اسلام آباد ۔۔گردوپیش نیوز ۔۔ ملک میں بالخصوص خیبرپختونخوا کی صورتحال کے حوالے سے ہنگامی اقدامات اور ممکنہ ایمرجنسی کے نفاذ کی بحث شدت اختیار کرگئی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے آج اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت پر دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کرنے، دہشت گردوں کو مبینہ سہولت فراہم کرنے اور ٹی ٹی پی کی ’’بی ٹیم‘‘ ہونے جیسے الزامات عائد کیے، جبکہ وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے بھی صوبائی حکومت کی قیادت، وسائل اور اختیارات کے استعمال پر سوالات اٹھائے۔
دوسری جانب سینیئر صحافی نجم سیٹھی اور عمران شفقت کے وی لاگز میں بھی موجودہ سیاسی اور سکیورٹی صورتحال، خیبرپختونخوا میں ممکنہ آئینی اقدامات اور مستقبل کے منظرنامے پر گفتگو کی گئی ہے، جس سے ایمرجنسی یا گورنر راج کے امکان سے متعلق بحث مزید نمایاں ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی کہا ہے کہ اگر آئینی شرائط پوری ہوئیں تو گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے، تاہم ملک بھر میں ایمرجنسی کے نفاذ کا کوئی باضابطہ اعلان تاحال سامنے نہیں آیا۔ دوسری طرف وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ممکنہ گورنر راج کی مخالفت کرتے ہوئے وفاقی حکومت پر تنقید کی ہے۔
ایمرجنسی کے نفاذ کی تیاریاں؟ حکومتی بیانات اور تجزیہ نگاروں نے نئی بحث چھیڑ دی
ایڈیٹر7 Views

