دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک لیٹرپیٹرول پر 131 روپے 60 پیسےکی لیوی، ٹیکس اور مارجنز کی وصولی کی جارہی ہے جب کہ فی لیٹر ڈیزل پر 122 روپے55 پیسے لیوی،ٹیکس اور مارجنز عائد ہیں۔پیٹرول کی فی لیٹر لاگت 234 روپے73 پیسے بنتی ہے تاہم اس وقت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 367 روپے 75پیسے مقرر ہے۔
Browsing: اہم خبریں
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 12 روپے 90 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 358 روپے77 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
بلال غوری کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ ’وہ اپنا ہفتہ وار کالم لکھنے اور وی لاگ شوٹ کرنے کے لیے اپنے گھر کی نچلی منزل پر موجود تھے، تاہم رات گئے تک اوپر نہ آنے پر انھیں تشویش ہوئی اور جب وہ نیچے جا کر دیکھنے گئیں تو بلال غوری گھر میں موجود نہیں تھے۔‘
پولیس ذرائع کے مطابق حماد اظہر 9 مئی 2023 سے اشتہاری تھے، وہ اپنے والد کے انتقال پر منظر عام پر آئے تھے لیکن پھر اس کے بعد روپوش ہو گئے تھے۔
ایک سیکیورٹی تجزیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ زیارت کراس میں فرنٹیئر کور اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کارروائی ٹی ٹی پی نے کی، تاہم اس کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کی۔ تجزیے میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر حملہ ٹی ٹی پی کی جانب سے کیا گیا تھا تو اس کی ذمہ داری بی ایل اے نے کیوں قبول کی؟
وزیرِ اعلیٰ کے معاونِ خصوصی برائے میڈیا شاہد رند نے کہا کہ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے سکھر، لاڑکانہ اور کوئٹہ کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق زخمی شہریوں کا ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں علاج جاری ہے اور حکومت بلوچستان انھیں ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔
اسلام آباد : پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر اضافہ کردیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل 2 روپے 28 پیسے فی لیٹر جبکہ…
ایک اور صارف نے لکھا کہ ’حالات بتا رہے ہیں کہ بیرسٹر افتخار گیلانی کی منظوری نواز شریف کے بجائے کسی اور جگہ سے آئی ہے۔ اب بھی کوئی کسر رہ گئی ہے نظام سے چھیڑ چھاڑ کر کے اس کو تباہ و برباد کرنے میں؟‘
تاہم سوشل میڈیا پر تنقید سے زیادہ اہم مسئلہ ن لیگ میں آپس کے اختلافات ہیں۔
اسلام آباد : پمز اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے 14 نومولود جاں بحق ہوگئے۔ ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ آگ نرسری میں ایئرکنڈیشن…
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان’ کے مطابق، اس سال اب تک درج ہونے والے توہینِ مذہب کے کیسز کی تعداد گھٹ کر صرف 13 رہ گئی ہے، جو حالیہ سالوں کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً دو تہائی کم ہے۔
تنازعات پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ‘آرمڈ کنفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا’ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جہاں 2021 سے 2024 کے درمیان پاکستان میں توہینِ مذہب کے نام پر سالانہ اوسطاً 7 سے زائد پرتشدد واقعات یا حملے ہوتے تھے، وہیں گزشتہ 12 مہینوں میں صرف ایک ایسا واقعہ رپورٹ ہوا ہے۔
