آج کا انسان صرف اپنے گھر، دفتر، تعلیمی ادارے یا معاشرتی حلقے میں نہیں پہچانا جاتا؛ اس کی ایک نمایاں شناخت سوشل میڈیا پر بھی تشکیل پاتی ہے۔ ہم جو کچھ لکھتے ہیں، جس تصویر کو شیئر کرتے ہیں، جس ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہیں اور جس بات کو پسند یا ناپسند کرتے ہیں، وہ سب ہماری شخصیت کا ایک تاثر دوسروں کے ذہن میں قائم کرتا ہے۔ یوں سوشل میڈیا پر ہماری ہر پوسٹ محض چند الفاظ یا ایک تصویر نہیں رہتی بلکہ ہماری عوامی شناخت کا حصہ بن جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال محض اظہارِ رائے کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک سماجی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ ہمیں یہ سوچ کر کچھ لکھنا چاہیے کہ اگر یہی الفاظ ہمارے سامنے بیٹھے ہوئے کسی شخص سے کہے جاتے تو کیا ہم انہیں اسی شائستگی سے ادا کرتے؟ اگر جواب نفی میں ہو تو پھر شاید وہ الفاظ سوشل میڈیا پر بھی لکھنے کے قابل نہیں۔
سوشل میڈیا نے ہر شخص کو ایک ایسا پلیٹ فارم دے دیا ہے جہاں وہ بیک وقت مصنف، مبصر، نقاد اور ناشر بن سکتا ہے۔ چند سیکنڈ میں ہماری بات سینکڑوں، ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ ماضی میں ایک مضمون یا تحریر کی اشاعت کے لیے اخبار، رسالے یا کتاب کا انتظار کرنا پڑتا تھا، مگر آج موبائل کی ایک اسکرین ہمیں فوری طور پر دنیا بھر کے قارئین سے جوڑ دیتی ہے۔ یہ سہولت جتنی بڑی نعمت ہے، اتنی ہی بڑی ذمہ داری بھی۔
بدقسمتی سے ہم نے سوشل میڈیا کو بعض اوقات تخلیقی مکالمے کے بجائے الزام تراشی، تضحیک، کردار کشی، ذاتی حملوں اور غیر ضروری بحث کا میدان بنا دیا ہے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھ لیا جاتا ہے اور تنقید کو تذلیل کا نام دے دیا جاتا ہے۔ کسی کی بات پسند نہ آئے تو دلیل کے بجائے شخصیت کو نشانہ بنانا آسان سمجھا جاتا ہے۔ بعض اوقات ایسی معلومات بھی بغیر تحقیق کے آگے بڑھا دی جاتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ہمیں یہ بنیادی اصول نہیں بھولنا چاہیے کہ اختلاف، دشمنی نہیں؛ تنقید، توہین نہیں؛ اور آزادیِ اظہار، بداخلاقی کا لائسنس نہیں۔
ایک مہذب معاشرے میں خیالات مختلف ہو سکتے ہیں، مگر لہجہ مہذب رہنا چاہیے۔ ہم کسی کے نظریے سے اختلاف کرتے ہوئے بھی اس کی عزت برقرار رکھ سکتے ہیں۔ دلیل کو دلیل سے شکست دی جا سکتی ہے، مگر گالی، طنز اور تحقیر سے نہیں۔ ایک مضبوط دلیل خاموشی سے بھی اپنا اثر چھوڑ دیتی ہے، جبکہ بدتمیزی اکثر اچھی بات کو بھی بے اثر کر دیتی ہے۔
سوشل میڈیا پر ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ لفظ واپس نہیں آتا۔ زبان سے نکلی ہوئی بات شاید چند لمحوں بعد بھلا دی جائے، مگر سوشل میڈیا پر لکھی ہوئی بات کا اسکرین شاٹ، شیئر یا محفوظ شدہ شکل برسوں تک موجود رہ سکتی ہے۔ آج غصے میں لکھی گئی ایک سطر کل ہماری پیشہ ورانہ، سماجی یا شخصی شناخت کے بارے میں دوسروں کے فیصلے کا سبب بن سکتی ہے۔
اس لیے پوسٹ کرنے سے پہلے چند لمحوں کا توقف بہت ضروری ہے۔ خود سے پوچھیں: کیا یہ بات درست ہے؟ کیا یہ ضروری ہے؟ کیا یہ کسی کی عزتِ نفس مجروح تو نہیں کرے گی؟ کیا اس میں کوئی تعمیری پہلو موجود ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا یہ پوسٹ میرے کردار کی نمائندگی کرتی ہے؟
ہمیں سوشل میڈیا کو نفرت پھیلانے کے بجائے علم بانٹنے، حوصلہ بڑھانے، مثبت سوچ پیدا کرنے اور معاشرتی شعور بیدار کرنے کا ذریعہ بنانا چاہیے۔ ایک اچھی کتاب کی نشاندہی، کسی طالب علم کی حوصلہ افزائی، کسی فن کار کی پذیرائی، کسی علمی بحث میں مدلل حصہ، کسی ضرورت مند کے لیے آواز، کسی مثبت خیال کا فروغ ۔۔۔یہ سب سوشل میڈیا کے بہترین استعمال کی مثالیں ہیں۔ خاص طور پر اساتذہ، دانشوروں، لکھاریوں، صحافیوں اور اہلِ علم کے لیے ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ ان کے الفاظ صرف ان کی ذاتی رائے نہیں سمجھے جاتے بلکہ معاشرے کے ایک حصے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان کے قلم اور زبان سے نکلنے والا ایک شائستہ جملہ کسی نوجوان کے لیے حوصلے کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ ایک غیر محتاط جملہ نفرت اور تقسیم کو جنم دے سکتا ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا پر مقبول ہونا اور باوقار ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔ اشتعال انگیز پوسٹ شاید زیادہ لائکس اور کمنٹس حاصل کر لے، مگر ہر وائرل چیز قابلِ احترام نہیں ہوتی۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہماری پوسٹ دیکھنے والا شخص ہماری سوچ، علم، تہذیب اور کردار کی جھلک محسوس کرے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سوشل میڈیا کے صارف نہیں بلکہ ذمہ دار شہری بن کر سامنے آئیں۔ ہماری ٹائم لائن ہماری شخصیت کا آئینہ بنے؛ اس میں علم ہو، ادب ہو، اختلاف میں شائستگی ہو، تنقید میں دلیل ہو، گفتگو میں تہذیب ہو اور اظہار میں انسان دوستی ہو۔
سوشل میڈیا پر ہماری ہر پوسٹ ایک چھوٹا سا تعارف ہے—ہم دنیا کو بتا رہے ہوتے ہیں کہ ہم کیا سوچتے ہیں، کس چیز کو اہم سمجھتے ہیں اور اختلاف کے وقت ہمارا ظرف کتنا ہے۔ اس لیے پوسٹ کرنے سے پہلے صرف یہ نہ سوچیں کہ لوگ اسے کتنا پسند کریں گے؛ یہ بھی سوچیں کہ لوگ اسے پڑھ کر ہمیں کیسا انسان سمجھیں گے۔ کیونکہ سوشل میڈیا پر ہم صرف الفاظ شیئر نہیں کرتے، اپنا کردار بھی شیئر کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا پرتضحیک اور کردار کشی : لائیکس کے لیے شخصیت داؤ پر نہ لگائیں ۔۔ پروفیسر صابر جروار کا کالم
ایڈیٹر1 Views

