سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے انہیں کئی مرتبہ قید بھی کیا گیا ۔
وہ لاہور کے بدنام زمانہ ٹارچر سیل شاہی قلعہ میں بھی تشدد برداشت کرتے رہے۔
Browsing: اہم خبریں
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے افراد اپنے کسی بھی ممکنہ نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے جبکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
رہبری کے منصب تک پہنچنے کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کی کوئی آواز یا تصویر جاری نہیں کی گئی اور مسعود پزشکیان کے علاوہ کسی اور سرکاری عہدے دار نے ان سے بالمشافہ ملاقات کا ذکر نہیں کیا ہے۔
بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں موبائل فون سروس بند ہونے کا سلسلہ اتوار کو ڈیڑھ بجے کے بعد شروع ہوا۔ اس کے ساتھ ہی بلوچستان کے دیگر علاقوں سے بھی موبائل فون سروس بند ہونے کی اطلاعات موصول ہونا شروع ہوگئیں۔
نیہا بورا نے الزام لگایا کہ انہیں ڈرانے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن وہ اس سے خوفزدہ نہیں ہوں گی اور طلبہ کی تحریک جاری رہے گی۔ دوسری جانب AISA اور سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ واقعہ سیاسی مخالفت کا نتیجہ ہے، جبکہ اس الزام کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
رانا ثنا اللہ نے ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’پراپیگنڈا کا حال یہ ہے کہ کچھ دن پہلے میرپور میں ایک واقعہ ہوا، جس میں کوئی ہلاک نہیں ہوا۔ لیکن ایک ویڈیو بنائی گئی کہ تقریباً 25 لاشیں خون میں لت پت وہاں پر موجود ہیں اور بتایا گیا کہ دیکھیں یہ قتلِ عام ہو گیا ہے اور بعد میں وہ ساری لاشیں لوگوں کو چلتی پھرتی نظر آئیں۔‘
ترجمان ریسکیو 1122 بلال فیضی کے مطابق نو افراد کی لاشیں سینٹرل ہسپتال سیدو شریف جبکہ کبل ہسپتال نے پانچ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے مطابق دھماکہ خودکش تھا۔ اُن کے بقول بہادر پولیس جوانوں نے جان دے کر خودکش بمبار کو تھانے کے اندر جانے سے روکا۔
مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق مظفرآباد لوئر پلیٹ میں حالات کشیدہ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’لوئر پلیٹ، چہلہ بانڈی اور اپر اڈہ میں کئی لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ دکانیں بند، سیاسی جماعتوں کے پوسٹرز اتار کر آگ لگائی گئی۔ مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔‘
ان کے مطابق ’’بلوچستان میں یہ جان بوجھ کر یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہاں حالات انتہائی خراب ہیں اور صوبہ ہاتھ سے نکل رہا ہے۔‘
سورینج اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں ماضی میں بھی کوئلہ کانوں میں حادثات پیش آتے رہے ہیں۔
دیگر جدید صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے کوئلے کی کانکنی بلوچستان کی بڑی صنعت ہے۔ کوئلے کی کانیں زیادہ تر کوئٹہ، کچھی، ہرنائی اور دکی کے اضلاع میں موجود ہیں
