ملتان ۔۔ پیپلز پارٹی کے بانی رہنما و سابق وفاقی وزیر ملک مختار احمد اعوان کو کل ملتان میں سپرد خاک کیا جائے گا ۔ وہ آج شام طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے تھے ۔۔ ملک مختار احمد اعوان طویل عرصہ سے صاحب فراش تھے ۔۔ انہیں گیارہ جون کو نجی ہسپتال کے شعبہ انتہائی نگہداشت میں منتقل کیا گیا تھا ۔
ملک مختار احمد اعوان سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے ۔ بے نظیر بھٹو کے دور اقتدار میں بھی وہ ان کی کابینہ کے تھے ۔۔جنرل ضیاء اور نواز شریف کے دور میں انہیں قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔۔ انہوں نے کوڑے کھائے ، قتل کے مقدمات کا سامنا بھی کیا لیکن پارٹی کے ساتھ ان کی وابستگی غیر مشروط تھی ۔۔
ان کی عمر 83 سال تھی۔ معروف دانش ور اور محقق ممتاز ڈاہر کی کتاب میں دی گئی تفصیلات کے مطابق ملک مختار احمد اعوان 25 ستمبر 1943 کو ملتان شہر میں پیدا ہوئے۔ ملک مختار احمد اعوان ان سیاسی کارکنوں میں شامل تھے جو ایوب آمریت کے ستون گرانے کے لیے گھروں سے نکلے اور کامیاب لوٹے۔ 1970ء کے سیاسی طوفان میں ملک مختار احمد اعوان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر نواب غلام قاسم خان خاکوانی کو شکست دے کر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ان کے حلقے سے قومی اسمبلی کی نشست پر شہید ذوالفقار علی بھٹو ، مولانا حامد علی خان اور بابو فیروز الدین کو شکست دے کر ایم این اے منتخب ہوئے۔
یہ اس زمانے کی یادیں ہیں جب سید محمد قسور گردیزی ، محمود نواز خان بابر، اللہ نواز خان درانی، بابو فیروزالدین انصاری ، مسلم سکالر علامہ رحمت اللہ طارق، اشفاق احمد خان اور تاج محمد خان لنگاہ ملتان کے سیاسی منظر نامے پر بہت نمایاں تھے ۔ ملک مختار احمد اعوان، وزیر اعلٰی پنجاب غلام مصطفی کھر اور وزیر اعلٰی ملک معراج خالد کی کابینہ میں بحالیات اور سماجی بہبود کے وزیر تھے ۔ 10 مارچ 1977 کو دوبارہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 5 جولائی 1977 کو مارشل لا کے نفاذ کے موقع پر پیپلز پارٹی کے دوسرے راہنماؤں کے ہمراہ گرفتار ہوئے۔ 16 نومبر 1988 کو شیخ محمد رشید کے مقابلے میں ملتان سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بعد میں وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی کابینہ میں سینئر وزیر مقرر ہوئے۔
ملک مختار احمد اعوان جنرل ضیاء الحق کے بدترین دور حکومت میں جسمانی تشدد کا نشانہ بنے ۔ انہوں نے مشرف دور میں بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ تاہم وہ ہمیشہ پیپلز پارٹی میں ثابت قدم رہے۔ ان کا گھر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز رہا وہ مختلف اوقات میں ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو ، فاروق لغاری، اجمل خٹک، یوسف رضا گیلانی اور تاج لنگاہ ان کے ہاں آتے تھے ۔ آخری عمر میں پیپلز پارٹی کی اعلٰی قیادت نے انہیں بھلا دیا تھا ۔ آج 28 جولائی 2026 کو انہوں نے زندگی کا آخری سانس لیا ۔
فیس بک کمینٹ

