معصوم یتیم بچے کی ہلاکت اور اس کے بعد ضلع کچہری میں وکلا کے ہاتھوں ملزم کی پٹائی اور بعد میں پولیس حراست میں اس کی پراسرار ہلاکت، ایک ہی تصویر کے مختلف رخ ہیں۔ یہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور متشدد رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔
Browsing: سید مجاہد علی
مولانا چونکہ ہوشیار سیاسی کھلاڑی ہیں، اس لیے انہوں نے خاص طور سے خیبر پختون خوا میں اپنی سیاسی ناکامی کا حوالہ دینے کی بجائے قومی سطح پر انتخابی دھاندلی کے بیانیہ کا حصہ بننا بہتر سمجھا تاکہ ان کی باتوں کو جمہوریت اور آئینی انتظام کے ساتھ ان کی وفاداری سے تعبیر کرایا جائے۔
فیصل واوڈا نے سسٹم ری بوٹ کرنے، ملکی معاملات میں بوٹ یعنی فوج کی غیر مشروط سیاسی حمایت کرنے اور کارکردگی نہ دکھانے والوں کو گھر جانے کے جو پیغامات دئے ہیں، وہ ملکی فوج کی شہرت، وقار اور نیک نامی پر داغ لگانے کے مترادف ہیں۔
خیبر پختون خوا میں چونکہ پیپلز پارٹی کا گورنر ہے، اس لیے اسحاق ڈار کی نگرانی میں قائم ہونے والی غیر رسمی مگر ’سپر کمیٹی ‘درحقیقت پیپلز پارٹی کی سیاسی نگرانی کے لیے قائم کی گئی ہے۔ اس اقدام سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وزیر اعظم پارٹی سیاسی مفاد کی حفاظت کررہے ہیں یا قومی سلامتی اور جمہوریت کے لیے فکرمند ہیں۔
اگر تحریک انصاف کی یہ بات مان بھی لی جائے کہ وفاقی حکومت ناجائز اور فارم 47 کی وجہ سے قائم ہوئی ہے تو بھی اس حکومت کی مخالفت میں کسی پارٹی یا سیاسی حکومت کو فوج کے خلاف محاذ آرائی کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہئے ۔
کسی صوبائی حکومت کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ حالت جنگ میں ایک ایسے ملک کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرے جس کے ساتھ پاکستان اس وقت برسر پیکار ہے۔ یا ایسے عناصر کو تحفظ دینے کے لیے مؤقف اختیار کرے جو مسلح افواج کے خلاف تشدد میں مصروف ہوں۔ بدقسمتی سے سہیل آفریدی خود اپنی حکومت کے خلاف وفاق کا مقدمہ مضبوط کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔
تحریک انصاف کی مشکل اس وقت زیادہ قابل رحم لگتی ہے۔ وہ احتجاج کرنا چاہتی ہے لیکن اس کا انتظام کرنے میں ناکام ہے۔ خیبر پختون خوا کے علاوہ کسی بھی صوبے سے پارٹی تنظیم کارکنوں کو باہر نکالنے یا جلوس کی صورت میں اسلام آباد لانے پر آمادہ نہیں کرسکی۔
البتہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ حکمت عملی، فلسطین اور غزہ کے علاوہ لبنان کے بارے میں اس کی پالیسی اور گریٹر اسرائیل قائم کرکے پورے خطے میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی اسرائیلی خواہش ، ایک اہم خلیجی مسلمان ملک سے اس کی قربت کے بارے میں عرب ممالک اور مسلم دنیا میں تشویش کا باعث بنے گی
ایران نے اگر نومبر میں امریکی مڈ ٹرم انتخابات تک کسی معاہدے پر اتفاق نہ کیا تو اس کے بعد صدر ٹرمپ نئے اور خطرناک حملوں کا سلسلہ شروع کرسکتے ہیں۔ ایران، خطے اور دنیا کے لیے جنگ کے اس نئے دور سے بچنا بے حد اہم ہے۔
عطااللہ تارڑ اور سہیل آفریدی کے بیانات یکساں طور سے واضح کرتے ہیں کہ اپوزیشن ہی نہیں حکومت بھی مسائل کی شدت سمجھنے یا انہیں حل کرنے کی طرف پیش قدمی کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔
