اگر ایک وزیر کو اعلیٰ سول اعزاز ملتا ہے تو عوام کو یہ جاننے کا حق کیوں نہ ہو کہ اس نے اپنے عہدے کے معمول کے فرائض سے بڑھ کر ایسا کون سا کام کیا جس کی بنیاد پر اسے اس درجے کا قومی اعزاز دیا گیا؟ اگر ایک اعلیٰ سرکاری افسر کو اعزاز دیا گیا تو اس کی ایسی کون سی کارکردگی تھی جو اسے اسی شعبے کے دوسرے افسران سے ممتاز کرتی ہے؟
Author: ایڈیٹر
یہ داستان ترک روایت میں "Üç Turunçlar” کے نام سے بھی جانی جاتی ہے اور اس کی کئی علاقائی صورتیں موجود ہیں؛ بعض روایات میں نارنجی کی جگہ لیموں، انار یا دوسری اشیا بھی آتی ہیں۔ ترک لوک کہانیوں کے معروف مجموعے میں Ignác Kúnos کی جمع کردہ "The Three Orange-Peris” بھی شامل ہے۔
77 سال تک پاکستان کو اسلامی ریاست بنا کر عوام کی ضرورتیں پورا کرنے کی باتیں کی جاتی رہی ہیں۔ فوجی آمر تو اقتدار سنبھالتے ہوئے اپنے فعل کو درست قرار دینے کے لیے یہ نعرہ لگاتے رہے لیکن دھیرے دھیرے تمام سیاست دانوں نے بھی انہی نعروں میں پناہ لینے کو اپنی سیاست کی کامیابی کے لیے ضروری سمجھا۔
ایک اور دلچسپ منظر دیکھیے۔ جنہیں اعزاز نہیں ملتا وہ کہتے ہیں، "ہم تو ایوارڈ کے لیے کام ہی نہیں کرتے۔”
اور اگر اگلے سال انہی کو اعزاز مل جائے تو فرماتے ہیں، "یہ دراصل میری عمر بھر کی خدمات کا اعتراف ہے۔”
یعنی ایوارڈ مل جائے تو تاریخی فیصلہ، نہ ملے تو رسمی کارروائی!
اس کی ارمغانی پگڑی کے نیچے ماتھے پر پسینہ چمکا۔ اس نے ایک نظر صدیقہ کو دیکھا، ایک نظر گوپال کے جتھے کو اور اس کی نگاہیں زمین میں گڑ گئیں۔ اس میں گوپال سے بھڑنے کی ہمت نہیں تھی۔ کبھی نہیں تھی۔ اس کے قدم آپ ہی آپ پیچھے ہٹنے لگے۔
چوہدری رحمت علی جنوبی ایشیا میں دس نئی مسلم ریاستوں کی کامن ویلتھ قائم کرکے اکھنڈ بھارت اور رام راج کے منصوبے کو ناکام بنانا چاہتے تھے۔ انکی سوچ کو آج کچھ لوگ غیر حقیقت پسندانہ ضرور کہیں گے لیکن وہ دراصل اکھنڈ بھارت کے منصوبے کیخلاف مزاحمت کر رہے تھے جسکا نقشہ آج بھارتی پارلیمنٹ میں آویزاں ہے۔
دو ہزار چھبیس کی گلوبل پاور انڈیکس کے مطابق میثاقِ مکہ میں شامل تینوں ممالک کی مشترکہ فوج لگ بھگ چودہ لاکھ ہے۔ ان کے پاس مجموعی طور پر تین ہزار چار سو طیارے ، چھ ہزار ٹینک اور تین سو چالیس بحری اثاثے ہیں۔ ترکی کا دفاعی بجٹ اکیاون اعشاریہ چار بلین ڈالر ہے اور وہ ناٹو اتحاد میں امریکا کے بعد سب سے بڑی فوج رکھتا ہے۔ سعودی دفاعی بجٹ چونسٹھ ارب ڈالر اور پاکستان کا دفاعی بجٹ نو اعشاریہ ایک بلین ڈالر ہے۔
اگر مذہب کو سیاسی ہتھکنڈا بنا کر اسے آمرانہ طرز عمل اختیار کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہے گا تو تناؤ، پریشانی، بداعتمادی اور بے یقینی میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ پھر لوگ پاکستان سے محبت کرنے کی بجائے، وہاں سے بھاگنے کے راستے تلاش کریں گے۔ جنہیں یہ راستہ نہیں ملے گا، وہ تخریب کاروں کا آلہ کار بنیں گے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو عملی اعتبار سے مارچ 1990ء ہی میں فارغ ہوگئی تھیں۔ اس کا رسمی اعلان اگرچہ اگست 1990ء میں ہوا۔ اس جانب توجہ دلاتے ہوئے یہ خاکسار محض یہ جاننا چاہ رہا تھا کہ شہباز شریف صاحب کا ’’مارچ 1990‘‘ ہوچکا ہے یا نہیں۔
زندگی واقعی خوبصورت ہے، بس اسے خوبصورت بنانے کے لیے انسان کو کچھ غیر ضروری خوف، کچھ جھوٹی سماجی دیواریں اور کچھ طاقتور لوگوں کے بنائے ہوئے مفروضے توڑنے پڑتے ہیں۔
