Author: ایڈیٹر

اس اضافے سے عوام کے سفری اخراجات کے ساتھ ساتھ مال برداری، زرعی شعبے، بجلی کی پیداواری لاگت اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں پر بھی مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔

بائیس سالہ اشفاق احمد جی پی او کی طرف سے سائیکل دوڑاتے ہوئے زمزمہ توپ کی طرف آئے اور سڑک کے بیچوں بیچ آرائشی چار دیواری پر پاﺅں ٹکا کر پرجوش لہجے میں اعلان کیا کہ پاکستان کے ڈاک ٹکٹ چھپ کر ڈاک خانے میں پہنچ گئے ہیں۔ دیکھئے، نمود عشق میں معمولی سا واقعہ بھی کیسی جذباتی کیفیت میں ڈھل جاتا ہے۔

جس روز آئینی عدالت کے سربراہ کا آئینی بالادستی کے بارے میں روح افز ابیان شائع ہؤا ہے ، اسی روز یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ آئینی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو سپریم کورٹ کی طرف سے نجی ہسپتال میں علاج کرانے کی سہولت فراہم کرنے کے حکم کی تمام دستاویزات طلب کرلی ہیں۔

اب لگتا یہ ہے کہ امریکہ موجودہ دور میں عالمی تھانیداری (Global Policing) کے ہردم مہنگے ہوتے ہوئے کردار کو ترک کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے اور امریکہ کی جانب سے “پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اجتماعی سلامتی ایگریمنٹ” جیسے علاقائی سلامتی کے معاہدوں کی حمایت اسی بات کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے، تو نئی ابھرتی ہوئی عالمی صورتحال میں دیکھنا یہ ہے کہ اب یک طرفہ سلامتی کے روایتی امریکی ماڈل کو اہمیت باقی رہتی ہے یا چین کی مشترکہ اجتماعی سلامتی پالیسی تسلیم کی جاتی ہے؟

نوٹی فکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 42 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد قیمت 380 روپے 24 پیسے کی سطح پر پہنچ گئی۔
اس کے علاوہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 6 روپے 10 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے

حکمرانوں اور عوام کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کی بجائے انہیں مسلسل بڑھایا جارہا ہے۔ یہ فاصلے بد اعتمادی اور ہیجان پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ سیاسی مکالمہ اور جواب دہی کا طریقہ سنسر اور دیگر پابندیوں کے ذریعے یوں ہی ختم کیا جاچکاہے۔ اس صورت حال کو ’نیو نارمل‘ کر کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ملکی استحکام اور قومی سلامتی کا سوال ہے۔

اسلام آباد کی حدود میں اسکا اطلاق آئندہ پیر اور منگل کی درمیانی شب کردیا جائے گا جبکہ پورے پاکستان میں بشمول کشمیر اور گلگت بلتستان، اسکا اطلاق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب میں کیا جائے گا۔

لیکن جیسا میں نے کہا کہ یہ بنکاک کا محض ایک چہرہ ہے۔ اگر آپ ثقافت، تاریخ یا کھیل کے دلدادہ ہیں تو یہ شہر آپ کا دل موہ لے گا۔ سونے کے پانی سے بنے ہوئے مندروں سے لے کر مہاتما بدھ کی مورتیوں تک اور میلے ٹھیلوں سے لے کر کِک باکسنگ کے عالمی مقابلوں تک، بنکاک وہ سب کچھ پیش کرتا ہے جو کسی اور شہر میں نہیں۔ یہاں لوگ پلاسٹک سرجری کروانے آتے ہیں، ہر دوسری عورت نے یہاں ’فِلرز‘ لگوائے ہوئے ہیں اور بندے یہاں میک اپ کر کے یوں پھرتے ہیں کہ لڑکی کا گمان ہوتا ہے، انہیں لیڈی بوائے بھی کہا جاتا ہے۔ جنس تبدیل کروانے کی پوری صنعت بنکاک میں ہے۔ کھانے پینے کے معاملے میں بھی یہ شہر کمال ہے، سستا اور اچھا کھانا بنکاک کا طرہ امتیاز ہے۔ ساٹھ بھات (تقریباً ساڑھے پانچ سو روپوں ) میں آپ کسی شاپنگ مال کے فوڈ کورٹ میں بیٹھ کر اچھا کھانا کھا سکتے ہیں اور اگر اِس سے بھی کم پیسوں میں کھانا ہو تو سڑک کے کنارے ریڑھی سے بار بی کیو کھا لیں۔ اِس سے سستا صرف فاقہ۔

اس وقت دنیا بلاشبہ امریکہ جیسی سپر پاور کے غلط فیصلوں اور صدر ٹرمپ جیسے عاقبت نااندیش لیڈر کی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے لیکن یہ بھی واضح ہورہا ہے کہ کوئی ابھی اس غلط حکمت عملی کو چیلنج کرنے پر تیار نہیں ہے۔ گویا دنیا میں امریکہ کا متبادل موجود نہیں۔ لہذا سعودی عرب ہو یا چین ، اسے اپنے مستقبل کے لیے واشنگٹن کی طرف ہی دیکھنا پڑتا ہے۔