یہ تصنیف اس حقیقت کو بھی واضح کرتی ہے کہ روسی ناول صرف کہانی یا ادب نہیں بلکہ ایک فکری بیداری ہے، جو انسان کو اپنے معاشرے، اپنے ضمیر اور اپنے عہد سے مکالمے پر مجبور کرتی ہے۔ انسانی نفسیات، اخلاقی کشمکش اور سماجی ناانصافیوں کی گہری عکاسی اس کتاب کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہے۔
Browsing: اختصاریئے
کتاب حجم میں مختصر ہے، مگر محسوس ہوتا ہے کہ ہر جملہ سوچ سمجھ کر لکھا گیا ہے۔ ضخیم کتابوں میں بعض اوقات غیر ضروری تفصیلات قاری کی دلچسپی کم کر دیتی ہیں، جبکہ اس کتاب میں ہر صفحہ اور ہر سطر اپنی اہمیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے یہ کتاب نہ صرف دل چسپ بلکہ دوبارہ پڑھے جانے کے قابل بھی محسوس ہوئی۔
مستقبل کا انسان شاید جسمانی طور پر کم متحرک مگر مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل نظاموں پر زیادہ انحصار کرنے والا ہو۔ اگر موجودہ رجحانات اسی شدت سے جاری رہے تو انسانی صحت، ذہنی توازن اور سماجی رشتوں میں مزید کمزوری پیدا ہو سکتی ہے۔
تاریخ کی مسکراتی آنکھوں کی چمک بتا رہی ہے 1400 سال پہلے فیصلہ ہو چکا کہ یہ شہر رے کسی ظالم غارت گر کو روٹی کا ایک ٹکڑا تک دینے پر آ مادہ نہیں ہوگا۔۔یہ فیصلہ تاریخی حقیقت نہیں بلکہ خدائی بیانیہ ہے کہ ہمیشہ اہلِ کوثر اہل تکاثرِ پر فتح پاتے رہیں گے کیونکہ کوثر کے ہاں لہو مقصد کی طاقت کو بڑھاتا اور نعمتوں کو خیر میں تبدیل کرتا رہتا ہے۔۔اور خیر کبھی نہیں مرتا!! کبھی نہیں جھکتا!!
سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟؟؟یاد رکھیے کہ آواز اٹھانا اور صدائے احتجاج بلند کرنا بڑے بڑے بے ضمیروں کو مشکل میں ڈال دیا کرتا ہے.. ایک مضبوط بیانیہ قوموں کے ضمیر جھنجھوڑ کر ان ظالموں کا ظلم کو خاک میں ملا دیتا ہے۔۔ملک کی تمام انسانی حقوق کی تنظیموں سے التماس ہے کہ اس وحشیانہ ظلم پر ضرور آواز اٹھائیں… تعزیتی ریفرنس تعزیتی کانفرنسز منعقد کریں.. فنڈز دینے والوں سے نہ ڈریں
"ساٹھ کی دہائی میں، میری نوجوانی کے دور میں، شاعری کے الفاظ اس وقت زیادہ پُر معنی ہو جاتے تھے جب وہ موسیقی کی دھنوں میں…
علمی روایتیں جب مضبوط ہوتی ہیں تو معاشرے میں فکر کی سنجیدگی، استدلال کی روشنی اور مکالمے کی تہذیب بھی پروان چڑھتی ہے۔ تین چار دہائیاں…
ڈاکٹر علی شاذف کے شعری مجموعے "حیرت کدے میں حیرت” کا مطالعہ اردو شاعری کی اس روایت کا تسلسل پیش کرتا ہے جہاں فکر اور جذبے…
ایک بہت خوب صورت اور محبت کرنے والا انسان ایسے رخصت ہوا کہ کسی کو یقین کرنے کی بھی مہلت نہ دی ۔۔ ندیم ملک صاحب…
ریاستِ پاکستان اس وقت ایک ایسے مخمصے میں گھری ہوئی ہے جہاں آئین کی روح اور عمل کی حقیقت ایک دوسرے سے متصادم دکھائی دیتی ہیں۔…
