ملک بھر میں سپریم کورٹ کے اس حکم پر اطمینان محسوس کیا گیا تھا کہ عمران خان کا ان کی خواہش کے مطابق الشفا ہسپتال میں طبی معائنہ کرایا جائے اور اگر ضرورت ہو تو اسی ہستپال میں ان کا علاج کیا جائے۔ عدالت کا مؤقف تھا کہ یہ ایک انسان کی صحت کا معاملہ ہے اس پر سیاست نہ کی جائے۔ بدقسمتی سے اس فیصلے کے ساتھ ہی یہ معاملہ شدید سیاسی کشمکش کا سبب بنا۔
حکومت نے بظاہر عدالت عظمی کے حکم پر عمل نہیں کیا اور اس فیصلہ کو تبدیل کرانے کے لیے نظر ثانی کی اپیل دائر کی گئی ہے۔ چونکہ اس اپیل پر سماعت کی تاریخ مقرر نہیں ہوئی اور عدالتی حکم میں دو دن کے اندر عمران خان کا طبی معائنہ اور علاج کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، اس لیے حکومت نے ایک ایسا ’درمیانی‘ راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ عدالتی حکم عدولی کی مرتکب بھی نہ کہلائے اور عمران خان کو بدستور جیل ہی میں رکھا جاسکے۔ لہذا گزشتہ شب یہ انتظامات دکھانے کے بعد کہ عمران خان کو بالآخر شفا ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے، حکومتی افسروں نے انہیں پمز ہسپتال پہنچایا اور طبی معائنے میں انہیں مکمل صحت مند قرار دلوانے کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔
اب تحریک انصاف ، عمران خان کی بہنیں اور پارٹی کے لیڈر و وکیل حکومت کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دے کر اس بارے میں سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرچکے ہیں ۔تاکہ عدالت عظمی کے جج وزیر اعظم شہباز شریف کو عدالتی حکم کا نافرمان قرار دے کر انہیں اپنے عہدے سے برطرف کریں۔ اس کے بعد عمران خان کو الشفا ہسپتال منتقل کرنے کے لئے عدالتی افسر مقرر کریں۔ دوسری طرف وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ تحریک انصاف اور عمران خان کی بہنوں کے بیانات کو ’عدالتی حکم‘ کی خلاف ورزی قرار دے کر انہیں توہین کا مرتکب قرار دے رہے ہیں تاہم حکومت نے ابھی ان لوگوں کے خلاف توہین عدالت کی پٹیشن دائر نہیں کی ورنہ اس تماشے کی دلچسپی میں مزید اضافہ ہوجاتا۔
حکومت کے رویےاور سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد سے دیے گئے بیانات سے مسلسل یہی تاثر ملتا رہا ہے کہ حکومت کے لیے اس فیصلے پر عمل کرنا ممکن نہیں ہوگا لیکن یہ بھی واضح تھا کہ حکومت نہ تو اس بارے میں اپنی پالیسی واضح کرنا چاہتی ہے اور نہ ہی یہ کہنا چاہتی ہے کہ وہ درحقیقت بے بس ہے اور جہاں فیصلے ہونے ہیں، وہ اس معاملے میں لچک دکھانے پر آمادہ نہیں۔ حکومت کا خیال تھا کہ ایسے کسی اعلان سے شہباز حکومت کی طاقت اور قوت فیصلہ کا بھرم کھل جائے گا لیکن شاید حکومتی وزرا اور وزیر اعظم ہاؤس میں شہباز شریف یہ بات ماننے کے باوجود تسلیم نہیں کریں گے کہ حکومت کی غیر واضح حکمت عملی ، نامکمل اور غلط بیانات اور کمزور قوت فیصلہ کی وجہ سے یہ احساس زیادہ شدید ہؤا ہے کہ کیا اس ملک میں کوئی حکومت موجود ہے بھی؟ اسی پریشانی کا اظہار وزیر داخلہ محسن نقوی نے چند ہفتے قبل کیاتھا اور جسے آئی ایس پی آر کے بیان نے تقویت بھی دی تھی کہ حکومت اپنی اتھارٹی استعمال کرنے سے قاصر ہے۔ اب یہ تماشہ پورے ملک نے دیکھا کہ کیسے حکومت ایک قیدی کے علاج کے سوال پر لرزہ براندام رہی اور ایک معمولی عدالتی فیصلے کو افسوسناک اسکینڈل کی بنیاد بنا لیا گیا۔
حکومت نے عمران خان کے الشفا میں طبی معائنے سے گریز کے لیے اب یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اڈیالہ جیل سے ہسپتال کے راستے اور ارد گرد تحریک انصاف کے کارکن جمع تھے جس کی وجہ سے محفوظ طریقے سے عمران خان کو وہاں لانا ممکن نہیں تھا۔ البتہ حکومت چونکہ قانون پسند ہونے کی وجہ سے عدالتی حکم ماننے پر مجبور تھی لہذا وہ عمران خان کو مجبوری کے عالم میں پمز لے گئے۔ طبی معائنے کے لیے جو ٹیم بنائی گئی ، ا س میں عمران خان کی ڈاکٹر بہن اور الشفا کے دو ماہر ڈاکٹر بھی شامل کیے گئے اور جب انہیں صحت مند پایا گیا تو واپس اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔ یہ اعلان کرتےہوئے سپریم کورٹ کے اس حکم میں آڑ لینے کی کوشش کی گئی ہے کہ تحریک انصاف عمران خان کی صحت پر سیاست نہیں کرے گی اور الشفا کے باہر ہجوم جمع نہیں کیا جائے گا۔ اب عطااللہ تارڑ کا دعویٰ ہے کہ تحریک انصاف نے وہاں کارکن جمع کیے اور بیانات کے ذریعے بھی اس سوال پر سیاست کی گئی جو سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔
اس کے برعکس ڈاکٹر عظمی خان اور تحریک انصاف کے لیڈر حالات کی بالکل مختلف تصویر دکھاتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے وکلا نے اس حکومتی دعوے کو بھی مسترد کیا ہے کہ رات گئے سڑکوں پر کارکن جمع ہوگئے تھے اور الشفا کے باہر سکیورٹی صورت حال پیدا کی گئی تھی۔ غیر جانبدار رپورٹوں سے بھی اس حکومتی دعوے کی تصدیق نہیں ہوتی کہ الشفا کے راستے میں ہجوم تھا یا الشفا کے باہر تحریک انصاف نے کارکن جمع کرکے حکومت سے دست بدست ’جنگ‘ کا فیصلہ کیا ہؤا تھا۔ عدالتی حکم سے تحریک انصاف کو حسب خواہش ریلیف ملا تھا۔ اس لیے اس بات کا امکان بھی نہیں ہے کہ پارٹی عمران خان کے علاج میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتی۔ یہ سارا بوجھ حکومت کو خود اٹھانا پڑے گا۔
اگر یہ دعویٰ مان بھی لیا جائے کہ رات گئے اڈیالہ سے الشفا جانےو الے راستے پر تحریک کے کارکن یا عمران خان سے محبت کرنے والے جمع ہوگئے تھے، تو بھی اس خراب حالت کا فیصلہ بہر حال سپریم کورٹ ہی پر چھوڑنا چاہئے تھا تاکہ عدالت عظمی کے جج یہ دیکھ سکتے کہ کیا واقعی تحریک انصاف نے حکم کے برعکس اس معاملہ پر سیاست کی ہے۔ اس حکم میں عدالت نے حکومت کو موقع پر فیصلے کرکے عدالتی رائے کے برعکس اقدام کرنے کا حق و اختیار تفویض نہیں کیا تھا۔ اس کے علاوہ حکومت کے پاس تمام انتظامی اختیارات اور انہیں نافذ کرنے کی اہل سکیورٹی فورسز موجود ہوتی ہیں۔ کیا ملک کی مرکز ی حکومت اتنی بے بس اور کمزور ہوچکی ہے کہ وہ ایک بیمار قیدی کو عدالتی حکم پر کسی خاص مقام تک پہنچانے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتی۔ حکومتی اعلانات سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت اس موقع پر جمع ہونے والے لوگوں کی وجہ سے بے بس تھی۔ پھر ایسی حکومت کو اپنی بے بسی اور ناکامی کا اعتراف کرکے اقتدار سے علیحدہ ہونا چاہئے۔ دوسروں پر الزام عائد کرکے اپنی خفت مٹانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔
عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کے بارے میں عدالتی فیصلہ دو بنیادی اصولوں پر استوار تھا: ایک یہ کہ کسی بھی قیدی کو اس کی خواہش کے مطابق علاج کی سہولت ملنی چاہئے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور اب بھی ایک مقبول لیڈر ہیں۔ انہیں حسب خواہش طبی سہولتوں سے انکار کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا۔ سپریم کورٹ کے ججوں نے شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس معاملہ میں حکومتی طرز عمل کے بارے میں سخت ریمارکس نہیں دیے بلکہ میانہ روی سے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی۔ عدالت نے اس کے ساتھ ہی اس اصول پر اصرار کیا کہ کسی لیڈر کی صحت یا بیماری پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ اسی لیے تحریک انصاف کو طبی رپورٹس کی تشہیر نہ کرنے اور بیانات جاری کرنے سے گریز کا حکم دیا گیا تھا۔ لیکن بدقسمتی تحریک انصاف کی بجائے حکومت اور اس کے نمائندوں نے اس سوال پر سیاست کی اور ہر لحظہ بدلتے بیانات کے ذریعے پورا ہفتہ بے یقینی کی فضا قائم رکھی۔ اس کا نقصان بنیادی طور پر حکومت ہی کو برداشت کرنا پڑے گا لیکن کسی سرکاری سیاسی عہدے دار میں اس کا اعتراف کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔
عمران خان کے مناسب علاج کے حوالے سے حکومتی مؤقف کمزور اور غیر انسانی ہے۔ عمران خان کو یہ حق حاصل ہونا چاہئے کہ ان کی تشفی اور ان کے اہل خاندان کے اطمینان کے مطابق ان کا علاج ہو۔ اگر وہ الشفا میں علاج کرانا چاہتے ہیں تو حکومت کو اس بارے میں عذر تراش کر غیر ضروری بدحواسی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اب اگر سپریم کورٹ نے نظر ثانی کی اپیل مسترد کردی اور عمران خان کو الشفا لانے کا حکم جاری کردیا تو حکومت اور اس کے وزرا کی رہی سہی عزت و آبرو بھی خاک میں مل جائے گی۔ اس کے لیے توہین عدالت کے سوال کسی باقاعدہ سزا کی ضرورت نہیں ہوگی۔
حکومت کو نوٹ کرنا چاہئے کہ عمران خان کا خاندان صرف ان کے علاج اور باقاعدہ ملاقاتوں پر اصرار کررہا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس ضرورت اور خواہش کو تسلیم کیا ہے۔ حکومت البتہ اس بنیادی انسانی ضرورت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ یہ رویہ موجودہ حکومت کی قوت فیصلہ کے علاوہ اس کی اخلاقی پوزیشن کے بارے میں بھی سوال پیدا کرتا ہے۔
( بشکریہ :کاروان ۔۔ناروے )
پیر, اگست 24, 2026
تازہ خبریں:
- سوشل میڈیا پرتضحیک اور کردار کشی : لائیکس کے لیے شخصیت داؤ پر نہ لگائیں ۔۔ پروفیسر صابر جروار کا کالم
- آمریت پہاڑ نہیں: محض ریت کی دیوار ہے : فہیم عامر کا تجزیہ
- عمران خان کی بیماری پر سیاست اور حکومت کی بدحواسی :سید مجاہد علی کا تجزیہ
- راولپنڈی میں خاتون کی باتھ روم سے لاش برآمد، شوہر اور ملازم گرفتار
- ہائبرڈ اور آمرانہ نظام مستقل نہیں چلتے : ارشد بٹ ایڈووکیٹ کا تجزیہ
- مجھے عمران خان کا حامی کس نے بنایا ؟ حکمرانوں سے ایک سوال :کمالیات / کمال ایوب صدیقی کا کالم
- معاشی خللِ تَوَجُّہ یا انحرافِ توجہ؟؟ : کیا ہم پر قرضوں کا بوجھ واقعی کم ہو گیا ہے ؟ فہیم عامر کا کالم
- انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کے بعدپاکستان میں گستاخی کے مقدمات میں دو تہائی کمی آئی : رائٹرز کی رپورٹ
- حکومت نے خان کی ہسپتال یاترا کرا دی : رات گئے چیک اپ علی الصبح سخت سیکیورٹی میں جیل واپس
- بیان مزید دربارہ سود و زیاں : وجاہت مسعود کا مکمل کالم

