18 پروازوں نے ملتان ایئرپورٹ پر لینڈ کیا جبکہ 19 پروازیں روانہ ہوئیں۔کراچی سے 135، پشاور 10، فیصل آباد 12، لاہور 105، سیالکوٹ 15، اسلام آباد 118، پشاور سے 17 پروازیں آپریٹ ہوئیں۔
Browsing: تازہ ترین
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے افراد اپنے کسی بھی ممکنہ نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے جبکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
رہبری کے منصب تک پہنچنے کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کی کوئی آواز یا تصویر جاری نہیں کی گئی اور مسعود پزشکیان کے علاوہ کسی اور سرکاری عہدے دار نے ان سے بالمشافہ ملاقات کا ذکر نہیں کیا ہے۔
نیہا بورا نے الزام لگایا کہ انہیں ڈرانے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن وہ اس سے خوفزدہ نہیں ہوں گی اور طلبہ کی تحریک جاری رہے گی۔ دوسری جانب AISA اور سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ واقعہ سیاسی مخالفت کا نتیجہ ہے، جبکہ اس الزام کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
بچی کے والد کے مطابق ملزم ان کا رشتہ دار ہے جو بچی کو چیز دلانے لے کر گیا تھا ۔ بیس منٹ بعد جب واپس آیا تو بچی کی حالت غیر تھی ۔ اہلخانہ نے پولیس حکام سے انصاف کی اپیل کی ہے۔
رانا ثنا اللہ نے ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’پراپیگنڈا کا حال یہ ہے کہ کچھ دن پہلے میرپور میں ایک واقعہ ہوا، جس میں کوئی ہلاک نہیں ہوا۔ لیکن ایک ویڈیو بنائی گئی کہ تقریباً 25 لاشیں خون میں لت پت وہاں پر موجود ہیں اور بتایا گیا کہ دیکھیں یہ قتلِ عام ہو گیا ہے اور بعد میں وہ ساری لاشیں لوگوں کو چلتی پھرتی نظر آئیں۔‘
مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق مظفرآباد لوئر پلیٹ میں حالات کشیدہ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’لوئر پلیٹ، چہلہ بانڈی اور اپر اڈہ میں کئی لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ دکانیں بند، سیاسی جماعتوں کے پوسٹرز اتار کر آگ لگائی گئی۔ مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔‘
ان کے مطابق ’’بلوچستان میں یہ جان بوجھ کر یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہاں حالات انتہائی خراب ہیں اور صوبہ ہاتھ سے نکل رہا ہے۔‘
سورینج اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں ماضی میں بھی کوئلہ کانوں میں حادثات پیش آتے رہے ہیں۔
دیگر جدید صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے کوئلے کی کانکنی بلوچستان کی بڑی صنعت ہے۔ کوئلے کی کانیں زیادہ تر کوئٹہ، کچھی، ہرنائی اور دکی کے اضلاع میں موجود ہیں
خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے جاری بیان مطابق بدھ کے روز ہونے والے حملے اور اس کے جواب میں کیے جانے والے آپریشن میں ڈی ایس پی دیار خان سمیت نو پولیس اہلکار ہلاک جبکہ ڈی ایس پی مجاہد حسین سمیت 28 اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
