کبھی کبھی وقت انسان کو اپنی ہی رائے کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔ جس شخص سے آپ کل تک اختلاف کرتے تھے، اس کے فیصلوں پر سوال اٹھاتے تھے، اس کے لہجے سے الجھتے تھے، اچانک حالات کا رخ بدلتا ہے اور اسی شخص کے لیے دل میں ہمدردی پیدا ہونے لگتی ہے۔ عمران خان کے معاملے میں میرے ساتھ شاید کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔
میں عمران خان کا اندھا حامی کبھی نہیں رہا۔ جب وہ وزیراعظم تھے تو ان کے بہت سے فیصلوں اور سیاسی رویوں سے مجھے اختلاف تھا، لیکن سب سے زیادہ اعتراض ان کے اس لہجے پر تھا جس میں سیاسی مخالفین کے لیے سخت الفاظ استعمال ہوتے تھے۔ ان کی سیاست میں کبھی کبھی یہ تاثر بہت نمایاں ہوجاتا تھا کہ جو میرے ساتھ ہے وہ درست ہے اور جو میرے ساتھ نہیں، وہ غلط ہے۔ مخالفین کو برا بھلا کہنا، ان کے بارے میں تحقیر آمیز انداز اختیار کرنا اور اپنے کارکنوں کے جذبات کو مخالفین کے خلاف بھڑکانے والی گفتگو کرنا مجھے اس وقت بھی پسند نہیں تھا اور آج بھی نہیں ہے۔ سیاست میں اختلاف ہونا فطری ہے، لیکن اختلاف کو دائمی نفرت میں بدل دینا کسی بھی مقبول رہنما کے لیے بلا تفریق نقصان دہ ہی ثابت ہوتا ہے۔
مگر پھر اگست 2023 آیا اور عمران خان کی زندگی کا ایک ایسا باب شروع ہوا جو آج تقریباً تین سال بعد بھی ختم نہیں ہوا۔ مقدمات، سزائیں، اپیلیں، ملاقاتوں کے مسائل اور صحت کے معاملات اس قید کا حصہ بنتے رہے۔ حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ نے صحت کے معاملے پر انہیں شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تو بظاہر یہ ایک طبی ریلیف تھا، مگر اس کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر ایک دوسری ہی کہانی چل نکلی۔
بعض حامی اکاؤنٹس نے ماضی کے بیانات نکال کر ایسے دعوے اور قیاس آرائیاں شروع کردیں جیسے پاکستان کی سیاست کا نقشہ چند گھنٹوں میں بدلنے والا ہو۔ کہیں یہ تاثر دیا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ نے گھٹنے ٹیک دیے ہیں، کہیں کہا گیا کہ خان اڈیالہ سے شفا جائیں گے، شفا سے بنی گالا پہنچیں گے اور پھر بنی گالا سے سیدھا وزیراعظم ہاؤس کا راستہ کھلے گا۔ یعنی ایک طبی منتقلی کو دیکھتے ہی بعض لوگوں نے سیاسی واپسی کی پوری کہانی لکھ ڈالی۔ امید رکھنا کارکنوں کا حق تھا، لیکن قیاس کو یقین اور خواہش کو خبر بنا دینا شاید وہ مقام تھا جہاں جذبات نے سیاسی سمجھ بوجھ کو پیچھے چھوڑ دیا۔
پھر ہسپتال کے باہر کارکنوں کا اجتماع اور پیدا ہونے والی سکیورٹی صورتحال سامنے آئی اور عمران خان طبی معائنے کے بعد دوبارہ جیل پہنچا دئیے گئے۔ یہاں حکومت سے سوال اپنی جگہ، مگر خان کے اپنے کارکنوں سے بھی ایک سوال بنتا ہے کہ اگر آپ واقعی عمران خان کو جیل سے باہر دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر ایسا طرزِعمل کیوں اختیار کرتے ہیں جو خود ان کے لیے مشکلات پیدا کردے؟ لیڈر سے وفاداری کا مطلب ہر افواہ کو فتح اور ہر سیاسی اشارے کو ڈیل قرار دینا نہیں۔ کبھی کبھی اپنے لیڈر کے لیے سب سے بڑی وفاداری اپنے جذبات پر قابو پانا ہوتی ہے۔ کسی لیڈر کے لیے لڑنے اور اپنے لیڈر کے لیے مشکلات پیدا کرنے میں بہت باریک فرق ہوتا ہے۔
لیکن انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ سارا بوجھ کارکنوں پر ڈال کر عمران خان کی اپنی سیاسی غلطیوں کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ اقتدار کے دوران ان کی سخت زبان، مخالفین کے ساتھ مسلسل محاذ آرائی اور بعد میں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف انتہائی سخت بیانیہ ان کے سیاسی سفر کا حصہ رہے ہیں۔ ممکن ہے ان کے بعض فیصلے مختلف ہوتے تو آج حالات بھی مختلف ہوتے۔ انسان کبھی کبھی اپنے لیے مشکلات کے دروازے خود بھی کھول لیتا ہے۔اس کے باوجود تقریباً تین سال سے زائد کی قید نے میرے دل میں ان کے لیے ہمدردی ضرور پیدا کی ہے۔ میں ان کی ہر بات درست نہیں سمجھتا، لیکن اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے ساتھ ہونے والی ہر مشکل کو بھی درست قرار دے دیا جائے۔ قانون اپنا راستہ لے، عدالتیں اپنا فیصلہ کریں، مگر انصاف کا معیار کسی شخص کی مقبولیت یا ناپسندیدگی نہیں ہونا چاہیے۔
