ماں نےاس ر شتے کو یکسر مسترد کر دیا۔ان کے الفاظ میں بحث تھی نہ کوئی سوال،صرف فیصلہ تھا”میں نیچے نہیں أؤں گی”یہ جملہ گھر کی دیواروں سے ٹکرا گیا۔
Browsing: افسانے
ایک بچہ سڑک پر رو رہا تھا۔ وہ جلوس میں شامل ہونا چاہتا تھا لیکن اس کی خوف زدہ ماں اسے روک رہی تھی۔ وہ ٹانگیں چلاتا اور روتا رہا۔ وہ ماں کے ہاتھ پر کاٹ کر اس سے جدا ہونے میں کامیاب ہوا اور جلوس میں شامل ہوتے ہی خاموش اور پرسکون ہوگیا۔ اس نے اپنے آنسو تک نہیں پونچھے کہ جلوس کا نظم خراب نہ ہوجائے۔
ارے تم ابھی تک تیار نہیں ہوئی ؟ عینی نے ہانی کو جائے نماز پر دعا مانگتے دیکھا تو سب سے پہلے یہی سوال کیا ۔مجھے…
راجہ چندر گپت موریا اپنی رعایا میں انصاف ،پریم ،شانتی اور پنی بُدھی مانی کی وجہ سے بہت مشہور تھا۔ راجہ چندر گپتٍٍٍ کے راج میں…
لوگ اپنی مرادیں لیے نہ جانے کہاں کہاں سے آئے تھے۔ کتنی مرادیں اپنے ساتھ آنسو بطور گواہ لے کر آئی تھیں کہ مراد پوری ہونا…
وہ اپنی بہن کی رخصتی پر خوب ہنسی۔ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئی۔ ماں نے سمجھایا بھی ، لیکن جب وہ نہ سمجھی تو…
جرابیں لے لو صرف سو روپے کی ہیں۔ یہ آواز روز یونیورسٹی سے واپسی پر اس کا پیچھا کرتی تھی اور جب تک وہ بٹوہ کھول…
وہ اس کے جنازے میں بیٹھی زاروقطار رورہی تھی اورنہ جانے کیاکیا بول رہی تھی ۔سب لوگ اُس کی دردبھری چیخ وپکار سے اوربھی زیادہ دکھی…
میرے جسم میں اس وقت جان کا رہنا شاید ناممکن ہو گیا ہے۔ میری دھڑکن کا رک جانا اب ضروری ہو گیا ہے۔ اس سر کو…
جیسے جیسے شام گہری ہو رہی تھی اس کی اداسی بھی بڑھتی جا رہی تھی۔اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے پھر اچانک…
