور والی ۔ماسی خیراں دم بلکہ اک دم والی۔

پھر تھوڑی دور جا کر رکے ۔ تھرمس کا ڈھکن کھولا اس میں سے قلفی باہر نکالی اور اپنا مشہور زمانہ ‘سٹیپ’ دہرانے سے پہلے قلفی پر ایک بڑا سا چک مارا۔ ۔پھر مولانا کی طرف دیکھتے ہوئے اونچی آواز میں بولے۔ بجلی بھری ہے میرے انگ انگ میں !
مکمل کالم پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں دیا گیا لنک کھولیں

ہمارے قدموں کی چاپ یا گفتگو کا شور شرابہ نہ پہنچ جائے، اس لیے پورے شہر کو حکم ہے کہ سر پر جوتے اور ہونٹوں پر انگلی رکھ کر چلا جائے ۔اتنا کہہ کر وہ بڑے تفاخر سے میری طرف دیکھ کے بولا۔ آفٹر آل ایسے موقع پر شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ موقع ملے کدی کدی ۔

مجھے تو ڈر ہے کہ کل کلاں کو اگر مریخ پر بھی کوئی خلائی جھڑپ ہوئی۔ تو حاجی صاحب یہاں زمین پر بیٹھے بیٹھے مٹی کے تیل پر "خلائی ٹیکس” لگا دیں گے۔ اور بڑی معصومیت سے دلیل دیتے ہوئے کہیں گے کہ کیا کریں مجبوری ہے کہ جنگ کی وجہ سے سپلائی لائن بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔ اتنا کہنے کے بعدملا ہُد ہُد نے آخری دفعہ اپنی مختصر مگر جامع ڈاڑھی سمیٹی اور با آواز بلند کہنے لگے۔ سچ تو یہ ہے کہ جنگ چاہے تہران میں ہو یا واشنگٹن میں۔ ایٹم بم ہمیشہ غریب آدمی کے کچن اور جیب میں ہی پھٹتا ہے۔