Browsing: سید مجاہد علی

جس روز آئینی عدالت کے سربراہ کا آئینی بالادستی کے بارے میں روح افز ابیان شائع ہؤا ہے ، اسی روز یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ آئینی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو سپریم کورٹ کی طرف سے نجی ہسپتال میں علاج کرانے کی سہولت فراہم کرنے کے حکم کی تمام دستاویزات طلب کرلی ہیں۔

حکمرانوں اور عوام کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کی بجائے انہیں مسلسل بڑھایا جارہا ہے۔ یہ فاصلے بد اعتمادی اور ہیجان پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ سیاسی مکالمہ اور جواب دہی کا طریقہ سنسر اور دیگر پابندیوں کے ذریعے یوں ہی ختم کیا جاچکاہے۔ اس صورت حال کو ’نیو نارمل‘ کر کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ملکی استحکام اور قومی سلامتی کا سوال ہے۔

اس وقت دنیا بلاشبہ امریکہ جیسی سپر پاور کے غلط فیصلوں اور صدر ٹرمپ جیسے عاقبت نااندیش لیڈر کی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے لیکن یہ بھی واضح ہورہا ہے کہ کوئی ابھی اس غلط حکمت عملی کو چیلنج کرنے پر تیار نہیں ہے۔ گویا دنیا میں امریکہ کا متبادل موجود نہیں۔ لہذا سعودی عرب ہو یا چین ، اسے اپنے مستقبل کے لیے واشنگٹن کی طرف ہی دیکھنا پڑتا ہے۔

اسامہ بن لادن کو نائن الیون کے ایک دہائی بعد ایبٹ آباد کے ایک گھر میں ایک ایسے فوجی ایکشن میں ہلاک کیا گیا جو عالمی ضابطوں کے خلاف اور دہشت گرد ہتھکنڈوں کے قریب تر تھا۔ پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر معاملہ ایک شخص ہی کا تھا تو اسے تو افغانستان میں بھی ویسے ہی ہلاک کیا جاسکتا تھا جیسے اسے پاکستان میں مارا گیا۔

یہ سوال بھی مسلسل حیرت کا سبب ہے کہ نظام کی تباہی کی ’خبر‘ دینے والا وزیر داخلہ خود کیسے اپنے عہدے پر موجود ہے۔ اگر نظام تباہ ہوچکا ہے تو اس تباہی میں کسی ملک میں امن و امان اور قانون کی بالادستی کے ذمہ دار شخص کو سب سے پہلے مورد الزام ٹھہرانا چاہئے۔ لیکن اسے تو معتمد اور پیامبر کا مقام عطا کرکے عزت واحترام سے سرفراز کیا جارہا ہے۔

یہ بھی کہا جارہا ہے کہ صدر آصف زرداری نے اسی معاملہ پر اختلاف کی وجہ سے لندن جاکر ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ محسن نقوی نے البتہ اب یہ اعلان کیا ہے کہ صوبوں کے بارے میں جو فیصلہ بھی ہوگا ،وہ اتفاق رائے اور عوام کی مرضی سے ہی ہوگا۔ اس سلسلہ میں کوئی غیر آئینی فیصلہ ٹھونسا نہیں جاسکتا۔ جبکہ وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ کا اصرار ہے کہ ’ نئے صوبوں کے معاملہ پر کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے اور نہ ہی ایسا کوئی بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ہے‘۔

پاکستانی وزیر اعظم کے دفتر نے سربراہی اجلاس کی جو ابتدائی تصویر شائع کی، اس میں بھارتی وزیر اعظم کی تصویر کاٹ دی گئی تھی۔ تاہم سوشل میڈیا پر اس پر تبصروں اور حرف زنی کے بعد میں مکمل تصویر جاری کی گئی۔ اس قسم کا طرز عمل سردمہری اور فاصلوں میں اضافہ کا سبب بنتا ہے حالانکہ بوجوہ پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے اور باہمی تعلقات میں حائل دیواریں گرانے کی ضرورت ہے۔