آج سے پچیس سال پہلے دہشت گردی کی واردات کے بعد امریکہ نے پوری دنیا کو اپنے غم و غصہ کا نشانہ بنایا۔ افغانستان اور عراق پر طویل المدت اور بے مقصد جنگیں مسلط کیں۔ امریکہ کو محفوظ بنانے کے نام پر کی جانے والی ان جنگوں نے لاکھوں انسانوں کی جان لی۔ اس کے علاوہ افغانستان اور عراق ہی نہیں مشرق وسطیٰ کے وسیع تر علاقوں میں ان جنگوں کی تباہ کاری محسوس کی گئی۔
امریکہ کا قریب ترین حلیف ہونے کی وجہ سے پاکستان اس جنگ کی بھاری قیمت ادا کرچکا ہے۔ جنگ کی وجہ سے ہونے والے نقصان کو اگرچہ انسانی جانوں کے ضیاع اور مالی وسائل کی قدر میں ماپنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن یہ نقصان صرف 80 ہزار شہریوں کی موت اور اربوں ڈالر کے نقصان تک محدود نہیں رہا بلکہ پاکستانی معاشرے پر مرتب ہونے والے اثرات کی وجہ سے کئی نسلوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہے۔ مجاہدین کی کمر تھپک کر سوویٹ یونین کے خلاف جنگ جوئی سے لے کر طالبان کو دشمن قرار دے کر انہیں نیست و نابود کردینے کے عزم تک امریکی پالیسیوں نے ان ممالک کو تو جو نقصان پہنچایا لیکن پاکستان جیسے حلیف ممالک کو بھی تباہی کے کنارے لا کھڑا کیا۔
پاکستان کی حد تک یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ آج ملک کو جس دہشت گردی انتہاپسندی، مردم بیزاری، سماجی توڑ پھوڑ اور شکست و ریخت کا سامنا ہے اس کی بنیاد نائن الیون کے بعد شروع ہونے والی امریکی جنگوں ہی نے رکھی تھی۔ آج پاکستان کی نوجوان نسل کو یہ تو معلوم نہیں کہ ربع صدی پہلے امریکہ میں کیا ہوا تھا جس کے نتیجے میں بپھری ہوئی ایک سپر پاور نے دنیا کو نیست و نابود کردینے کا عزم ظاہر کیا لیکن اسلحہ عام ہونے، مذہبی انتہا پسندی پھیلنے اور دہشت گردی کے نام پر یا اس کے خلاف ہونے والے اقدامات میں برتے جانے والے غیر انسانی سلوک نے نئی پروان چڑھنے والی نسلوں کی ایسی نشو نما کی ہے کہ ان کے لیے غلط اور درست میں تمیز کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستانی نوجوانوں کے پاس تعلیم یا روزگار کے مواقع تو موجود نہیں ہیں لیکن ان کے ہاتھوں میں ہتھیار ہیں اور وہ ’راہ راست‘ کی تلاش میں اپنوں ہی کا گلا کاٹنے پر آمادہ ہیں۔
امریکہ نے نائن الیون کے نام پر انتہا پسندی ختم کرنے کا نعرہ لگا کر درحقیقت مسلمان نوجوانوں کو بے یقینی کی خطرناک صورت حال سے دوچار کیا ہے اور یہ عناصر درحقیقت 25 سال پہلے کی دنیا کے مقابلے میں زیادہ نازک اور حساس معاملہ بن چکے ہیں۔ پاکستان میں ابھرنے والی شدت پسندی اور مسلح کارروائیوں کا سامنا یہاں کے عوام کر رہے ہیں لیکن دیگر متعدد ممالک میں دہشت گردی ختم کرنے کے نام پر روا رکھی جانے والی زیادتیوں نے ایسی ہی نسلیں پروان چڑھائی ہیں جنہیں موقع ملے تو وہ دنیا کو جلا کر بھسم کر دیں۔ اور یہ بات محض محاورے کی حد تک نہیں ہے۔ ایسے محاورے شاید عملی صورت حال کا احاطہ کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔
نائن الیون کے بعد دنیا کے لیے سب سے اہم سوال یہ تھا کہ کہ مذہب کے نام پر ابھرنے والی انتہاپسندی کو کیسے ختم کیا جائے۔ وہ کیا طریقہ ہو کہ نوجوان دین کے نام پر جنگ اور قتل و غارت گری پر آمادہ نہ ہوں۔ اس کا سادہ اور عام فہم، جمہوری تقاضوں کے مطابق اور انسانی نفسیات سے قریب تر حل تو یہی تھا کہ تعلیم کے مواقع عام کیے جاتے۔ پوسٹ کولونیل عہد میں رونما ہونے والی محرومیوں اور نا انصافیوں کا تدارک کرنے کے لیے اقدامات ہوتے اور مسلمان ممالک کے علاوہ دیگر ملکوں کے لوگوں کو بھی زندگی کی سہولتوں، سائنسی ترقی اور فلاحی راحتوں سے استفادہ کرنے کا ویسا ہی موقع فراہم ہوتا جو ترقی یافتہ دنیا نے اپنا استحقاق مان لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ویسے ہی نظام کی حوصلہ افزائی کرنا ضروری تھا۔ مغربی ممالک پر لازم تھا کہ وہ غریب مسلمان ممالک میں جمہوری روایات کے فروغ اور انصاف کی فراہمی کا موقع فراہم کرتے۔ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جاتی جو آمریت نافذ کر کے اپنے لوگوں کو محروم رکھتے ہیں اور انہیں بھٹکنے پر آمادہ کرتے ہیں۔
