Author: ایڈیٹر

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے جنوری 2026 میں سوشل میڈیا پر ’ریاست مخالف ٹویٹ‘ پر ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے علاوہ انھیں تین کروڑ ساٹھ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔

ایک ہم ہیں کبھی کسی تعیناتی کے بارے میں ہلکان ہو جاتے ہیں تو کبھی کسی کے ہوائی سفر پر تبصرے کرنے لگتے ہیں، بھئی عام آدمی کا کیا کام اِن باتوں سے۔ اسے تو صرف پٹرول۔ اوہ معافی چاہتا ہوں، اُسے تو صرف اِس بات سے غرض ہے کہ ماہرہ خان اِس عمر میں حاملہ کیسے ہو گئی؟

کھاڈی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے پشاور کنزیومر کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ انصاف کے تقاضوں پر پورا نہیں اُترتا، اس لیے اسے اعلی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔

اس اضافے سے عوام کے سفری اخراجات کے ساتھ ساتھ مال برداری، زرعی شعبے، بجلی کی پیداواری لاگت اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں پر بھی مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔

بائیس سالہ اشفاق احمد جی پی او کی طرف سے سائیکل دوڑاتے ہوئے زمزمہ توپ کی طرف آئے اور سڑک کے بیچوں بیچ آرائشی چار دیواری پر پاﺅں ٹکا کر پرجوش لہجے میں اعلان کیا کہ پاکستان کے ڈاک ٹکٹ چھپ کر ڈاک خانے میں پہنچ گئے ہیں۔ دیکھئے، نمود عشق میں معمولی سا واقعہ بھی کیسی جذباتی کیفیت میں ڈھل جاتا ہے۔

جس روز آئینی عدالت کے سربراہ کا آئینی بالادستی کے بارے میں روح افز ابیان شائع ہؤا ہے ، اسی روز یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ آئینی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو سپریم کورٹ کی طرف سے نجی ہسپتال میں علاج کرانے کی سہولت فراہم کرنے کے حکم کی تمام دستاویزات طلب کرلی ہیں۔

اب لگتا یہ ہے کہ امریکہ موجودہ دور میں عالمی تھانیداری (Global Policing) کے ہردم مہنگے ہوتے ہوئے کردار کو ترک کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے اور امریکہ کی جانب سے “پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اجتماعی سلامتی ایگریمنٹ” جیسے علاقائی سلامتی کے معاہدوں کی حمایت اسی بات کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے، تو نئی ابھرتی ہوئی عالمی صورتحال میں دیکھنا یہ ہے کہ اب یک طرفہ سلامتی کے روایتی امریکی ماڈل کو اہمیت باقی رہتی ہے یا چین کی مشترکہ اجتماعی سلامتی پالیسی تسلیم کی جاتی ہے؟

نوٹی فکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 42 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد قیمت 380 روپے 24 پیسے کی سطح پر پہنچ گئی۔
اس کے علاوہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 6 روپے 10 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے

حکمرانوں اور عوام کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کی بجائے انہیں مسلسل بڑھایا جارہا ہے۔ یہ فاصلے بد اعتمادی اور ہیجان پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ سیاسی مکالمہ اور جواب دہی کا طریقہ سنسر اور دیگر پابندیوں کے ذریعے یوں ہی ختم کیا جاچکاہے۔ اس صورت حال کو ’نیو نارمل‘ کر کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ملکی استحکام اور قومی سلامتی کا سوال ہے۔

اسلام آباد کی حدود میں اسکا اطلاق آئندہ پیر اور منگل کی درمیانی شب کردیا جائے گا جبکہ پورے پاکستان میں بشمول کشمیر اور گلگت بلتستان، اسکا اطلاق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب میں کیا جائے گا۔