ماہرین اور سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کو اپنی وزارت عظمی کے 12 برس میں پہلی بار حقیقی عوامی احتجاج کا سامنا ہورہا ہے ۔ اس احتجاج میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔
ازراہ تفنن کہا گیا ایک فقرہ اب بھارتی سیاست کی ایک ایسی حقیقت بن چکا ہے جو نریندر مودی کی طاقت ور کرسی کوہلا سکتی ہے۔ لگتا ہے ملک کے سب’ کاکروچ ‘ اب جمع ہورہے ہیں۔
Browsing: لکھاری
جب اُن کا اپنا انتقال ہوا تو سینکڑوں لوگوں میں سے کوئی بھی ایک شخص ایسا نہ تھا کہ جس کو ہم پروفیسر شوکت مغل کا متبادل جان کر اُس سے افسوس کرتے! اس خطے میں اپنے تحقیقی اور تنقیدی کام کے حوالے سے ایک ہی نام پروفیسر شوکت مغل کا تھا جس نے کئی اداروں کا اکیلے بیٹھ کر کیا۔
دربار کے پہلو میں ایک بار پھر عظیم الشان مدرسہ اور جدید لائبریری قائم کی جائے تاکہ آنے والی نسلیں اپنے اسلاف کے علمی ورثے سے مستفید ہو سکیں۔ یہ صرف ایک عمارت کی تعمیر نہیں ہوگی بلکہ یہ ایک تحریک ہوگی جو وسیب کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی کی طرف لے جائے گی۔
کاش کوئی دیانتدار ماہر معیشت یہ پتہ بھی لگائے کہ پٹرول کی قیمت طے کرنے سے ’حکومت کو الگ کرنے والے‘ سرکاری افسران میں سے کتنے بڑے ناموں والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر بھی ہیں اور انہیں ان کے اجلاس میں شرکت کے لئے کیا نذرانہ پیش کیا جاتا ہے۔
اپنے رسالے ” اوراق“ کے ذریعے قریباً چالیس سال تک متعدد نئے لکھنے والوں کو اعتماد اور قوت اظہار عطا کیا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی میں ہی ان کے ادبی کام پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات لکھے جا چکے تھے۔ صدر پاکستان نے انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا۔
میچ ختم ہونے کی سیٹی کے بعد پاریڈیس، سپین کے روڈری، گاوی اور بورخا ایگلیسیاس کے ساتھ جھگڑوں میں ملوث رہے جبکہ ان کے ساتھی ناویل مولینا کو بھی ایک گزرتے ہوئے سپین کے کھلاڑی پر مکا برساتے دیکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق اگر عالمی منڈی میں اچانک قیمتیں کم ہو جائیں تو پہلے سے مہنگے داموں درآمد کیا گیا لاکھوں ٹن اسٹاک کم قیمت پر فروخت کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے درآمد کنندگان اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اگر یہ صورتحال بار بار پیدا ہوئی تو کمپنیاں بڑے ذخائر رکھنے کے بجائے محدود درآمد کو ترجیح دے سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں کسی ہنگامی صورتحال یا جہازوں کی آمد میں تاخیر کی صورت میں ملک کے بعض علاقوں میں پٹرول کی عارضی قلت پیدا ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
نورین خان کی دلیل یہ ہے کہ پاکستان سے اسرائیل کو تسلیم کرانے کے لیے ’جنگ کا ڈرامہ‘ رچایا گیا تھا اور پاکستانی فوج کو ’نام نہاد فتح‘ دلوائی گئی تھی تاکہ پاکستانی فوج کے وقار میں اضافہ ہو اور وہ اس کا فائدہ اٹھا کر اسرائیل کو تسلیم کرلے۔ تو سب سے پہلا سوال تو یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ جنگ کسی دس بیس سالہ منصوبہ کا حصہ تھی؟ کیوں کہ پاکستان نے تو ابھی تک نہ اسرائیل کو تسلیم کیا ہے بلکہ اس کا کوئی اشارہ بھی نہیں دیا۔
پاکستان میں نام نہاد ہائبرڈ نظام حکومت نے ملکی سیاسی منظر نامہ میں غیر یقینی پیدا کی ہے لیکن ایران امریکہ جنگ اور تیل کی بڑھتی…
گزارش ہے کہ آج کل اچھی بھلی، ہٹی کٹی بھینس بھی مہنگائی کے ہاتھوں پچک کر بکری معلوم ہوتی ہے۔ ویسے بھی یہ دنیا ہے پیارے! یہاں ہم نے اچھے اچھے ‘سانڈ نما’ سورماؤں کو حالات کے آگے بھیگی بلی بنتے دیکھا ہے۔
