اس اضافے سے عوام کے سفری اخراجات کے ساتھ ساتھ مال برداری، زرعی شعبے، بجلی کی پیداواری لاگت اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں پر بھی مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔
Browsing: اہم خبریں
نوٹی فکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 42 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد قیمت 380 روپے 24 پیسے کی سطح پر پہنچ گئی۔
اس کے علاوہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 6 روپے 10 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے
اسلام آباد کی حدود میں اسکا اطلاق آئندہ پیر اور منگل کی درمیانی شب کردیا جائے گا جبکہ پورے پاکستان میں بشمول کشمیر اور گلگت بلتستان، اسکا اطلاق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب میں کیا جائے گا۔
کپتان بابر اعظم سمیت کوئی بھی کھلاڑی ڈبل فگرز میں داخل نہیں ہو سکا۔انگلینڈ کی جانب سے جاش ٹنگ نے چار اور جوفرا آرچر اور اولی رابنسن نے تین، تین وکٹیں حاصل کیں۔
کلثوم نواز تین مرتبہ خاتون اول اور نوازشریف کی جلاوطنی کے دوران 1999سے 2002ءتک پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صدررہیں۔ 11ستمبر2018ءکو گلے کے سرطان کے باعث ان کا لندن میں انتقال ہوگیا تھا ۔
مکمل خبر کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے ۔۔
سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈاکٹر محمد سمیع ملک نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والے کون تھے، یہ اب تک معلوم نہیں ہو سکا ہے اور اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ فائرنگ کرنے والے ملزمان کے ساتھی تھے یا مخالف اور دشمن، اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 5 پیسے اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 370 روپے 80 پیسے ہوگئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق 11 ستمبر 2026 کے لیے ہوگا۔
حکومت نے گزشتہ روز پیٹرول کی قیمت 367 روپے 75 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 392 روپے 67 پیسے مقرر کی تھی۔
دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک لیٹرپیٹرول پر 131 روپے 60 پیسےکی لیوی، ٹیکس اور مارجنز کی وصولی کی جارہی ہے جب کہ فی لیٹر ڈیزل پر 122 روپے55 پیسے لیوی،ٹیکس اور مارجنز عائد ہیں۔پیٹرول کی فی لیٹر لاگت 234 روپے73 پیسے بنتی ہے تاہم اس وقت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 367 روپے 75پیسے مقرر ہے۔
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 12 روپے 90 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 358 روپے77 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
بلال غوری کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ ’وہ اپنا ہفتہ وار کالم لکھنے اور وی لاگ شوٹ کرنے کے لیے اپنے گھر کی نچلی منزل پر موجود تھے، تاہم رات گئے تک اوپر نہ آنے پر انھیں تشویش ہوئی اور جب وہ نیچے جا کر دیکھنے گئیں تو بلال غوری گھر میں موجود نہیں تھے۔‘
