تحریک انصاف کے قیام (1996) کے ساتھ ہی شروع ہوچکا تھا اور جنرل ریٹائرڈ حمید گل نے جماعت اسلامی کی لے پالک تنظیم پاسبان کے کچھ اثاثے تحریک انصاف کو منتقل کروائے تھے، اسلامی جمعیت طلبہ کے سابق ناظم اعلیٰ اور جماعت اسلامی کے اہم رہنما امیر العظیم اور محمد علی درانی جیسے اہم لوگ بھی ان میں شامل تھے اگرچہ وہ اگلے کسی اشارے پر ایک بار پھر اپنی راہیں بدل گئے؛ لیکن 2011 کے بعد اس رومانس کی معکوس شکل یوں بنی کہ چاہت کا طوفان دوسری سمت سے اٹھا اور جماعت اسلامی/ اسلامی جمعیت طلبہ کے تربیت یافتہ نوجوان تحریک انصاف کے طرف کھنچنے لگے
Browsing: daud tahir
وزیر اعظم نے 26 اگست کو پمز ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں آتشزدگی کی عبوری رپورٹ ملنے کے بعد ہسپتال کے اہم ذمہ داروں کو فوری…
اگر مذہب کو سیاسی ہتھکنڈا بنا کر اسے آمرانہ طرز عمل اختیار کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہے گا تو تناؤ، پریشانی، بداعتمادی اور بے یقینی میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ پھر لوگ پاکستان سے محبت کرنے کی بجائے، وہاں سے بھاگنے کے راستے تلاش کریں گے۔ جنہیں یہ راستہ نہیں ملے گا، وہ تخریب کاروں کا آلہ کار بنیں گے۔
ان کے مطابق ’’بلوچستان میں یہ جان بوجھ کر یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہاں حالات انتہائی خراب ہیں اور صوبہ ہاتھ سے نکل رہا ہے۔‘
کراچی : معروف شاعر اور ادیب ظریف احسن اتوار 26 جولائی کو کراچی میں انتقال کر گئے ۔ان کی عمر 72 برس تھی ۔ظریف احسن کا…
زمانہ طالب علمی میں امیر العظیم نے ضیاء الحق دور میں طلبہ یونین کی بحالی کے لیے لانگ مارچ کیا، اور اس کے لیے جیل کی سزا بھی کاٹی، اسی قید کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ کے طور پر انھیں منتخب کیا گیا تھا۔
میچ ختم ہونے کی سیٹی کے بعد پاریڈیس، سپین کے روڈری، گاوی اور بورخا ایگلیسیاس کے ساتھ جھگڑوں میں ملوث رہے جبکہ ان کے ساتھی ناویل مولینا کو بھی ایک گزرتے ہوئے سپین کے کھلاڑی پر مکا برساتے دیکھا گیا۔
ارنا کے مطابق نماز جنازہ تین مراحل میں ادا کی گئی۔ پہلے مرحلے میں سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای، دوسرے مرحلے میں ان کی بیٹی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری اور بہو زہرا حداد عادل کی نماز جنازہ اد کی گئی۔ تیسرے مرحلے میں علی خامنہ ای کی کم سن نواسی زہرا محمدی کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔
حادثے کے بعد شیرانی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ زخمیوں کو فوری اور بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
اسلام آباد پنڈی میں قوی آس ہے کہ پاکستان کو اس کارخیر کا پھل اقتصادی منصوبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کی شکل میں ملے گا۔ پاک ایران گیس پائپ لائن کی تکمیل سے ملک میں توانائی کے بحران کی شدت میں کسی حد تک کمی ہو سکے گی۔ افغانستان نہ بھی قابو میں آیا تب بھی براستہ ایران وسطی ایشیائی ممالک سے تجارت بڑھانے کے امکانات روشن ہیں۔
