Author: ایڈیٹر

اے ایف پی کے ایک صحافی نے سفارتخانے کے احاطے سے سیاہ دھواں بھی اٹھتے دیکھا ہے۔
سکیورٹی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ایک ڈرون حملے میں سفارت خانے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘ ایک اور سکیورٹی ذریعے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون سے حملہ کیا گیا ہے۔

پاکستان سمیت علاقے کے تمام ممالک اور روس و چین کو بھی چاہیے کہ وہ مل کر ایرانی قیادت کو عرب ممالک کے ساتھ کسی سمجھوتے تک پہنچنے میں مدد کریں۔ اس طرح جنگ میں ایران کی پوزیشن بھی مضبوط ہوگی اور اس کے ختم ہونے کا امکان بھی روشن ہو سکے گا۔ اس کے برعکس عرب ممالک پر ایرانی حملے جاری رہنے کی صورت میں مغربی تجزیہ نگاروں کی یہ رائے مسلمہ ہو جائے گی کہ ایران خود تباہ ہوتے ہوئے پورے خطے اور دنیا کی معیشت کو شدید نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ اس رائے کے درست ہونے کی صورت میں ایران ہی کو ’بیڈ بوائے‘ قرار دیا جائے گا۔

اپریل 2022 کے بعد آنے والی تبدیلیاں عمران خان کے سیاسی حیطہ خیال سے ماورا ہیں۔ عمران خان تو آج بھی مقتدرہ کے دریوزہ گر ہیں لیکن ان کے حامی نوجوانوں کی اکثریت اس تاریخی پس منظر سے واقف ہے اور نہ اس کے فکری پہلو سمجھتی ہے۔ ان کی نظر میں عمران خان کو مسیحا نہ سمجھنے والا ہر پاکستانی لبرل اور گردن زدنی ہے۔

اُدھر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے سرہ غوڑ گئی میں بھی ایک ڈرون گرنے سے دو بچیاں زخمی ہو گئی ہیں۔
ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ آصف خان نے بی بی سی کے محمد کاظم کو بتایا کہ کلی ملاخیل میں ایک گھر پر ڈرون گرنے سے مکان کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا اور ملبے تلے آ کر دو بچیاں زخمی ہوئیں جنھیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔

حالت جنگ میں فریقین اپنی پوزیشن اور دشمن کی کمزوری کے بارے میں مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں۔ یہی صورت حال اس وقت ایران کے خلاف جنگ جوئی میں بھی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکہ تمام تر طاقت کے باوجود نہ تو تہران میں حکومت تبدیل کرا سکا ہے اور نہ ہی اب جنگ بند کرنا اس کے اختیار میں دکھائی دیتا ہے۔ دنیا کے امن اور اس ریجن کے استحکام کے لیے یہ صورت حال نہایت تشویشناک ہے۔

ایک موقع پر جب عوامی اجتماع میں بلاول بھٹو زرداری سے علی وزیر کی رہائی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس معاملے کے لیے “ان لوگوں کے پاس جائیں جن کے پاس انہیں رہا کرنے کی طاقت ہے۔” یہ مختصر سا جملہ دراصل پاکستان کی سیاست کی ایک گہری حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس قسط کی دنیا میں انسان ایک عجیب مشین کا پرزہ بن چکا ہے۔ لوگ دن بھر بند کمروں میں سائیکل چلاتے ہیں اور اس کے بدلے ڈیجیٹل سکے کماتے ہیں جنہیں “میرٹس” کہا جاتا ہے۔ یہی سکے ان کی خوراک، تفریح اور زندگی کی دوسری ضرورتوں کا ذریعہ ہیں۔ چاروں طرف اسکرینیں ہیں، اشتہارات ہیں اور ایک ایسا نظام ہے جو انسان کے وقت، محنت اور جذبات سب کو بازار کی اشیا میں تبدیل کر دیتا ہے۔