نہ اِس شہر کی کوئی کَل سیدھی ہے اور نہ یہاں کوئی پُر فضا مقام ہے۔ ٹریفک بد ترین ہے اور موسم اُس سے بھی زیادہ۔ شدید گرمی اور حبس۔ دو منٹ میں بندہ پسینے میں نہا جاتا ہے۔ ڈاؤن ٹاؤن میں عمارتیں بغیر کسی ترتیب کے بنائی گئی ہیں، ایسے جیسے کسی بچے نے جا بجا lego کے بلاکس کھڑے کر دیے ہوں اور بجلی کے تاروں کے ایسے گُنجل ہیں کہ لاہور کا شاہ عالمی بازار بھی دیکھ کر شرما جائے۔ فٹ پاتھ پر ٹھیلے والوں نے قبضہ جما رکھا ہے اور سیون الیون کے باہر بھکاریوں نے۔ شہر کی گنجان گلیوں میں بدبو کے بھبکے اُڑتے ہیں۔ ایک ٹرین شہر کے اندر چلتی ہے مگر ایسے بے ڈھنگے انداز میں کہ لگتا ہے جیسے کسی اژدہے نے شہر کو جکڑ رکھا ہو۔ لیکن اِس کے باوجود پوری دنیا سے سیاح یہاں آتے ہیں، زمین کے ہر کونے تک پروازیں جاتی ہیں، دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں سے ایک اِس شہر میں ہے، سارا سال یہاں میلے کا سا سماں رہتا ہے، ایسے لگتا ہے جیسے چوبیس گھنٹے کوئی تہوار منایا جا رہا ہو، صبح کے سات بجے ہوں یا رات کے اڑھائی، رونق اتنی ہوتی ہے جیسے کوئی جشن کا سماں ہو۔ یہ دنیا کے چند عجیب و غریب شہروں میں سے ایک ہے، نام ہے بنکاک۔
اگر اِس شہر کا نام سن کر آپ معنی خیز انداز میں مسکرا دیے ہیں تو قصور آپ کا نہیں، اِس شہر کی شہرت ہی کچھ ایسی ہے مگر یہ محض اِس کا ایک روپ ہے۔ میں تین چار دفعہ بنکاک آ چکا ہوں اور ہر مرتبہ اِس شہر کا ایک نیا انداز سامنے آتا ہے۔ بنکاک وہ شہر نہیں جہاں آپ ایک فہرست بنا کر جائیں اور چار دن میں ’ٹِک مارک‘ کر کے واپس آ جائیں۔ یہ شہر آپ کو تھکا دے گا۔ یہاں لوگ عیاشی کرنے بھی آتے ہیں اور ہنی مون منانے بھی، بچوں کو لے کر بھی آتے ہیں اور دوستوں کو بھی۔ کم بجٹ میں سیر کرنی ہے تو یہ شہر آئیڈیل ہے، یورپ کے مقابلے میں تین سے چار گنا سستا۔ اور اگر آپ فائیو سٹار قسم کا قیام کرنا چاہتے ہیں تو اُس کی بھی یہاں کوئی انتہا نہیں۔
بیجنگ سے واپسی پر میں یہاں تین دن کے لیے رکا۔ حبس ایسا شدید تھا کہ چلنا محال ہو گیا۔ بنکاک کی بارش البتہ مشہور ہے، اچانک ہوتی ہے اور موسلادھار۔ اُس رات بھی یہی ہوا۔ کشتی میں سوار ہو کر سیام آئیکن پہنچا جو بنکاک کا مشہور تفریحی مقام ہے۔ دریا کے کنارے شاپنگ سینٹر آباد کیا گیا ہے، شنگھائی کا بند یاد آ گیا۔ تا حد نگا روشنیاں اور بلند و بالا عمارتیں جن کا عکس پانی میں جھلملا رہا تھا۔ سیام آئیکن کے اندر انواع و اقسام کے کھانے، دنیا کے بڑے بڑے برینڈز اور تھائی لینڈ کی اپنی بنی ہوئی مصنوعات مہنگے داموں بِک رہی تھیں۔ ایک جگہ مگرمچھ کی کھال اتار کر ایسے رکھی ہوئی تھی جیسے اُس کی سجّی بنانی ہو۔ کشتی کے علاوہ یہاں چونکہ ٹرین بھی آتی ہے تو سوچا واپسی پر ٹرین لے لوں۔ باہر نکلا تو ایسی بارش شروع ہو گئی کہ لگتا تھا اب قیامت کے دن ہی تھمے گی۔ لیکن لوگ یوں مطمئن تھے جیسے معمول کی بات ہو۔ اگلے اسٹیشن پر اترا تو بارش رک چکی تھی اور زندگی ویسے ہی رواں دواں تھی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
بنکاک وہ شہر ہے جس کے بارے میں اندازہ لگانا مشکل ہے کہ یہاں مندِر زیادہ ہیں یا قحبہ خانے۔ مندر نہ بھی ہو تو پوجا کے لیے جگہ جگہ مورتیاں رکھی ہوتی ہیں جس پر لوگ چڑھاوے بھی چڑھاتے ہیں۔ یورپی سیاحوں کے لیے یہ جگہ کسی جنت سے کم نہیں، اُن کے زیادہ تر ممالک میں جسم فروشی اور نشہ آور اشیا (ما سوائے شراب) پر پابندی ہے اور جہاں قانوناً اجازت بھی ہے وہاں وہ آزادی میسر نہیں جو تھائی لینڈ میں ہے۔ جس شہر میں دکانوں کے باہر علانیہ لکھا ہو کہ ہم یہاں گانجا فروخت کرتے ہیں وہاں ایمسٹرڈیم کی چار پردوں میں لپٹی ہوئی weed بیچاری کیا کرے گی۔ یورو کو جب یہ یورپین تھائی بھات میں تبدیل کرتے ہیں تو اُن کے ہاتھ میں نوٹوں کی گڈیاں آجاتی ہیں جن سے وہ بنکاک کے کلبوں میں ویسے ہی ’چھَٹّے‘ مارتے ہیں جیسے بھلے وقتوں میں اپنے ہاں ہیرا منڈی میں جاگیر داروں کے لونڈے چھَٹّے مارا کرتے تھے۔ جین زی کو اِس پریکٹس کا علم نہیں اور انہیں بتانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔
