Author: ایڈیٹر

ان کا سیاسی جھکاؤ پاکستانی ڈاکٹروں کی اکثریت کی طرح پی ٹی آئی کی طرف تھا۔ وہ پاک فوج سے محبت کرتے تھے اور پاکستانی اداروں کو مضبوط دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ مضبوط ادارے، خصوصاً مضبوط فوج، پاکستان کی بقا اور سلامتی کی ضمانت ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اگر انہیں موقع ملا تو وہ ملک بھر میں آتش بازی کا جال بچھادینگے ہر چھوٹی بڑی جگہ پر آتش بازی کے ماہرین روز رات کو آتش بازی کا اہتمام کیا کرینگے ، آتش بازی کوصنعت کا درجہ دیدیا جائے گا ،آتش بازوں کو حکومت سستے قرضے فراہم کرے گی، ہر تحصیل اور ضلع میں آتش باز افسر مقرر ہوگا ،چھوٹے انتظامی یونٹس میں آتش بازی کے فن کے فروغ سے ملک بھر میں ایکسپورٹ کوفروغ ملےگااور دنیا بھر میں آتش بازی کا سامان ملک سے ہی جایا کرے گا۔

اس واقعہ کے بے شمار پہلو محض ایک کالم میں زیر بحث لائے نہیں جاسکتے۔ جو حقیقت خطِ کشیدہ کے ذریعے اجاگرکرنا لازمی سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ چندحکومتی نمائندے اور سرکاری ادارے مذکورہ واقعے کے حوالے سے پرخلوص ندامت کے اظہار کے بجائے ڈھٹائی سے بدھ کی صبح ہوئے واقعہ کو محض ایک حادثہ قرار دیتے ہوئے خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کاوشوں میں مصروف ہیں۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ ’حالات بتا رہے ہیں کہ بیرسٹر افتخار گیلانی کی منظوری نواز شریف کے بجائے کسی اور جگہ سے آئی ہے۔ اب بھی کوئی کسر رہ گئی ہے نظام سے چھیڑ چھاڑ کر کے اس کو تباہ و برباد کرنے میں؟‘
تاہم سوشل میڈیا پر تنقید سے زیادہ اہم مسئلہ ن لیگ میں آپس کے اختلافات ہیں۔

کبھی گلی، محلہ، میدان اور سکول کا گراؤنڈ بچوں اور نوجوانوں کی آوازوں سے آباد رہتے تھے۔ کرکٹ، فٹ بال، ہاکی، والی بال، کبڈی، دوڑ اور دیگر کھیل جسمانی تربیت کے ساتھ ساتھ ٹیم ورک، برداشت، نظم و ضبط اور شکست و فتح کو قبول کرنے کا حوصلہ بھی سکھاتے تھے۔ اب میدان کے مقابلے میں موبائل کی اسکرین زیادہ پرکشش ہو گئی ہے۔ نوجوان کے ہاتھ میں گیند کے بجائے موبائل اور گراؤنڈ کے بجائے اسکرین آ گئی ہے۔

زلزلہ عمارت نہیں گراتا۔ ناقص عمارت گرتی ہے۔“ وہ ذرا آگے جھکے۔ ”میں نے پینتیس سال پانی کا محکمہ دیکھا ہے۔ سیلاب ہر سال آتا ہے، ہر سال۔ یہ کوئی خبر نہیں ہے، یہ ایک موسم ہے۔ سوال یہ ہے کہ بند کس نے کمزور بنایا، پیسہ کہاں گیا، نالے پر مکان کس نے بننے دیا، اور فائل پر دستخط کس کے ہیں۔

ان بچوں کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ اس ملک میں پیدا ہوئے جو 80 ویں برس میں داخل ہو کر بھی ابھی نو زائدگی کے عمل سے گزر رہا ۔۔ ان بچوں کی وارث ریاست میں خود اندرونی طور پر کمزور اور ناتواں ہے۔ وہ شاید ان کا خیال رکھنے کی اہل ہی نہیں ہے، کیونکہ اس پر قابض حکمرانوں نے کبھی اس پر توجہ ہی مرکوز نہیں کی۔