اسلام آباد : وزیرِ اعظم شہباز شریف کے خصوصی مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے علاقے راولاکوٹ سے منظرِ عام پر آنے والی ہلاکتوں کی اطلاعات ’پروپیگنڈا‘ پر مبنی ہیں۔
بی بی سی نیوز کے عثمان زاہد کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب رانا ثنا اللہ سے راولاکوٹ میں ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے کب کہا کہ وہاں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی؟ لیکن جو پروپیگنڈا ہے کہ 400 ہلاکتیں ہوئی ہیں، وہ غلط ہے۔‘
’9 جون سے اگر آپ دیکھیں تو ہلاکتوں کی تعداد دو ہندسوں میں ہو سکتی ہے، لیکن اس میں پولیس اور رینجرز کے لوگ بھی شامل ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ مجھے بتائیں کہ جب وہ (مظاہرین) قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فائرنگ کریں گے تو پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے کیا ردِعمل دیں گے؟‘
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں رواں برس جون سے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تحت احتجاج جاری ہیں اور اس دوران متعدد سکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کی ہلاکتوں کی اطلاعات منظرِ عام پر آتی رہی ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا حالیہ احتجاج رواں برس جون میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستوں کے خاتمے سے شروع ہوا تھا اور مظاہرین نے مظفر آباد تک لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
احتجاجی مظاہرین ہلاکتوں کی تعداد زیادہ بتاتے ہیں، جبکہ حکومتی حکام کی جانب سے بتائی جانے والی تعداد کم ہوتی ہے۔ بی بی سی دونوں ہی جانب سے کیے گئے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’پراپیگنڈا کا حال یہ ہے کہ کچھ دن پہلے میرپور میں ایک واقعہ ہوا، جس میں کوئی ہلاک نہیں ہوا۔ لیکن ایک ویڈیو بنائی گئی کہ تقریباً 25 لاشیں خون میں لت پت وہاں پر موجود ہیں اور بتایا گیا کہ دیکھیں یہ قتلِ عام ہو گیا ہے اور بعد میں وہ ساری لاشیں لوگوں کو چلتی پھرتی نظر آئیں۔‘
مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیوں کیا گیا؟
پاکستانی وزیرِاعظم کے خصوصی مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے الزام عائد کیا کہ 9 جون کو راولاکوٹ میں موجود لوگوں کی تعداد ’پانچ سے چھ ہزار تھی۔‘
رانا ثنا اللہ نے الزام عائد کیا کہ ان افراد کے ساتھ مسلح افراد بھی موجود تھے۔
’انھیں کہا گیا کہ آپ کے ساتھ مسلح لوگ ہیں، مسلح لانگ مارچ جو ہوتا ہے وہ سیاسی مارچ نہیں ہوتا بلکہ وہ لشکر کشی ہوتی ہے۔‘
’کوئی بھی ریاست اپنے دارالحکومت پر ایسی لشکر کشی کی اجازت نہیں دیتی۔ انھیں وہاں پر روکا گیا، وہاں پر انھوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فائرنگ کا تبادلہ کیا، یعنی ان کے مسلح ہونے کی اس حد تک تصدیق ہے۔‘
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

