ابوظہبی : متحدہ عرب امارات کے شہر ام القوین میں ڈرون حملہ، ایرانی حملوں میں اب تک سات افراد کی ہلاکت کی تصدیق متحدہ عرب امارات…
Author: ایڈیٹر
ریسکیو حکام کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ نواحی علاقے چک نمبر 125 کے قریب ایک مارکیٹ میں پیش آیا جہاں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی قسط وصول کرنے کے لیے آنے والی 200 سے زائد خواتین ریٹیلر شاپ کی چھت پر موجود تھیں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق حادثے کے بعد شیخ زید ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ واقعہ کی مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔
ایران اپنے جزیرے کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے آبنائے ہرمز کھولنے کو رضامند ہوسکتا تھا۔ ممکنہ رضامندی مگر دنیا کو اس کے جھک جانے کا پیغام دیتی نظر آئی تو وہ ہمسایہ ملکوں کو میزائلوں کی برسات کی زد میں لے کر ‘‘ہم توڈوبے ہیں…’’ والا ہولناک جواب بھی دے سکتا ہے ۔
اسرائیلی پولیس فورس نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں ایک دھماکے کے بعد ایک شخص کو لڑکھڑاتے ہوئے سڑک سے دور جاتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ملبہ چاروں طرف بکھرا ہوا ہے۔
کلسٹر ہتھیار کے ذریعے راکٹ، میزائل یا توپ کے گولے سے درجنوں یا سینکڑوں چھوٹے بم (بمبیٹس) بکھیر دیے جاتے ہیں، جو ایک وسیع علاقے تک پھیل جاتے ہیں۔
اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں مزید حملے بھی کیے جن میں رہائشی عمارتوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملوں میں سڑکوں، پلوں اور دیگر شہری انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ حملوں کے ساتھ ہی اسرائیل نے جنوبی لبنان میں انخلا کے عمل کو بھی تیز تر کردیا ہے۔
ایک نوجوان خاتون نے ایک دفعہ اسے کسی شاعرہ کی کتاب تحفۃً دی تھی۔ کتاب تو اسے اب یاد نہیں رہی، لیکن کتاب میں بسی خوشبو اسے اب بھی اچھی طرح یاد ہے۔
سنا ہے کہ خوشبوؤں کے حوالے سے انسانی یادداشت سب سے دیرپا ہوتی ہے۔ اس نے اچھی خوشبوئیں ہمیشہ یاد رکھی تھیں۔ وہ ہر اُس خوشبو سے جڑے واقعات بھی یاد رکھتا ہے جس سے وہ کبھی گزرا ہو۔
رپورٹس کے مطابق حکیم شہزاد اس سے قبل بھی اپنی متعدد شادیوں کی وجہ سے خبروں کی زینت بنتے رہے ہیں۔ چند سال پہلے انہوں نے عامر لیاقت کی سابقہ اہلیہ دانیہ شاہ سے شادی کی تھی جن سے ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔
اے ایف پی کے ایک صحافی نے سفارتخانے کے احاطے سے سیاہ دھواں بھی اٹھتے دیکھا ہے۔
سکیورٹی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ایک ڈرون حملے میں سفارت خانے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘ ایک اور سکیورٹی ذریعے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون سے حملہ کیا گیا ہے۔
پاکستان سمیت علاقے کے تمام ممالک اور روس و چین کو بھی چاہیے کہ وہ مل کر ایرانی قیادت کو عرب ممالک کے ساتھ کسی سمجھوتے تک پہنچنے میں مدد کریں۔ اس طرح جنگ میں ایران کی پوزیشن بھی مضبوط ہوگی اور اس کے ختم ہونے کا امکان بھی روشن ہو سکے گا۔ اس کے برعکس عرب ممالک پر ایرانی حملے جاری رہنے کی صورت میں مغربی تجزیہ نگاروں کی یہ رائے مسلمہ ہو جائے گی کہ ایران خود تباہ ہوتے ہوئے پورے خطے اور دنیا کی معیشت کو شدید نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ اس رائے کے درست ہونے کی صورت میں ایران ہی کو ’بیڈ بوائے‘ قرار دیا جائے گا۔
اپریل 2022 کے بعد آنے والی تبدیلیاں عمران خان کے سیاسی حیطہ خیال سے ماورا ہیں۔ عمران خان تو آج بھی مقتدرہ کے دریوزہ گر ہیں لیکن ان کے حامی نوجوانوں کی اکثریت اس تاریخی پس منظر سے واقف ہے اور نہ اس کے فکری پہلو سمجھتی ہے۔ ان کی نظر میں عمران خان کو مسیحا نہ سمجھنے والا ہر پاکستانی لبرل اور گردن زدنی ہے۔
