گزشتہ سے پیوستہ
اس واقعے سے قومی یکجہتی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا،مرکزی حکومت بنگالیوں کا اعتماد کھو بیٹھی،اور عوام میں مسلم لیگ کے خلاف نفرت کے جذبات زور پکڑنے لگے۔نورالامین عوام میں اپنا کھویا ہوا اعتماد بحال نہ کر سکے، اس طرح 1954 ء صوبائی اسمبلی کے الیکشن میں مسلم لیگ کو عبرت ناک شکست ہوئی ، اور مشرقی پاکستان سے مسلم لیگ کا خاتمہ ہو گیا۔ مسلم لیگ کے ارکان کی اکثریت نے عوامی مسلم لیگ کے نام سے ایک نئی جماعت قائم کی ، جو بعد میں عوامی لیگ بنی ۔اس میں مولانا بھاشانی، حسین شہید سہروردی اورشیخ مجیب الرحمٰن جیسے رہنما شامل تھے۔ مولوی فضل الحق نے اپنی جماعت کرشک پرجا پارٹی کا نام تبدیل کرجے کے کرشک سرامک پارٹی رکھ دیا۔ مشرقی پاکستان میں مسلم لیگ کی مقبولیت میں کمی کی دوسری بڑی وجہ دستورسازی میں تاخیر بتائی جاتی ہے۔کتاب کے مرتب کے نزدیک دستور سا زی میں تاخیر کی وجہ مختلف سیاسی گرہوں کے مابین افہام و تفہیم کا فقداتھا۔ آگے چل کر نور الہدیٰ لکھتے ہیں کہ
” سیاسی اُفق پر بے یقینی کے گہرے بادل چھا چکے تھے،کیونکہ ابھی ملک میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط نہیں تھیں ، چنانچہ سول اور آرمی افسر شاہی نے آپس میں کٹھ جوڑ کرلیا اور چند مفاد پرست سیاستدانوں کو ساتھ ملا کر پورا پورا فائدہ اُٹھایا۔ اس خبیث ٹولے کا پہلا اقدام 1953 ء میں خواجہ ناظم اُلدین کی وزارت کو برطرف کرنا تھا۔درآں حائیکہ ابھی چندروز قبل سالانہ بجٹ منظور ہوا تھا،اور کابینہ کو ایوان میں بھاری حمایت حاصل تھی۔ امریکہ میں پاکستان کے سفیر محمد علی بوگرہ کو پاکستان بلا کر وزیراعظم مقرر کردیا گیا۔ مسلم لیگ سیاسی سطح پر اس اقدام کی مخالفت کرنے سے قاصر تھی،جبکہ اس کے رہنماؤں کی اکثریت اس قدر کوتاہ بین تھی کہ ناظم اُلدین وزارت کی برطرفی سے ان کے جبینیں شکن آلود تک نہ ہوئیں۔ یہ واقعہ پاکستان میں جمہوریت کے مرض الموت کا آغاز تھا۔”
1954 ء میں غیر جمہوری قوتوں کے دباؤ میں آکر وزیر اعظم نے دستور ساز اسمبلی کو برخواست کر کے نئی کابینہ بنائی ،جس میں میجر جنرل سکندر مرزا ، جنرل ایوب خان اور صنعتکار ایم ایم اصفہانی کو کابینہ میں شامل کیا گیا۔مولوی تمیز اُلدین نے دستور ساز اسمبلی کی برخواستگی کے حکومتی فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چلینج کیا، یہ مقدمہ تمیز اُلدین خان بنام وفاق پاکستان کے نام سے مشہور ہوا۔سندھ ہائی کورٹ نے مولوی تمیز اُلدین خا ن کے حق میں فیصلہ دیا، حکومت نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی ، سپریم کورٹ سندھ ہائی کورٹ کے ٖفیصلے کو کالعدم قراد دیا۔ کتاب کے دوسرے حصے میں اس اور فیصلے کی تمام تفصیلات اور اس کے بارے میں سیّد سمیع احمدایڈوکیٹ کی کتاب کا اُردو ترجمعہ مولوی تمیزاُلدین خان کا مقدمہ(فیصلہ جو ملک کی تباہی کا سبب بنا ) کے نام سے موجود ہے۔
مولوی تمیز اُلدین نے 19 اگست 1963 ء کو ڈھاکہ میں وفات پائی۔ اُنہیں ڈھاکہ میں سپرد خاک کیا گیا۔ اُن کی وفات پر ملک کی فضا سوگوار تھی، اندرون ملک اور دنیا کے مختلف ممالک کی طرف سے تعزیتی پیغامات موصول ہو ئے،جن میں انہیں زبردشت خراج تحسین پیش کیا گیا تھا۔ بحیثیت مجموعی یہ کتاب ایک ایسی دستاویز ہے جو نئی نسل کو پاکستان کی تاریخ اور جمہوریت کے خلاف سازشوں کو سمجھنے میں مدد دے گی ۔۔ برادرم وجاہت مسعود کا شکریہ کہ انہوں نے اسے اردو کے قالب میں ڈھال کر عام قارئین کو استفادے کا موقع دیا ۔
( مکمل )
وقت کی کسوٹی : مولوی تمیز اُلدین خان کی داستانِ حیات : محمد اسلام تبسم کا کتاب کالم ( 2)
ایڈیٹر3 Views

