یہ کتاب یاد دلاتی ہے کہ زندگی کی معنویت محض ذاتی کامیابیوں، آسائشوں اور مرتبے میں نہیں، بلکہ اس شعور میں پوشیدہ ہے جو انسان کو اپنی ذات سے آگے بڑھ کر دوسروں کے لیے سوچنے، اجتماعی مسائل کو سمجھنے اور اپنے وسائل کو بامقصد بنانے کی طرف مائل کرتا ہے۔
Browsing: لکھاری
اگر ہم گریئرسن کی کلاسیکی تقسیم کو سامنے رکھیں تو پنجابی کی بولیاں معیاری پنجابی ماجھی، مالوی، دوآبی ہیں
جبکہ شاہ پوری، جھنگوچی، پوٹھوہاری، ہندکو لہندا یا موجودہ سرائیکی کی بولیاں ہیں ۔
قارئین کی دلچسپی کے لیے وہ تمثیل پیش کر رہا ہوں جس کا جارج گریئرسن نے برصغیر کی تمام بولیوں میں ترجمہ کروایا تھا۔ فضول خرچ…
جنرل مشرف نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے بجائے اسے معطل رکھنے کا اعلان کیا۔ قومی اسمبلی کی تحلیل کے بجائے معطلی ایک حیران کن مگر بہت کائیاں چال تھی۔ وہ اسے تحلیل کردیتے تو نئے انتخاب کی تاریخ دینا پڑتی اور نئے انتخاب جنرل مشرف کی ترجیح نہیں تھے۔
مولانا اور خان صاحب کو قریب لانے کا کریڈٹ شہباز شریف کو جاتا ہے۔ جس طرح خان کو حکومت سے فراغت کے بعد مولانا کی اہمیت کا احساس ہوا اسی طرح مسلم لیگ ن کو بھی حکومت سے فراغت کے بعد ہی مولانا یاد آئیں گے لیکن شاید مولانا دوبارہ انکے جال میں نہ پھنسیں گے۔
معصوم یتیم بچے کی ہلاکت اور اس کے بعد ضلع کچہری میں وکلا کے ہاتھوں ملزم کی پٹائی اور بعد میں پولیس حراست میں اس کی پراسرار ہلاکت، ایک ہی تصویر کے مختلف رخ ہیں۔ یہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور متشدد رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔
گریئرس صاحب کا Linguistic Survey of India کل 11 جلدوں اور 19 حصوں پر مشتمل ہے، 9500 سے زیادہ صفحات ہیں ۔ اس کا خلاصہ درج…
آمریت کا چکر مکمل ہونے پر قوم وہیں کھڑی ملتی ہے جہاں سے انحراف کیا تھا۔ آج ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ ہم گزشتہ غلطیوں سے رجوع کر رہے ہیں۔ وقت فیصلہ کرے گا کہ ہم غلطیوں سے رجوع کر رہے ہیں یا غلطیوں کا اعادہ کر رہے ہیں
مولانا چونکہ ہوشیار سیاسی کھلاڑی ہیں، اس لیے انہوں نے خاص طور سے خیبر پختون خوا میں اپنی سیاسی ناکامی کا حوالہ دینے کی بجائے قومی سطح پر انتخابی دھاندلی کے بیانیہ کا حصہ بننا بہتر سمجھا تاکہ ان کی باتوں کو جمہوریت اور آئینی انتظام کے ساتھ ان کی وفاداری سے تعبیر کرایا جائے۔
جارج گریئرسن نوآبادیاتی افسر ضرور تھے، لیکن انہوں نے بندوق کی جگہ قلم سے برصغیر کی خدمت کی – انہوں نے ان زبانوں کو لکھ کر محفوظ کیا جنہیں اس وقت کوئی لکھنے والا بھی نہ تھا۔
