Author: ایڈیٹر

دونوں مقدس ہستیوں نے ایک ہاتھ سے ایک دوسرے کی لہلہاتی ریش مبارک پکڑ رکھی تھی ۔ دوسرا ہاتھ گریبان پر تھا۔ دونوں ہاتھ مصروف تھے لیکن پیران طریقت کینگرو کی طرح اچھل اچھل کر ایک دوسرے کے حساس سنگم پر ٹھوکریں لگا رہے تھے اور مغلظات کے تبادلے میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔

ماں نےاس ر شتے کو یکسر مسترد کر دیا۔ان کے الفاظ میں بحث تھی نہ کوئی سوال،صرف فیصلہ تھا”میں نیچے نہیں أؤں گی”یہ جملہ گھر کی دیواروں سے ٹکرا گیا۔

ہم دنیا کو بتا رہے ہوتے ہیں کہ ہم کیا سوچتے ہیں، کس چیز کو اہم سمجھتے ہیں اور اختلاف کے وقت ہمارا ظرف کتنا ہے۔ اس لیے پوسٹ کرنے سے پہلے صرف یہ نہ سوچیں کہ لوگ اسے کتنا پسند کریں گے؛ یہ بھی سوچیں کہ لوگ اسے پڑھ کر ہمیں کیسا انسان سمجھیں گے۔ کیونکہ سوشل میڈیا پر ہم صرف الفاظ شیئر نہیں کرتے، اپنا کردار بھی شیئر کرتے ہیں۔

22 اگست 1978 کی گونج نکاراگوا کی سرحدوں سے کہیں آگے تک سنائی دیتی ہے۔ یہ سبق دیتی ہے کہ جب مظلوم اقوام کو تمام قانونی راستوں سے محروم کر دیا جائے، تو ان کے پاس ریاست کے جبر و تشدد کا مقابلہ شجاعانہ، نظم و ضبط سے آراستہ قوت سے کرنے کا پورا حق ہے، لیکن ہمیشہ عوام کے مفاد کو ہی اپنا قطب نما بنا کر۔

تحریک انصاف کی بجائے حکومت اور اس کے نمائندوں نے اس سوال پر سیاست کی اور ہر لحظہ بدلتے بیانات کے ذریعے پورا ہفتہ بے یقینی کی فضا قائم رکھی۔ اس کا نقصان بنیادی طور پر حکومت ہی کو برداشت کرنا پڑے گا لیکن کسی سرکاری سیاسی عہدے دار میں اس کا اعتراف کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔

2022 میں قائم ہو کر 2025 میں رسمی شکل اختیار کرنے والا ہائبرڈگورنس ماڈل ظاہراً مضبوط نظر آتا ہے لیکن اس کے باوجود طویل مدت میں پائیدار نہیں رہ سکے گا۔ ماضی کے طرز حکمرانی کی طرح موجودہ ہائبرڈ ماڈل کو بھی ایک انتہائی غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے۔ اگرچہ اس نے قلیل مدتی استحکام کی ایک حد حاصل کر لی ہے لیکن پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ ایسااستحکام ایک وقتی عنصر ہوتا ہے جومستقل اور پائیدار حکمرانی کے ڈھانچے کے طور پر قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ اس کی ساختی کمزوریاں اور تاریخی شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ پاکستان کے لیے ایک مستقل حل کے بجائے ایک عارضی انتظام ہے۔

لیڈر سے وفاداری کا مطلب ہر افواہ کو فتح اور ہر سیاسی اشارے کو ڈیل قرار دینا نہیں۔ کبھی کبھی اپنے لیڈر کے لیے سب سے بڑی وفاداری اپنے جذبات پر قابو پانا ہوتی ہے۔ کسی لیڈر کے لیے لڑنے اور اپنے لیڈر کے لیے مشکلات پیدا کرنے میں بہت باریک فرق ہوتا ہے۔