Author: ایڈیٹر

لیکن جیسا میں نے کہا کہ یہ بنکاک کا محض ایک چہرہ ہے۔ اگر آپ ثقافت، تاریخ یا کھیل کے دلدادہ ہیں تو یہ شہر آپ کا دل موہ لے گا۔ سونے کے پانی سے بنے ہوئے مندروں سے لے کر مہاتما بدھ کی مورتیوں تک اور میلے ٹھیلوں سے لے کر کِک باکسنگ کے عالمی مقابلوں تک، بنکاک وہ سب کچھ پیش کرتا ہے جو کسی اور شہر میں نہیں۔ یہاں لوگ پلاسٹک سرجری کروانے آتے ہیں، ہر دوسری عورت نے یہاں ’فِلرز‘ لگوائے ہوئے ہیں اور بندے یہاں میک اپ کر کے یوں پھرتے ہیں کہ لڑکی کا گمان ہوتا ہے، انہیں لیڈی بوائے بھی کہا جاتا ہے۔ جنس تبدیل کروانے کی پوری صنعت بنکاک میں ہے۔ کھانے پینے کے معاملے میں بھی یہ شہر کمال ہے، سستا اور اچھا کھانا بنکاک کا طرہ امتیاز ہے۔ ساٹھ بھات (تقریباً ساڑھے پانچ سو روپوں ) میں آپ کسی شاپنگ مال کے فوڈ کورٹ میں بیٹھ کر اچھا کھانا کھا سکتے ہیں اور اگر اِس سے بھی کم پیسوں میں کھانا ہو تو سڑک کے کنارے ریڑھی سے بار بی کیو کھا لیں۔ اِس سے سستا صرف فاقہ۔

اس وقت دنیا بلاشبہ امریکہ جیسی سپر پاور کے غلط فیصلوں اور صدر ٹرمپ جیسے عاقبت نااندیش لیڈر کی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے لیکن یہ بھی واضح ہورہا ہے کہ کوئی ابھی اس غلط حکمت عملی کو چیلنج کرنے پر تیار نہیں ہے۔ گویا دنیا میں امریکہ کا متبادل موجود نہیں۔ لہذا سعودی عرب ہو یا چین ، اسے اپنے مستقبل کے لیے واشنگٹن کی طرف ہی دیکھنا پڑتا ہے۔

اسامہ بن لادن کو نائن الیون کے ایک دہائی بعد ایبٹ آباد کے ایک گھر میں ایک ایسے فوجی ایکشن میں ہلاک کیا گیا جو عالمی ضابطوں کے خلاف اور دہشت گرد ہتھکنڈوں کے قریب تر تھا۔ پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر معاملہ ایک شخص ہی کا تھا تو اسے تو افغانستان میں بھی ویسے ہی ہلاک کیا جاسکتا تھا جیسے اسے پاکستان میں مارا گیا۔

کلثوم نواز تین مرتبہ خاتون اول اور نوازشریف کی جلاوطنی کے دوران 1999سے 2002ءتک پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صدررہیں۔ 11ستمبر2018ءکو گلے کے سرطان کے باعث ان کا لندن میں انتقال ہوگیا تھا ۔
مکمل خبر کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے ۔۔

سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈاکٹر محمد سمیع ملک نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والے کون تھے، یہ اب تک معلوم نہیں ہو سکا ہے اور اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ فائرنگ کرنے والے ملزمان کے ساتھی تھے یا مخالف اور دشمن، اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ لوگوں کی اکثریت حکومت کو پیر کی رات ہوئے اضافے کا ذمہ دار ٹھہراکر برا بھلا کہنے کے بجائے جماعت اسلامی کے نسبتاًجواں سال امیر حافظ نعیم الرحمن کا تمسخراڑارہی تھی۔ گزشتہ کئی دنوں سے جماعت اسلامی کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں پٹرول اور ڈیزل کی ناقابل برداشت قیمتوں کے خلاف دھرنے دے رہی ہے۔

؂پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 5 پیسے اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 370 روپے 80 پیسے ہوگئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق 11 ستمبر 2026 کے لیے ہوگا۔
حکومت نے گزشتہ روز پیٹرول کی قیمت 367 روپے 75 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 392 روپے 67 پیسے مقرر کی تھی۔

دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک لیٹرپیٹرول پر 131 روپے 60 پیسےکی لیوی، ٹیکس اور مارجنز کی وصولی کی جارہی ہے جب کہ فی لیٹر ڈیزل پر 122 روپے55 پیسے لیوی،ٹیکس اور مارجنز عائد ہیں۔پیٹرول کی فی لیٹر لاگت 234 روپے73 پیسے بنتی ہے تاہم اس وقت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 367 روپے 75پیسے مقرر ہے۔