Author: ایڈیٹر

ریفائنری کی آگ سے سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ اور کاربن مونو آکسائیڈ جیسی زہریلی گیسیں خارج ہوتی ہیں۔
ان گیسوں سے اسموگ پیدا ہوتی ہے جو پہلے ہی آلودہ شہر تہران کی فضا کو مزید خراب کر دیتی ہے۔
انسانی صحت پر اثرات میں سانس کی بیماریاں، آنکھوں کی جلن اور دل کی بیماریوں کا خطرہ شامل ہے۔
زمین اور زیرِ زمین پانی میں تیل کے اجزا شامل ہو کر آبی آلودگی پیدا کرتے ہیں۔

تہران صوبے کے مغرب میں واقع کاراج سے 30 سال کے ایک شخص نے بتایا: ’یہ ایک سرخ روشنی سے شروع ہوا جس نے ہر چیز کو روشن کر دیا۔ اس کے بعد ایک دھماکے کی لہر آئی جس نے دروازے ہلا کر رکھ دیے۔ پھر آسمان دوبارہ روشن ہوا اور ایک بہت بڑا سرخ رنگ کا بادل نمودار ہوا۔‘
ایک 20 سالہ خاتون بتاتی ہیں کہ پورا شہر دھوئیں میں چھپ گیا تھا۔ ’آپ جلنے کی بو محسوس کر سکتے ہیں۔‘

عورت مارچ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ریلی کے لیے این او سی حاصل کرنے کے لیے ایک ماہ پہلے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی تھی۔
ان کا دعویٰ ہے کہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر نے اسے خارج نہیں کیا تھا۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ عورت مارچ کے منتظمین نے کوئی این او سی نہیں لیا تھا۔
ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی رضا کا کہنا ہے کہ عورت مارچ کی مرکزی قیادت اور متعدد حمایتی اسلام آباد کے جی سیون تھانے میں موجود ہیں۔

ہماری آنکھوں کے سامنے فیصل واڈا جنرل باجوہ کے آگے ہاتھ جوڑ کر اور سر جھکا کر کھڑا رہا۔ جنرل باجوہ اسے سناتے رہے، اور وہ سر جھکائے سنتا رہا۔
آخر اس نے جنرل فیض حمید کی طرف التجا آمیز نظروں سے اشارہ کیا، تو جنرل فیض حمید نے آگے بڑھ کر کہا،
"سر جانے دیں، اسے معاف کردیں.”
ان کی بات سے واڈا جو ابھی تک ہاتھ جوڑے کھڑا تھا، ہمت پکڑی اور کہا۔۔
سر معاف کردیں، آئندہ نہیں ہوگا.”
یہ سارا مکالمہ آ فس کے سٹاف، میٹنگ سے نکلنے والے وفاقی وزراء کے سامنے ہورہا تھا۔

راولپنڈی کی عدالتوں کے ریکارڈ کے مطابق ایک سال کے دوران دس ہزار سے زیادہ خاندانی تنازعات اور طلاق کے مقدمات درج ہوئے۔ اسی طرح لاہور میں ہزاروں خواتین نے خلع کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا۔ یہ اعداد و شمار صرف قانونی فائلوں تک محدود نہیں بلکہ بدلتے ہوئے معاشرتی رویوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ گویا ہمارے معاشرے میں رشتوں کی مضبوطی کو نظر نہ آنے والی دراڑ لگ چکی ہے۔

’’ زبان محض الفاظ کا تبادلہ نہیں ہوتی بلکہ ایک پوری تہذیب کی منتقلی ہے۔ رائے کے جملوں میں جو مزاح طنز اور داخلی تضاد ہے، اسے اردو میں منتقل کرنا کبھی کبھی کٹھن مرحلہ بن جاتا۔ مثال کے طور پر جب وہ اپنی ماں کی سخت مزاجی کو طنز آمیز لہجے میں بیان کرتی ہیں تو اردو میں اس کا ترجمہ محض شکایت بہنے کا خطرہ رکھتا تھا۔ مجھے بار بار یہ دیکھنا پڑا کہ کہاں پر لفظوں کو سیدھا رکھوں اور کہاں پر ان میں چھپی ہوئی معنوی لہر کو کھول دوں ۔ ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مترجم خود بھی مصنف کے ساتھ شریک تخلیق بن جاتا ہے ۔

گرمیوں کی آمد آمد ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں زرعی ادویات نے پرندوں کے لیے قدرتی خوراک کے وسائل کم کر دیے ہیں، وہاں ہماری چھوٹی سی توجہ بہت بڑا فرق پیدا کر سکتی ہے۔ اگر ہم اپنے گھروں کی چھتوں، صحنوں یا درختوں کے قریب صبح اور شام صاف اور تازہ پانی رکھ دیں اور تھوڑا سا دانہ یا چوگا ڈالنے کی عادت اپنا لیں تو یہ معصوم پرندے ہمارے ماحول کو دوبارہ زندگی سے بھر سکتے ہیں۔

اسرائیلی دفاعی افواج نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے تہران میں کئی تیل کے ڈپوں یعنی ’فیول سٹوریج کمپلیکس‘ پر حملے کیے ہیں۔
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ’یہ اہم حملہ تھا جس کا مقصد ایندھن کے اُن ذخائر کو نشانہ بنانا تھا جنھیں ایران کے عسکری نظام اور فوجی بنیادی ڈھانچے کو چلانے کے لیے براہِ راست اور بار بار استعمال کیا جا رہا تھا۔‘

سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا اس بیان کو ویسا ہی ’سرنڈر‘ سمجھا جاسکتا ہے جیسا صدر ٹرمپ نے اسے بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ ٹرمپ کے بیان سے تو یہ بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس بیان کو ایران کا سرنڈر کہہ کر اور دوسری طرف ایرانی دفاعی صلاحیتوں کو مکمل طور سے تباہ کرنے کا دعویٰ کرنے کے بعد امریکہ یک طرفہ طور سے اس جنگ کو بند کرنے کاا علان کرے جس کے بعد اسرائیل بھی امریکی تقلید میں جنگ بندی پر راضی ہوجائے۔ گو کہ یہ سب سے سہل اور خوش کن طریقہ ہوگا تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے لیے صرف مسعود پزشکیان کا ایک بیان شاید کافی نہ ہو۔ وہ اس سے پہلے ایران میں من پسند لیڈر کے انتخاب کو بھی جنگ بندی کی اہم شرط کے طور پر پیش کرچکے ہیں۔

تین مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار سرعام پھانسی دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ 23 مارچ 1978 کو کیمپ جیل لاہور کے باہر پھانسی کے تختے نصب ہوئے۔ شام ڈھلے تین مجرموں کو پھندے سے لٹکایا گیا تو یہ منظر دیکھنے کے لیے پانچ لاکھ افراد موجود تھے جن کے فلک شگاف نعروں سے لاہور گونج رہا تھا۔ مجرموں کی لاشیں لٹکتی رہیں اور اندھیرا ہونے کے بعد اتاری گئیں۔ یہ ناٹک قوم کو بھٹو صاحب کی پھانسی کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنے کا اہتمام تھا۔