ایک وسیع برِاعظم "سرزمینِ نور” میں ایک نہایت دلکش ملک آباد تھا، جس کا نام "نورآباد” تھا۔ دور سے دیکھنے والا اس کی خوبصورتی، بلند میناروں، چمکتی مساجد، خوش نما بازاروں اور دکانوں پر لکھی مذہبی عبارتوں کو دیکھ کر یہی سمجھتا کہ شاید یہ زمین پر جنت کا ایک ٹکڑا ہے۔
ہر بازار میں داخل ہوتے ہی نگاہ کسی نہ کسی ایسے بورڈ پر جا ٹھہرتی جس پر "اسلامی”، "مدنی”، "مکہ”، "مدینہ”، "نور” یا "رحمت” جیسے الفاظ سنہری حروف میں جگمگا رہے ہوتے تھے۔ یوں محسوس ہوتا جیسے یہاں فروخت ہونے والی ہر شے دیانت، صداقت اور برکت کی ضمانت ہو۔
بازار کی پہلی دکان پر لکھا تھا: "اسلامی شہد”۔ دوسری پر "مدنی ملک شاپ”، آگے "مکہ چکن سینٹر”، "رحمت بیکری”، "نور جنرل سٹور”، "اسلامی گوشت خانہ” اور نہ جانے کتنے ایسے نام جو دل میں اعتماد پیدا کرتے تھے۔
مسافر جب ان دکانوں کے سامنے سے گزرتا تو اس کے دل میں یہ خیال آتا کہ جہاں نام اتنے پاکیزہ ہوں، وہاں ناپ تول میں بھی انصاف ہوگا، خوراک بھی خالص ہوگی اور کاروبار بھی امانت کا آئینہ دار ہوگا۔
مگر نورآباد کی اصل کہانی ان خوبصورت تختیوں کے پیچھے چھپی ہوئی تھی۔
اسلامی شہد کی بوتل کھولی جاتی تو اس میں شہد سے زیادہ شکر کی شیرینی ہوتی۔ مدنی ملک شاپ سے دودھ خریدا جاتا تو اس میں پانی، کیمیکل اور مصنوعی سفیدی کا امتزاج نکلتا۔ مکہ چکن شاپ سے گوشت لایا جاتا تو معلوم ہوتا کہ تازگی صرف بورڈ پر لکھی ہوئی تھی، حقیقت میں تو گوشت کئی دنوں کی تھکن اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھا۔
بازار کے ہر کونے میں نام پاکیزہ تھے مگر نیتیں آلودہ تھیں۔ الفاظ مقدس تھے مگر اعمال کھوکھلے تھے۔
سب سے زیادہ افسوس ان دکانوں کو دیکھ کر ہوتا جہاں جعلی دودھ کے بڑے بڑے ڈرم رکھے ہوتے اور ان کے اوپر خوبصورت خطاطی میں قرآن کریم کی آیات اور احادیث لکھی ہوتیں۔ دیواروں پر اللہ تعالیٰ کے اسمائے مبارکہ آویزاں ہوتے، دروازوں پر درودِ پاک کے اسٹیکر چسپاں ہوتے اور دکاندار کی زبان پر ہر آنے والے کے لیے "السلام علیکم” اور "جزاک اللہ” کے الفاظ ہوتے۔
خریدار یہ سب دیکھ کر مطمئن ہو جاتا کہ یہاں دھوکے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہ بغیر کسی شک کے دودھ خرید لیتا، بچوں کو پلاتا اور چند دن بعد جب بیماری، کمزوری یا ملاوٹ کی حقیقت سامنے آتی تو اسے احساس ہوتا کہ اسے دودھ نہیں، اعتماد میں ملاوٹ بیچی گئی تھی۔
نورآباد میں لوگوں نے مذہب کو کردار بنانے کے بجائے اشتہار بنا لیا تھا۔ وہاں سچائی کا وزن ترازو میں نہیں، صرف بورڈوں پر دکھائی دیتا تھا۔ دیانت داری رسیدوں میں نہیں، صرف نعروں میں موجود تھی۔ ایمان کی خوشبو بازار میں نہیں، صرف ناموں میں رہ گئی تھی۔
ہر شخص پاکیزہ الفاظ کا لباس اوڑھے بیٹھا تھا مگر اس لباس کے نیچے حرص، لالچ اور دھوکے کی گرد جمع تھی۔
وہاں کے بزرگ اکثر کہا کرتے تھے کہ کسی معاشرے کی پہچان اس کے ناموں سے نہیں بلکہ اس کے اعمال سے ہوتی ہے۔ اگر صرف مقدس الفاظ لکھ دینے سے چیزیں پاک ہو جاتیں تو دنیا میں ملاوٹ، جھوٹ اور فریب کا وجود ہی نہ رہتا۔
مگر نورآباد کے لوگ شاید یہ سبق بھول چکے تھے۔ انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ نام جتنا مقدس ہوگا، سوال اتنے ہی کم ہوں گے، اور جتنے کم سوال ہوں گے، دھوکا اتنا ہی آسان ہوگا۔
ایک دن ایک مسافر بازار کے بیچ کھڑا ہوا اور بولا:
"میں نے دنیا کے کئی ملک دیکھے ہیں۔ کہیں چیزیں اچھی تھیں مگر نام سادہ تھے، کہیں نام عام تھے مگر لوگ دیانت دار تھے۔ مگر یہ پہلا ملک ہے جہاں ناموں میں جنت ہے اور کردار میں اندھیرا۔”
لوگ اس کی بات سن کر خاموش ہوگئے، کیونکہ سچ ہمیشہ شور نہیں مچاتا، صرف ضمیر کو جگاتا ہے۔
نورآباد کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں تھی کہ وہاں ملاوٹ ہوتی تھی، بلکہ یہ تھی کہ ملاوٹ کو تقدس کی چادر اوڑھا دی گئی تھی۔
جب جھوٹ مذہب کے نام سے بولا جائے، دھوکا عبادت کی زبان میں دیا جائے اور فریب مقدس علامتوں کے سہارے فروخت کیا جائے تو نقصان صرف صحت یا دولت کا نہیں ہوتا، بلکہ اعتماد بھی مر جاتا ہے۔
پھر لوگ خالص چیز سے بھی ڈرنے لگتے ہیں، کیونکہ جعلی پن نے سچائی کی پہچان دھندلا دی ہوتی ہے۔
شاید نورآباد کی اصلاح اس دن شروع ہو جب دکانوں کے نام بدلنے کے بجائے نیتیں بدل جائیں، جب قرآن کی آیات دیواروں پر سجانے سے پہلے دلوں میں اتاری جائیں، جب "اسلامی” لکھنے سے پہلے اسلامی اصولوں پر عمل کیا جائے، اور جب تجارت کا سب سے بڑا اشتہار مقدس الفاظ نہیں بلکہ سچا کردار بن جائے۔
کیونکہ کسی بھی معاشرے کی عزت اس کے بورڈوں سے نہیں، اس کے لوگوں کی امانت، دیانت اور سچائی سے قائم ہوتی ہے۔
جب کردار زندہ ہو تو نام خود بخود معتبر ہو جاتے ہیں، اور جب کردار مر جائے تو دنیا کی تمام مقدس تختیاں بھی اعتماد کو واپس نہیں لا سکتیں۔
الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
ایڈیٹر9 Views

