نظریاتی سیاست میں کوئی فرد اہم نہیں ہوتا، طے شدہ عقیدے کے مفروضہ مقاصد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اپنے نظریات سے مخلص فرد یا گروہ غیر ارادی طور پر ایسی قوتوں میں گھر جاتا ہے جو اس کی ذاتی صلاحیت اور اثر و رسوخ سے بہت زیادہ طاقتور ہوتی ہیں۔
Author: ایڈیٹر
اگر مستقبل میں خواتین اور غیر مسلم نمائندے براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہوں تو ان کی سیاسی حیثیت اور عوامی جواب دہی مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے آئینی ترمیم ناگزیر ہوگی۔
یہ سوال بھی مسلسل حیرت کا سبب ہے کہ نظام کی تباہی کی ’خبر‘ دینے والا وزیر داخلہ خود کیسے اپنے عہدے پر موجود ہے۔ اگر نظام تباہ ہوچکا ہے تو اس تباہی میں کسی ملک میں امن و امان اور قانون کی بالادستی کے ذمہ دار شخص کو سب سے پہلے مورد الزام ٹھہرانا چاہئے۔ لیکن اسے تو معتمد اور پیامبر کا مقام عطا کرکے عزت واحترام سے سرفراز کیا جارہا ہے۔
اس بار عجیب رسم یہ چلی ہے کہ ری سیٹ منصوبے کی خاطر منجی تھلے ڈانگ پھیری جارہی ہےاور اس میں اگر اپنوں کی بھی ’’ منجی ٹھک‘‘ رہی ہے تو کسی کو کوئی پروا نہیں۔ اہل حکم، دباؤ اور احساسات سے بے نیاز ہوجاتے ہیں اپنا یا پرایااوراتحادی یا مخالف،اہم نہیں ہوتے ایجنڈا اہم ہوتا ہے اس میں کسی کی ’’منجی چکی جائے‘‘ یا’’ منجی بسترا گول ہوجائے‘‘ انہیں اس سے نہ غرض ہوتی ہے اور نہ اسکی پروا ۔ اسی لئے تو وہ اہل حکم ہوتے ہیں اور باقی سب اہل ظلم۔
آپ ببانگ دہل فرماتے ہیں کہ سافٹ وئیر تو وہ اپ ڈیٹ کرے جس میں وائرس آ گیا ہو۔ہم تو بقلم خود چلتے پھرتے وائرس ہیں کہ جنہیں کسی اپ ڈیٹ کی ضرورت نہیں ۔آپ کے احوال لطیف پڑھنے کے بعد ایٹمی سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ چوہدری صاحب کی عقل پر زنگ نہیں لگا، بلکہ زنگ پر تھوڑی سی عقل لگ گئی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کون سا عقیدہ درست ہے اور کون سا غلط۔ شاید اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے اختلافِ عقیدہ کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ بہتر انسانوں کی طرح کیسے رہ سکتے ہیں۔
مریم نواز نے فرمایا ہے کہ اُنہیں اپنے پڑوسی ملک سے نہیں بلکہ اپنے پڑوسی صوبوں سے دہشت گردی کے خطرے کا سامنا ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی وزیرِاعلیٰ کا یہ بیان ہمارے اُن تمام صاحبانِ اختیار کے دعووں کی تردید کرتا ہے جن کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں موجود دہشت گردوں کے پیچھے بھارت ہے۔
اہم شہروں میں توپوں کی سلامی سے دن کا آغاز ہؤا اور ٹیلی ویژن پر خصوصی پروگرام بھی نشر ہوئے۔ تاہم اس سال یہ دن منانے میں پہلے جیسا جوش و خروش اور عوامی شرکت دیکھنے میں نہیں آئی۔
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 12 روپے 90 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 358 روپے77 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
بلال غوری کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ ’وہ اپنا ہفتہ وار کالم لکھنے اور وی لاگ شوٹ کرنے کے لیے اپنے گھر کی نچلی منزل پر موجود تھے، تاہم رات گئے تک اوپر نہ آنے پر انھیں تشویش ہوئی اور جب وہ نیچے جا کر دیکھنے گئیں تو بلال غوری گھر میں موجود نہیں تھے۔‘
