وہی گھر تھا،وہی پرانی اینٹوں کی دیواریں،وہی لکڑی کا بوسیدہ دروازہ جو کھلتے ہی ہلکی سی چڑچڑاہٹ پیدا کرتا تھا اور وہی صحن جس میں دو پہر کی دھوپ ہمیشہ ایک ہی زاویے سے گرتی تھی مگر اس گھر کے اندر وقت نے نہ جانے کب سے خاموشی کا زہر گھول دیا تھا۔یہ خاموشی محض آوازوں کی غیر موجودگی نہیں تھی۔یہ ایک بھاری،دبیز موجودگی تھی جو ہر کمرے میں سانس لیتی محسوس ہوتی تھی۔دیواروں نے بھی اس گھر میں بولنا چھوڑ دیا تھا۔برتنوں کی کھنک ڈر کر چپ ہو گئی تھی۔
اس خاموشی کے پیچھے ایک ماں تھی جو اس سکوت کی سب سے بڑی خالق تھی اور اس کی پناہ گاہ بھی ۔۔
چھے برس سے ایک چھت تلے رہتے ہوئےبھی ماں بیٹی کے درمیان کوئی لفظ،کوئی سلام،کوئی نظر کا تبادلہ تک نہ تھا۔صبح ناشتے کی میز پر چائے کے کپ سرگوشی کرتے،چمچ پلیٹ سے دھیرے سے گفتگو کرتا مگر نظر کا تبادلہ نہ ہوتا۔بیٹی کمرے سے نکلتی تو ماں کی موجودگی ایسے محسوس ہوتی جیسے اچانک ہوا کا دباؤ بڑھ گیا ہو،سانس لینابھی محال ہو جاتا۔یہ خاموشی کسی وقتی ناراضی کا نتیجہ نہیں تھی یہ ایک مسلسل سزا تھی،ایسی سزا جو ہر نئے دن نئے انداز میں دی جاتی تھی،بغیر کسی لفظ کے،بغیر کسی وضاحت کے۔
باہر کی دنیا انہیں ایک اور ہی عورت کے روپ میں دیکھتی،محلے کی گلیاں ان کے قدموں کی رفتار میں خود اعتمادی کے نیچے مسکراتی تھیں۔سر پر سجا دوپٹہ،چہرے پر ہلکی مسکراہٹ اور لہجے میں نرمی جو لوگوں کو فوراً متاثر کر دیتی۔مسجد کی خواتین انہیں ایک مثالی ماں کہتیں اور رشتہ دار ان کی دین داری کی مثالیں دیتے مگر اس چمک دمک کے پیچھے گھر کا اندرونی منظر بالکل مختلف تھا۔
رات کے وقت جب گھر کی روشنیاں مدہم ہو جاتیں تو خاموشی اور بھی گہری ہو جاتی۔کچن میں برتن دھونے کی آواز دھیرے سے گونجتی،پانی کے نل سے ٹپکتی بوندیں ہولے سے کراہتیں اور اچانک سب کچھ پھر سے ساکت ہو جاتا گویا گھر سے سانس روک لی ہو۔یہاں جھوٹ ایک عادت تھا،الزام ایک ردِعمل اور خاموشی ایک فیصلہ۔
ایک مرتبہ ماں نے کسی کو بتائے بغیر اس کے رشتہ دار سے کچھ رقم ادھار لے لی مگر واپسی کے تقاضے پر ایسی چپ سادھ لی گویا وہ جانتی ہی نہ ہو کہ یہ رقم کبھی اس کے پاس آئی تھی۔دو سال گذر گئے شوہر نے اپنی محنت اور کمائی سےوہ رقم واپس کی۔ہر قسط کے ساتھ اس کے چہرے کی تھکن بڑھتی گئی مگر زبان خاموش رہی اور جس کی غلطی تھی اس نے کبھی سر نہیں جھکایا جیسے حقیقت کا وجود ہی نہ ہو۔بیٹی کے ذہن میں بچپن کی تصویریں آج بھی زندہ تھیں۔ایک کمرہ،جس کے دروازے کے پیچھے کھڑی وہ تھر تھر کانپ رہی تھی۔ماں کی آواز تیز اور سخت تھی جو دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ رہی تھی۔کبھی ہاتھ کا اٹھنا،کبھی لفظوں کا وار اور پھر وہ لمحہ جب اس نے اعلیٰ تعلیم کی خواہش ظاہر کی۔اس دن کمرے میں روشنی کچھ زیادہ تیز تھی۔شاید دوپہر کا وقت تھا۔کھڑکی سے آتی دھوپ فرش پر ایک سیدھی لکیر بنا رہی تھی اس روشنی کے بیچ ماں کے الفاظ گرے تھے”اگر تم کالج گئیں تو طوائف بن جاؤ گی”یہ جملہ آج بھی اس کے اندر کہیں گونجتا تھا جیسے کسی بند کمرے میں بار بار ٹکرانے والی آواز۔
اس اندھیرے میں اگر کوئی چیز سلامت تھی تو وہ اس کے والد تھے،وہ ایک ایسے انسان تھے جن کے چہرے پر ہمیشہ تھکن موجود رہتی مگر آنکھوں میں اپنی بیٹیوں کے لئے امید چمکتی۔وہ اکثر رات گئے کچن میں اکیلے بیٹھے چائے پیتے اور دیوار کی طرف دیکھتے رہتے جیسے کسی حل کی تلاش میں ہوں جو سامنے نہیں آتا۔ان کی اس خاموش جدوجہد نے بڑی بیٹی کو ڈاکٹر بنایا اور چھوٹی بیٹی کو قانون کے آخری سال تک پہنچایا۔گھر میں پہلی بار امید کی ہلکی سی کرن چمکی پھر وہ دن آیا جس نے سب کچھ بدل دیا۔
ایک جانا پہچانا لڑکا جو ان کی برادری سے ہی تھا برطانیہ سے وکالت کی ڈگری لے کر آیا۔کئی ملاقاتوں اور بات چیت نے اعتماد کا رشتہ قائم کر دیا ۔والد نے خود اس رشتے کو آگے بڑھایا۔انہوں نے اس کے والدین کو گھر آنے کی دعوت دی۔اس دن گھر میں ایک عجیب ہلچل تھی۔کچن میں خاص پکوان بن رہے تھے۔برتن معمول سے زیادہ دھوئے جا رہے تھے اور صحن میں کرسیوں کی ترتیب بار بار بدلی جا رہی تھی مگر ماں نے جیسے ہی لڑکے کو دیکھا گھر کی فضا ایک دم بدل گئی گئی۔ان کے کمرے کا دروازہ زوردار آواز سے بند ہوا پھر قدموں کی آوازیں آئیں اور چند لمحوں بعد وہی کرخت خاموشی چھا گئی۔
ماں نےاس ر شتے کو یکسر مسترد کر دیا۔ان کے الفاظ میں بحث تھی نہ کوئی سوال،صرف فیصلہ تھا”میں نیچے نہیں أؤں گی”یہ جملہ گھر کی دیواروں سے ٹکرا گیا۔
والد اس رات دیر تک جاگتے رہے۔ان کے ہاتھ میں چائے کا کپ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔وہ کبھی کھڑکی سے باہر دیکھتے،کبھی زمین پر،جیسے کسی ایسے راستے کی تلاش میں ہوں جو کہیں موجود ہی نہ ہو۔
بیٹی اپنے کمرے میں بیٹھی سب کچھ سن رہی تھی۔نہیں،سن نہیں رہی تھی محسوس کر رہی تھی۔ہر خاموشی اس کے اندر ایک چیخ بن کر اتر رہی تھی۔رات کے آخری پہر،جب گھر مکمل طور پر ساکت ہو گیا وہ آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔مدہم روشنی میں اس کا چہرہ آدھا سائے میں تھا آدھا روشنی میں۔ کچھ لمحوں تک وہ خود کو دیکھتی رہی جیسے پہلی بار دیکھ رہی ہو۔اس کے اندر کوئی سوال نہیں صرف احساس تھا۔یہ جنگ کبھی دو لوگوں کے درمیان تھی ہی نہیں۔یہ جنگ اس کے اور اس کی زندگی کے درمیان تھی۔اس بار جب وہ گھر سے باہر نکلی تو دروازے کی چڑچڑاہٹ میں ہلکی سے موسیقی ابھری اس بار یہ چڑچڑاہٹ اسے قید سے آزاد کر رہی تھی۔اسے پہلی بار سمجھ آیا کہ بعض خاموشیاں سکون نہیں ہوتیں۔وہ آہستہ آہستہ انسانوں کو اندر سے توڑنے والی زنجیریں ہوتی ہیں اور بعض دروازے بند نہیں کئے جاتے وہ صرف پیچھے چھوڑ دئیے جاتے ہیں۔

