واشنگٹن َ: امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ منگل سے دنیا بھر کی فضائیں تمام ایرانی ایئر لائنز کے لیے بند کر دی جائیں گی۔
امریکی محکمہ خزانہ نے تقریباً دو ہفتے قبل 27 ایرانی ایئر لائنز کو اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ انھیں نہیں معلوم کہ ایران کے ساتھ یہ تنازع کب تک جاری رہے گا، تاہم اُنھوں نے بتایا کہ ایران پر عائد پابندیوں کے حوالے سے اُنھوں نے چین سے بات چیت کی ہے۔
چینی صدر دو روز میں امریکہ کا دورہ کریں گے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مختلف امور پر بات چیت کریں گے جن میں ایران پر عائد پابندیاں بھی شامل ہیں۔
سکاٹ بیسنٹ اس سے قبل کہہ چکے تھے کہ چینی نائب وزیراعظم وانگ یی کے ساتھ بات چیت میں وہ ایران کے خلاف پابندیوں کے معاملے پر دونوں صدور کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کریں گے۔
ادھر ایران کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس ہفتے ہونے والے اجلاس میں شرکت کے لیے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ہمراہ جانے والے وفد کے بعض ارکان، جن میں ان کی میڈیا ٹیم کے ارکان بھی شامل ہیں، کو ویزا جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ’ ٹرمپ انتظامیہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیویارک جانے والے اعلیٰ سطحی ایرانی وفد کے بعض ارکان، جن میں صدر کی میڈیا ٹیم کے ارکان بھی شامل ہیں، کو امریکی ویزے جاری نہیں کیے۔‘
خبر رساں ایجنسی مہر نے بھی ایرانی صدارتی ترجمان کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مسعود پزشکیان بدھ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی ٹرمپ انتظامیہ پر معلومات تک رسائی کے حق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔
انھوں نے وائٹ ہاؤس کے حالیہ اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ’جب ایک حکمران نظام امریکہ کے اپنے میڈیا کو بھی معلومات تک رسائی سے روکتا ہے اور ساتھ ہی غیر ملکی صحافیوں کی رسائی بھی محدود کرتا ہے، جن میں ایرانی صدر کی میڈیا ٹیم بھی شامل ہے، تو یہ رسائی کا انتظام نہیں بلکہ حقیقت کو چھپانے کی کوشش ہے، اور یہ معلومات تک رسائی کے حق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غلط معلومات پھیلانے کی مہم کا حصہ ہے۔‘
( بشکریہ : بی بی سی )
دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
ایڈیٹر4 Views

