Author: ایڈیٹر

اہم سوال یہی ہے کہ کیا ہم نے ان لاکھوں قربانیوں کے اصل مقصد کو حاصل کر لیا ہے، یا اب بھی ہمیں اپنی معاشی پالیسیوں، حکمرانی کے نظام اور قومی ترجیحات پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے؟ اس سوال کا جواب مایوسی میں نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ احتساب، بہتر پالیسی سازی، قومی وسائل کے دانشمندانہ استعمال اور قانون کی یکساں عملداری میں پوشیدہ ہے۔

لکیر حب الوطنی اور غداری کے کے بیچ واضح کی جارہی ہے۔ لیکن اسے نمایاں کرنے کی وجوہات کا تعین کرنے کا اختیار ’ریاست‘ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ بدنصیبی سے ہر گزرنے والے دن کے ساتھ لوگوں کی بڑی تعداد اس نادیدہ ریاست کے ساتھ اپنے تعلق و شناخت کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہورہی ہے۔ اور یہاں آباد 25 کروڑ لوگ اس دوران اس مشکل میں ہیں کہ کس آئینے میں اپنا عکس تلاش کریں۔ وہ جو آئین کی کتابوں تک محدود ’ریاست‘ دکھاتی ہے یا وہ جو ہزاروں سال کا تہذیبی ورثہ انہیں فراہم کرتا ہے۔
( تجزیئے کا لنک پہلے کمینٹ میں دیئے گئے )

اسلام آ باد کے ہر سیکٹر میں تقریباََ روزانہ کی بنیاد پر نیٹ میٹر کے گرد لپٹی تاریں کاٹی جارہی ہیں۔ میں شرمسار ہوں کہ برسوں سے اخبارات کا پلندہ نہایت توجہ سے ختم کرنے کے باوجود مجھے ’’جرم‘‘ کی اس قسم کا کبھی علم نہیں ہوا۔

تحریک انصاف کے بانی رہنما کے ساتھ ملاقاتوں پر پابندی کی وجہ سے خاص طور سے جھوٹ پھیلانے والے ،بے بنیاد خبریں عام کرکے ملک میں مزید مایوسی و پریشانی پیدا کررہے ہیں۔ حکومتی اہلکاروں کی باتوں سے لگتا ہے کہ وہ اس صورت حال کا مزہ لے رہے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ تحریک انصاف کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور اس کی قیادت ایک دوسرے سے الجھنے میں زیادہ مصروف ہے۔

اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ کتابیں بڑی بڑی اے آئی کمپنیاں خرید رہی ہیں۔ انہیں ہائی اسپیڈ سکینرز سے کاپی کر رہی ہے اور پھر ہائیڈرولک کٹرز سے کاٹ کے گودا بنا رہی ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے کہ یہ کمپنیاں کتابوں کو کاپی کرنے کے بعد ہارڈ کاپی محفوظ کرنے کے بجائے ضائع کر رہی ہیں۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے افراد اپنے کسی بھی ممکنہ نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے جبکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