لکیر حب الوطنی اور غداری کے کے بیچ واضح کی جارہی ہے۔ لیکن اسے نمایاں کرنے کی وجوہات کا تعین کرنے کا اختیار ’ریاست‘ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ بدنصیبی سے ہر گزرنے والے دن کے ساتھ لوگوں کی بڑی تعداد اس نادیدہ ریاست کے ساتھ اپنے تعلق و شناخت کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہورہی ہے۔ اور یہاں آباد 25 کروڑ لوگ اس دوران اس مشکل میں ہیں کہ کس آئینے میں اپنا عکس تلاش کریں۔ وہ جو آئین کی کتابوں تک محدود ’ریاست‘ دکھاتی ہے یا وہ جو ہزاروں سال کا تہذیبی ورثہ انہیں فراہم کرتا ہے۔
( تجزیئے کا لنک پہلے کمینٹ میں دیئے گئے )
Browsing: لکھاری
اسلام آ باد کے ہر سیکٹر میں تقریباََ روزانہ کی بنیاد پر نیٹ میٹر کے گرد لپٹی تاریں کاٹی جارہی ہیں۔ میں شرمسار ہوں کہ برسوں سے اخبارات کا پلندہ نہایت توجہ سے ختم کرنے کے باوجود مجھے ’’جرم‘‘ کی اس قسم کا کبھی علم نہیں ہوا۔
تحریک انصاف کے بانی رہنما کے ساتھ ملاقاتوں پر پابندی کی وجہ سے خاص طور سے جھوٹ پھیلانے والے ،بے بنیاد خبریں عام کرکے ملک میں مزید مایوسی و پریشانی پیدا کررہے ہیں۔ حکومتی اہلکاروں کی باتوں سے لگتا ہے کہ وہ اس صورت حال کا مزہ لے رہے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ تحریک انصاف کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور اس کی قیادت ایک دوسرے سے الجھنے میں زیادہ مصروف ہے۔
اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ کتابیں بڑی بڑی اے آئی کمپنیاں خرید رہی ہیں۔ انہیں ہائی اسپیڈ سکینرز سے کاپی کر رہی ہے اور پھر ہائیڈرولک کٹرز سے کاٹ کے گودا بنا رہی ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے کہ یہ کمپنیاں کتابوں کو کاپی کرنے کے بعد ہارڈ کاپی محفوظ کرنے کے بجائے ضائع کر رہی ہیں۔
ہر صوبے میں تھانے ہوں گے۔ ایس ایچ او صاحبان ہوں گے اور وہ لوگ بےشمار ہوں گے۔ عدالتیں ہوں گی۔ ایک صوبائی بڑی عدالت ہوگی جس کا کوئی جج صوبائی عدالت کا چیف جسٹس ہوگا۔ وہ جج صاحب نئی صوبائی حکومت کی پسند کا ہوگا۔
پاکستان اگر بھارت کے ساتھ کسی تنازعہ میں ملوث ہوتا ہے تو معاہدے کے تحت دیگر ملکوں کو اس جنگ میں شامل ہونے پر مجبور نہیں کرسکتا بلکہ ترکیہ اور سعودی عرب خود مختارانہ طور پر یہ طے کرنے کے مجاز ہوں گے کہ کیا واقعی پاکستان پر حملہ ہؤا ہے اور کیا انہیں بھی اس جنگ میں ملوث ہونا چاہئے۔
اس بیان کو ایک تنبیہ، ایک اعتراف یا ایک اصلاحی دعوت جس زاویے سے بھی دیکھا جائے۔اس نے ریاستی نظام کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات ضرور اٹھائے ہیں۔
پنجاب کے مہاراجوں کو گھوڑوں کا شوق تھا، پاکستان کے حکمرانوں کو نئے نئے نظام لانے اور سب کچھ بدلنے کا شوق ہے۔ شوق تو شوق ہے اس کی جتنی بھی قیمت ادا کرنی پڑے ادا کی جاتی ہے۔
پاکستان کے سیاسی نظام میں اپر مڈل کلاس تک کے آدمی کی رسائی صرف اور صرف ووٹر کی حد تک ہے اور اس کے ووٹ کے ساتھ کیا ہوتا ہے ووٹ دیتے وقت بیچارے کو خود یقین ہی نہیں ہوتا کہ جو جس جماعت کو ووٹ دے رہا ہے اس کے ووٹوں کی تعداد کی وجہ سے اگر وہ جیت پاتی بھی ہے یا نہیں یا اس سے جیتنے دیا جاتا بھی ہے یا نہیں کیونکہ پاکستان کے سیاسی نظام میں ایک مذاق کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں اہم ووٹ دینے والا نہیں بلکہ ووٹ گننے والا ہے
اگر کسی ایشر سنگھ گریوال نے سرگودھا آنا ہے تو سو دفعہ آئے، ہم اُس کا راستہ روکنے کے بجائے خود اُسے وہاں تک لے جائیں گے جہاں کبھی ملکہ دلفریب رہا کرتی تھی۔ وہ فلم میں وعدہ کرتا ہے کہ ”میں واپس آؤں گا“۔ ہم اِس وعدے کے دوسرے سرے پر بانہیں کھولے کھڑے ہیں اور ہمارے پاس کہنے کو بس ایک ہی جملہ ہے: جی آیاں نوں!