تاہم غصے میں بھری ہوئی امریکی حکومت کا جواب تھا کہ دہشت گردوں کو طاقت کے زور پر ملیا میٹ کرنا ہی مسئلہ کا حل ہے۔ عقل و دلیل کی کوئی بات 2001 میں امریکیوں کو سمجھائی نہیں جا سکتی تھی۔ امریکی لیڈر تو شاید اب تک اس مزاج سے ناآشنا ہیں جو مسلسل ان کی اپنی اور دنیا کی مشکلوں میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس کا نتیجہ تھا کہ افغانستان میں ایک اسامہ بن لادن کو حوالے نہ کرنے کے نام پر اور عراق میں صدام حسین کے پاس خطرناک ہتھیاروں کے ذخیرے کے نام پر حملے کیے گئے۔ یہ دونوں عذر غلط ثابت ہوئے۔ اسامہ بن لادن کو نائن الیون کے ایک دہائی بعد ایبٹ آباد کے ایک گھر میں ایک ایسے فوجی ایکشن میں ہلاک کیا گیا جو عالمی ضابطوں کے خلاف اور دہشت گرد ہتھکنڈوں کے قریب تر تھا۔ پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر معاملہ ایک شخص ہی کا تھا تو اسے تو افغانستان میں بھی ویسے ہی ہلاک کیا جاسکتا تھا جیسے اسے پاکستان میں مارا گیا۔ پھر شاید افغانستان پر حملے اور اس سے ہونے والی تباہی و نقصان سے محفوظ رہا جاسکتا۔ اسی طرح اگر عراق میں صدام حسین کی حکومت محفوظ رہتی تو شاید مشرق وسطیٰ میں مذہبی شدت پسندی کو پھلنے پھولنے کا ویسا موقع نہ ملتا جو اس کی حکومت گرانے اور عراق میں انتشار پیدا کرنے کی وجہ سے اسے حاصل ہوا۔ امریکہ اس موقع پر اپنی یک طرفہ جارحیت سے باز رہتا تو شاید ایران میں ملاؤں کی حکومت بھی اتنی انتہاپسند نہ ہوتی کہ اسے دنیا کے لیے خطرہ قرار دے کر 2026 میں ایک نئی اور زیادہ خوفناک جنگ کا آغاز کرنا پڑتا۔
جمہوریت کے نام لیواؤں نے اپنے علاقائی اور محدود اسٹریٹیجک مفادات حاصل کرنے کے لیے پاکستان سے لے کر دو ر و نزدیک ہر ملک میں ایسے حکمرانوں کے ہاتھ مضبوط کیے جو اپنے لوگوں کا گلا دبا کر امریکی مفادات کا تحفظ کرتے رہے ہیں۔ اسی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ اسرائیل کسی بھی عالمی ضابطے کو ماننے سے انکار کرتا ہے اور غزہ ہی نہیں فلسطینیوں کے دیگر علاقوں پر ناجائز تجاوزات کے ذریعے مسلسل دہشت اور نا انصافی عام کر رہا ہے۔ اب اسی منشور کے تحت لبنان پر جنگ مسلط کی گئی ہے اور اس کے وسیع علاقے کو تاراج اور لاکھوں انسانوں کو بے گھر کیا گیا ہے۔ امریکہ کی قیادت میں دنیا میں انتہاپسندی کا خاتمہ کرنے والے ’روشن خیال ممالک کا گروپ‘ اسرائیلی ظلم اور لاقانونیت کو روکنا تو کجا اسے غلط کہنے کا حوصلہ بھی نہیں کرتا۔ جب انصاف کے نام پر نا انصافی اور امن کے نام پر ظلم عام کیا جائے گا تو دنیا میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کیسے ختم ہوگی؟
اس کے باوجود امریکہ نے سبق نہیں سیکھا اور فروری کے مہینے سے ایران کے خلاف جنگ شروع کر کے تباہی و بربادی کے علاوہ بے یقینی اور عدم استحکام کے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے۔ جو ’مسئلہ‘ چند حملوں میں حل کرنے کا خواب دیکھا گیا تھا، چھے ماہ گزرنے کے باوجود اس کا حل دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ پہلے یہ معاملہ آبنائے ہرمز کھولنے تک محدود تھا، اب ایران کی حمایت سے فعال حوثی جنگجوؤں نے باب المندب میں اپنی حکمرانی قائم کرنے کے لیے موثر پیش قدمی شروع کی ہوئی ہے اور امریکی صدر اپنے حلیف ممالک کو جنگ میں جھونک کر خود کسی بھی طرح ’مڈ ٹرم‘ انتخابات جیتنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دنیا کو عدم استحکام اور معاشی تباہی کے کنارے پہنچانے کے عوامل کی نشاندہی کی جائے تو ان کا سرا نائن الیون کے بعد اختیار کی گئی امریکی پالیسیوں میں ملے گا۔ ایک کے بعد دوسرے ایڈونچر نے نہ صرف مذہبی گروہوں کو طاقت پکڑنے کا موقع دیا ہے بلکہ لوگوں کی محرومیاں انہیں مسلسل انتہاپسندانہ رجحانات کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ نائن الیون کی 25 ویں برسی کے موقع پر اگر انتہا پسندی اور دہشت گردی کو ختم کرنے کے نظریے سے بھی دیکھا جائے تو بھی امریکہ بہادر کٹہرے میں کھڑا دکھائی دے گا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ناروے )