عمران خان کے معاملے میں ایک اور پہلو بھی میرے لیے قابلِ غور ہے۔ پاکستان کی سیاست میں ہم نے دیکھا ہے کہ مشکل وقت میں بڑے سیاسی رہنما بیرونِ ملک چلے گئے۔ نواز شریف کی مثال ہمارے سامنے ہے،انہیں طبی بنیادوں پر لندن جانے کی اجازت ملی اور وہ علاج کے لیے ملک سے باہر چلے گئے، جبکہ اس دور میں سیاسی سمجھوتے اور ڈیل کی قیاس آرائیاں بھی ہوتی رہیں۔ عمران خان کے بارے میں بھی ایسی خبریں اور دعوے وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں کہ انہیں سمجھانے یا کسی سمجھوتے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہوئی، مگر وہ نہیں مانے۔ان دعووں کی مکمل حقیقت ہم نہیں جانتے، اس لیے انہیں حتمی سچ کہنا درست نہیں۔ لیکن اگر واقعی عمران خان نے کسی سمجھوتے کے ذریعے ملک سے باہر جانے یا اپنی سیاسی مزاحمت ختم کرنے سے انکار کیا ہے تو یہ ان کی شخصیت کا ایک مثبت پہلو ضرور سمجھا جائے گا۔ باقی حقیقت کیا ہے، یہ آنے والا وقت بتائے گا اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
تاہم ڈٹ جانا اور درست ہونا دو الگ چیزیں ہیں۔ کوئی شخص اپنے مؤقف پر مضبوطی سے قائم رہ سکتا ہے اور پھر بھی اس سے غلطی ہو سکتی ہے۔ عمران خان کو بھی اسی انسانی پیمانے پر دیکھنے کی ضرورت ہے، نہ فرشتہ بنا کر اور نہ شیطان بنا کر۔
اور یہی اصول موجودہ حکومت کے بارے میں بھی ہے۔ میری موجودہ حکومت سے بھی کوئی سیاسی وابستگی نہیں۔ جب عمران خان حکومت میں تھے تو آج اقتدار میں موجود لوگ ان کے خلاف تحریکیں چلا رہے تھے اور عوام کو بتا رہے تھے کہ ملک کے مسائل کا ذمہ دار خان ہے۔ لیکن آج عام آدمی پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ جن مسائل کے خلاف وہ تحریکیں چلا رہے تھے، کیا وہ ختم ہوگئے؟ کیا عوام کی زندگی آسان ہوگئی؟ کیا مہنگائی، ٹیکسوں، بجلی کے بلوں اور معاشی دباؤ نے عام آدمی کا پیچھا چھوڑ دیا؟
یاد رہے کوئی بھی حکومت صرف پچھلی حکومت کو ناکام ثابت کرکے کامیاب نہیں ہوتی بلکہ اسے اپنی کارکردگی سے ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ پہلی حکومت سے بہتر ہے۔ اگر عوام ہر دور میں مہنگائی اور معاشی دباؤ کی قیمت ادا کرتے رہیں تو سوال صرف عمران خان یا موجودہ حکومت کا نہیں، پورے سیاسی رویے کا ہے۔
اسی لیے میرے نزدیک اصل مسئلہ عمران خان بمقابلہ موجودہ حکومت نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں اقتدار کسی ایک جماعت، خاندان، شخصیت یا ادارے کی جاگیر نہ سمجھا جائے۔ اگر عمران خان کے پاس ملک کے لیے بہتر سوچ اور قابلِ عمل منصوبہ ہے اور عوام ان پر اعتماد کرتے ہیں تو انہیں اقتدار میں آنے کا حق ہونا چاہیے۔ اگر کوئی دوسری جماعت بہتر پروگرام لے کر آتی ہے تو اسے بھی موقع ملنا چاہیے۔ فیصلہ عوام کے ووٹ سے ہونا چاہیے۔
پاکستان کو اب اندھی محبت اور اندھی نفرت دونوں سے باہر نکلنا ہوگا۔ خان کے کارکنوں کو اپنی زبان اور رویے پر غور کرنا ہوگا، اور عمران خان کو بھی اپنے ماضی سے سبق سیکھنا ہوگا۔ اگر انہیں دوبارہ اقتدار ملتا ہے تو انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ صرف مخالفین کو شکست دینے نہیں بلکہ ایک تقسیم شدہ معاشرے کو جوڑنے کے لیے بھی سیاست کر سکتے ہیں۔
آخرکار بات عمران خان یا کسی ایک حکومت کی نہیں، پاکستان کی ہے۔ لیڈر سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر انصاف سے نہیں۔ حکومت سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر ملک سے نہیں۔ سیاسی وابستگی رکھی جا سکتی ہے، مگر عقل کو اس کی قیمت پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔
تین سال کی قید نے عمران خان کا امتحان لیا ہے، مگر یہ امتحان صرف خان کا نہیں اس کے کارکنوں کا بھی ہے، موجودہ حکومت کا بھی اور ہماری سیاسی سوچ کا بھی۔
پاکستان کسی کی جاگیر نہیں۔ جس کے پاس ملک کے لیے بہتر راستہ اور عوام کا اعتماد ہے، اسے عوام کے ووٹ سے اقتدار میں آنے کا حق ہونا چاہیے،چاہے وہ عمران خان ہو یا کوئی اور۔
مجھے عمران خان کا حامی کس نے بنایا ؟ حکمرانوں سے ایک سوال :کمالیات / کمال ایوب صدیقی کا کالم
ایڈیٹر1 Views

