Author: ایڈیٹر

اپنے رسالے ” اوراق“ کے ذریعے قریباً چالیس سال تک متعدد نئے لکھنے والوں کو اعتماد اور قوت اظہار عطا کیا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی میں ہی ان کے ادبی کام پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات لکھے جا چکے تھے۔ صدر پاکستان نے انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا۔

میچ ختم ہونے کی سیٹی کے بعد پاریڈیس، سپین کے روڈری، گاوی اور بورخا ایگلیسیاس کے ساتھ جھگڑوں میں ملوث رہے جبکہ ان کے ساتھی ناویل مولینا کو بھی ایک گزرتے ہوئے سپین کے کھلاڑی پر مکا برساتے دیکھا گیا۔

ماہرین کے مطابق اگر عالمی منڈی میں اچانک قیمتیں کم ہو جائیں تو پہلے سے مہنگے داموں درآمد کیا گیا لاکھوں ٹن اسٹاک کم قیمت پر فروخت کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے درآمد کنندگان اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اگر یہ صورتحال بار بار پیدا ہوئی تو کمپنیاں بڑے ذخائر رکھنے کے بجائے محدود درآمد کو ترجیح دے سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں کسی ہنگامی صورتحال یا جہازوں کی آمد میں تاخیر کی صورت میں ملک کے بعض علاقوں میں پٹرول کی عارضی قلت پیدا ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

نورین خان کی دلیل یہ ہے کہ پاکستان سے اسرائیل کو تسلیم کرانے کے لیے ’جنگ کا ڈرامہ‘ رچایا گیا تھا اور پاکستانی فوج کو ’نام نہاد فتح‘ دلوائی گئی تھی تاکہ پاکستانی فوج کے وقار میں اضافہ ہو اور وہ اس کا فائدہ اٹھا کر اسرائیل کو تسلیم کرلے۔ تو سب سے پہلا سوال تو یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ جنگ کسی دس بیس سالہ منصوبہ کا حصہ تھی؟ کیوں کہ پاکستان نے تو ابھی تک نہ اسرائیل کو تسلیم کیا ہے بلکہ اس کا کوئی اشارہ بھی نہیں دیا۔

علی پرویز نے کہا حکومت پیٹرولیم مصنوعات کوڈی ریگولیشن کی طرف لےجارہی ہے، وزیراعظم اور کابینہ نے فیصلہ کیا کہ اوگرا روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کرے گی، اوگرا روزانہ کی قیمتوں کا تعین کرکے ویب سائٹ پر لگایا کرے گی۔

گزارش ہے کہ آج کل اچھی بھلی، ہٹی کٹی بھینس بھی مہنگائی کے ہاتھوں پچک کر بکری معلوم ہوتی ہے۔ ویسے بھی یہ دنیا ہے پیارے! یہاں ہم نے اچھے اچھے ‘سانڈ نما’ سورماؤں کو حالات کے آگے بھیگی بلی بنتے دیکھا ہے۔

ہ آصف علی زراری کے قریب ترین دوستوں میں سے ایک ڈاکٹر ذوالفقار علی مرزا کو رحمن ملک مرحوم کے رویے کی وجہ سے ڈرامائی پریس کانفرنسوں کے بعد آصف علی زرداری سے دوری اختیار کرنا پڑگئی تھی۔ رحمن ملک مگر اپنے عہدے پر قائم رہے۔ وزارت داخلہ میں ’’کچھ تو ایسا ہے‘‘ کہ جو بھی شخص وہاں بیٹھا ہو ’’مستقل‘‘ ہوا محسوس ہوتا ہے۔