Browsing: سید مجاہد علی

تحریک انصاف کے بانی رہنما کے ساتھ ملاقاتوں پر پابندی کی وجہ سے خاص طور سے جھوٹ پھیلانے والے ،بے بنیاد خبریں عام کرکے ملک میں مزید مایوسی و پریشانی پیدا کررہے ہیں۔ حکومتی اہلکاروں کی باتوں سے لگتا ہے کہ وہ اس صورت حال کا مزہ لے رہے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ تحریک انصاف کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور اس کی قیادت ایک دوسرے سے الجھنے میں زیادہ مصروف ہے۔

پاکستان اگر بھارت کے ساتھ کسی تنازعہ میں ملوث ہوتا ہے تو معاہدے کے تحت دیگر ملکوں کو اس جنگ میں شامل ہونے پر مجبور نہیں کرسکتا بلکہ ترکیہ اور سعودی عرب خود مختارانہ طور پر یہ طے کرنے کے مجاز ہوں گے کہ کیا واقعی پاکستان پر حملہ ہؤا ہے اور کیا انہیں بھی اس جنگ میں ملوث ہونا چاہئے۔

جنگ بند ہونے اور حالات معمول پر آنے کی صورت میں پاسداران کے جنرلز شاید من مانی کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہیں گے۔ خاص طور سے اگر انہیں ’قوت‘ فراہم کرنے والا رہبر اعلیٰ بھی کوئی فیصلہ کرنے یا عوام کو شکل دکھانے کے قابل نہیں ہے تو پاسداران انقلاب کی ’مجبوری‘ قابل فہم بھی ہوجاتی ہے۔

بعض تجزیہ نگار یہ بھی قیاس کررہے ہیں کہ جلد ہی قطر اور مصر بھی اس معاہدے میں شامل ہوجائیں گے۔ اور جب ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ جنگ کی دھول بیٹھ جائے گی تو ایران بھی ایسے معاہدے میں شامل ہوکر علاقائی سلامتی میں کردار ادا کرنا چاہے گا۔

یادش بخیر روزنامہ جنگ کے ایڈیٹر سہیل وڑائچ نے جب موجودہ حکومت کے دن گنے جانے کی پیش گوئی پر مشتمل کالموں کی سیریز لکھی تھی تو اس وقت سہیل وڑائچ سے ذاتی دوستی کے باوجود محسن نقوی نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ اب ’ناکارہ‘ ہوچکے ہیں، اس لیے انہیں ریٹائر ہوجانا چاہئے۔ اس وقت یہ تاثر سامنے آیا تھا کہ محسن نقوی شاید مستقبل کا وزیر اعظم بننے کی خواہش میں موجودہ نظام کی ’حفاظت‘ کے لئے سینہ سپر ہورہے ہیں۔ البتہ اب انہوں نے خود اس نظام کے ’ڈھیر‘ ہونے کی خبر دی ہے۔

ایسے بیانات پاکستانی عوام میں اعتماد اور حوصلہ پیدا کرنے کی بجائے بد اعتمادی اور ہر ریاستی ادارے کے بارے میں مایوسی کو جنم دیں گے۔ فوج کو ملک کا سب سے طاقت ور اور فیصلے کرنے والا ادارہ سمجھا جاتا ہے لیکن اگر اسی ادارے کی طرف سے لاقانونیت اور حکومت کی ناکامی کی بات کی جائے گی تو سوال پیدا ہو گا کہ پھر اصلاح احوال کے لیے کس طرف دیکھا جائے؟

احتجاج کے لیے لوگوں کا گھروں سے نکلنا بے چینی، محرومی اور غم و غصہ کا اظہار ضرور ہے۔ کسی حکومت کو اس پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ دوسرا یہ کہ حکومت عوام کی کثیر تعداد کو طویل عرصہ تک بے یار مددگار کسی علاقے میں محصور رہنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔ اختلاف اتفاق سے قطع نظر یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی حفاظت کرے اور انہیں مناسب دیکھ بھال، خوراک اور سہولتوں تک رسائی دی جائے۔

سب کی طرح امریکہ اور ایران پر بھی واضح ہورہا ہے کہ جس تنازعہ میں انہوں نے سینگ پھنسائے ہیں، اس سے باہر نکلنے کے لیے مذاکرات اور سفارتی حل کے بغیر کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہے۔ اللہ کا شکر کرنا چاہئے کہ دونوں ملک بہت زیادہ خرابی سے پہلے ہی امن کو موقع دینے کی طرف گامزن ہورہے ہیں۔ اس میں کسی کی جیت اور کسی کی ہار نہیں ہے۔

پاکستان اسی وقت سعودی عرب کی امداد کے لیے جاسکتا ہے اگر کوئی ملک یا گروہ براہ راست اس پر حملہ کرے۔ اگر حوثی سعودی عرب پر حملہ آور نہیں ہوتے اور محض دھمکیاں دیتے ہیں تو کیا پھر بھی پاکستان اس معاہدے کے تحت حوثیوں کی طاقت کچلنے میں آگے بڑھے گا؟