لیکن جیسا میں نے کہا کہ یہ بنکاک کا محض ایک چہرہ ہے۔ اگر آپ ثقافت، تاریخ یا کھیل کے دلدادہ ہیں تو یہ شہر آپ کا دل موہ لے گا۔ سونے کے پانی سے بنے ہوئے مندروں سے لے کر مہاتما بدھ کی مورتیوں تک اور میلے ٹھیلوں سے لے کر کِک باکسنگ کے عالمی مقابلوں تک، بنکاک وہ سب کچھ پیش کرتا ہے جو کسی اور شہر میں نہیں۔ یہاں لوگ پلاسٹک سرجری کروانے آتے ہیں، ہر دوسری عورت نے یہاں ’فِلرز‘ لگوائے ہوئے ہیں اور بندے یہاں میک اپ کر کے یوں پھرتے ہیں کہ لڑکی کا گمان ہوتا ہے، انہیں لیڈی بوائے بھی کہا جاتا ہے۔ جنس تبدیل کروانے کی پوری صنعت بنکاک میں ہے۔ کھانے پینے کے معاملے میں بھی یہ شہر کمال ہے، سستا اور اچھا کھانا بنکاک کا طرہ امتیاز ہے۔ ساٹھ بھات (تقریباً ساڑھے پانچ سو روپوں ) میں آپ کسی شاپنگ مال کے فوڈ کورٹ میں بیٹھ کر اچھا کھانا کھا سکتے ہیں اور اگر اِس سے بھی کم پیسوں میں کھانا ہو تو سڑک کے کنارے ریڑھی سے بار بی کیو کھا لیں۔ اِس سے سستا صرف فاقہ۔
لاس ویگس، ویانا یا ایمسٹرڈیم تو نہیں تاہم بنکاک جیسے شہروں میں جا کر یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ آخر ہم اپنے ملک میں سیاحوں کو کیوں نہیں لا سکتے۔ ظاہر ہے کہ اِس سوال کے درجنوں جوابات ہیں اور کم و بیش سب ہی درست ہیں۔ دنیا کے اُن ممالک میں بھی سیاحت ہم سے زیادہ ہے جہاں امن و امان کی صورتحال لگ بھگ ہمارے جیسی ہے، گورے وہاں بھی چلے جاتے ہیں مگر یہاں نہیں آتے، کیوں؟ اِس سوال کو اگر ہم یوں پوچھ لیں کہ گورے یہاں کیوں آئیں تو زیادہ آسان ہو جائے گا۔ ممکن ہے کچھ لوگوں کا خیال ہو کہ اگر یہاں بھی بنکاک جیسی آزادی مل جائے تو سیاحت کو فروغ مل جائے گا لیکن میں اِس سے اتفاق نہیں کرتا۔ ہر شہر اور ملک کی اپنی ’نیش‘ ہوتی ہے، بنکاک نے اپنی ایک انفرادیت قائم کی ہے جس کی نقل کرنا ممکن نہیں۔ ہماری انفرادیت دریا، جھیلیں یا بلند و بالا عمارتیں نہیں ہیں، دنیا میں یہ چیزیں ہم سے کہیں بہتر موجود ہیں، ہماری انفرادیت اندرون شہر لاہور ہے، ٹیکسلا ہے، تخت بائی ہے، موہنجودڑو، ہڑپا، مہر گڑھ، سوات، روہتاس، بھنبھور اور وادی کیلاش ہے۔ ہم جھیل سیف المکوک کو بیچنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ناروے میں ایسی جھیلیں چپے چپے پر رُل رہی ہیں۔ ناروے میں البتہ اندرون شہر کی گلیاں نہیں ہیں، رانی کوٹ کا قلعہ نہیں ہے اور بابا گرو نانک کی جنم بھومی نہیں ہے۔ خیر، اِن باتوں کو رگیدنے کا کوئی فائدہ نہیں، صبح شام کا یہی رونا ہے۔
بنکاک سے واپسی ہو چکی ہے۔ جو لوگ پوچھیں گے کہ بنکاک یاترا کیسی رہی تو اُن کے لیے یہی جواب ہے کہ جو کچھ دیکھا اور کیا، یہاں لکھ دیا، اگر تسلی نہیں ہوئی تو خود تشریف لے جا کر دیکھ لیں۔ آپ ایک مرتبہ دیکھیں گے، دوسری مرتبہ دیکھنے کی ہوس ہو جائے گی۔
( بشکریہ : ہم سب )
اتوار, ستمبر 13, 2026
تازہ خبریں:
- اِس شہر کے کتنے روپ ہیں؟ ۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- دنیا میں امریکہ کا متبادل موجود نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم
- رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم

