سوات : صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کی انتظامیہ کے مطابق کبل پولیس سٹیشن کے باہر ہونے والے دھماکے میں 14 افراد ہلاک اور 15 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
ترجمان ریسکیو 1122 بلال فیضی کے مطابق نو افراد کی لاشیں سینٹرل ہسپتال سیدو شریف جبکہ کبل ہسپتال نے پانچ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے مطابق دھماکہ خودکش تھا۔ اُن کے بقول بہادر پولیس جوانوں نے جان دے کر خودکش بمبار کو تھانے کے اندر جانے سے روکا۔
مقامی افراد نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی شام یہ دھماکہ اُس وقت ہوا جب تھانے کے قریب ہی کچھ لوگ ’امن مظاہرہ‘ کر رہے تھے۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کبل خودکش دھماکے اور اس میں ہونے والی اموات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیرِ اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے مطابق دھماکہ خودکش تھا۔ محسن نقوی کے مطابق بہادر پولیس جوانوں نے جان دے کر خودکش بمبار کو تھانے کے اندر جانے سے روکا۔
دھماکہ اُس وقت ہوا جب سوات میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے خلاف لوگ ’امن مظاہرہ‘ کر رہے تھے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق 15 سے زائد زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

