لکیر حب الوطنی اور غداری کے کے بیچ واضح کی جارہی ہے۔ لیکن اسے نمایاں کرنے کی وجوہات کا تعین کرنے کا اختیار ’ریاست‘ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ بدنصیبی سے ہر گزرنے والے دن کے ساتھ لوگوں کی بڑی تعداد اس نادیدہ ریاست کے ساتھ اپنے تعلق و شناخت کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہورہی ہے۔ اور یہاں آباد 25 کروڑ لوگ اس دوران اس مشکل میں ہیں کہ کس آئینے میں اپنا عکس تلاش کریں۔ وہ جو آئین کی کتابوں تک محدود ’ریاست‘ دکھاتی ہے یا وہ جو ہزاروں سال کا تہذیبی ورثہ انہیں فراہم کرتا ہے۔
( تجزیئے کا لنک پہلے کمینٹ میں دیئے گئے )
Browsing: daud tahir
ان کے مطابق ’’بلوچستان میں یہ جان بوجھ کر یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہاں حالات انتہائی خراب ہیں اور صوبہ ہاتھ سے نکل رہا ہے۔‘
کراچی : معروف شاعر اور ادیب ظریف احسن اتوار 26 جولائی کو کراچی میں انتقال کر گئے ۔ان کی عمر 72 برس تھی ۔ظریف احسن کا…
زمانہ طالب علمی میں امیر العظیم نے ضیاء الحق دور میں طلبہ یونین کی بحالی کے لیے لانگ مارچ کیا، اور اس کے لیے جیل کی سزا بھی کاٹی، اسی قید کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ کے طور پر انھیں منتخب کیا گیا تھا۔
میچ ختم ہونے کی سیٹی کے بعد پاریڈیس، سپین کے روڈری، گاوی اور بورخا ایگلیسیاس کے ساتھ جھگڑوں میں ملوث رہے جبکہ ان کے ساتھی ناویل مولینا کو بھی ایک گزرتے ہوئے سپین کے کھلاڑی پر مکا برساتے دیکھا گیا۔
ارنا کے مطابق نماز جنازہ تین مراحل میں ادا کی گئی۔ پہلے مرحلے میں سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای، دوسرے مرحلے میں ان کی بیٹی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری اور بہو زہرا حداد عادل کی نماز جنازہ اد کی گئی۔ تیسرے مرحلے میں علی خامنہ ای کی کم سن نواسی زہرا محمدی کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔
حادثے کے بعد شیرانی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ زخمیوں کو فوری اور بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
اسلام آباد پنڈی میں قوی آس ہے کہ پاکستان کو اس کارخیر کا پھل اقتصادی منصوبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کی شکل میں ملے گا۔ پاک ایران گیس پائپ لائن کی تکمیل سے ملک میں توانائی کے بحران کی شدت میں کسی حد تک کمی ہو سکے گی۔ افغانستان نہ بھی قابو میں آیا تب بھی براستہ ایران وسطی ایشیائی ممالک سے تجارت بڑھانے کے امکانات روشن ہیں۔
ہزاروں مظاہرین راولا کوٹ کے قرب میں جمع ہیں لیکن حکومت انہیں دارالحکومت مظفر آباد پہنچنے سے روکنے کے انتظامات کررہی ہے۔ شہروں میں کرفیو کی صورت حال ہے اور مساجد سے اعلان کرایا جارہا ہے کہ لوگ گھروں میں رہیں۔ پورے خطے میں بداعتمادی اور تصادم کی تکلیف دہ صورت حال موجود ہے۔
مارچ 2026ء سے قبل دنیا کی واحد سپرطاقت ہونے کا دعوے دار امریکہ خلیجی ممالک سے بھیجے تیل کی ترسیل کے نظام کا یک وتنہا ضامن تھا۔ اسی باعث بحرین وقطر میں امریکہ کو فوجی اڈے فراہم ہوئے تھے۔ خلیجی ممالک کے دفاع کو یقینی بنانے کے لئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے گزشتہ کئی دہائیوں سے اربوں ڈالر کا جدید ترین اسلحہ بھی خریدا جارہا ہے جو اب کام آتا نظر نہیں آرہا۔
