لندن : نام ور ترقی پسند دانشور پروفیسر امین مغل نام ور ترقی پسند دانشور پروفیسر امین مغل 91 برس کی عمر میں لندن میں انتقال کر گئے ۔ پروفیسر امین مغل 1935ء میں پنجاب میں پیدا ہوئے۔ وہ انگریزی ادب کے استاد، ادبی نقاد، پنجابی و اردو ادب کے شناسا اور پاکستان کے ترقی پسند/بائیں بازو کے سیاسی کارکن تھے۔ بعد میں انہوں نے لندن میں طویل عرصہ جلاوطنی کی زندگی گزاری
وہ اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور میں انگریزی پڑھاتے تھے۔ ان کے ساتھ پروفیسر ایرک سپرئین اور پروفیسر منظور احمد بھی اسی کالج میں ترقی پسند اساتذہ کے طور پر سرگرم تھے۔ تینوں کی کلاسیں خاصی مقبول تھیں اور دوسرے اداروں کے طلبہ بھی ان کے لیکچر سننے آتے تھے
1960ء کی دہائی میں امین مغل اور ان کے ساتھیوں نے کالج اساتذہ کے حقوق اور بہتر تنخواہوں کے لیے اساتذہ کی تنظیم میں فعال کردار ادا کیا۔ ۔
1968ء میں انجمن حمایتِ اسلام، جو اسلامیہ کالج کی منتظم تھی، نے امین مغل، ایرک سپرئین اور منظور احمد کو ترقی پسند سیاسی سرگرمیوں اور مبینہ ’’تخریبی‘‘ سرگرمیوں کے الزامات کے تحت ملازمت سے نکال دیا۔ ۔
اس کے بعد تینوں نے شاہ حسین کالج، لاہور قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ ادارہ 1970ء کی دہائی میں لاہور کے ترقی پسند فکری اور سیاسی حلقوں کا ایک اہم مرکز بن گیا۔
امین مغل صرف استاد نہیں تھے بلکہ عملی سیاست میں بھی سرگرم رہے۔ وہ نیشنل عوامی پارٹی (NAP) کے رہنما تھے اور صوبائی سطح پر پارٹی کے سیکرٹری بھی رہے۔ سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے انہیں کئی مرتبہ قید بھی کیا گیا ۔
وہ لاہور کے بدنام زمانہ ٹارچر سیل شاہی قلعہ میں بھی تشدد برداشت کرتے رہے۔
امین مغل 1984ء میں ضیاء الحق کے دور آمریت میں برطانیہ چلے گئے اور لندن میں سیاسی جلاوطنی کی زندگی گزاری۔ وہاں بھی وہ پاکستانی ادبی اور سیاسی حلقوں میں فعال رہے۔ وہ Viewpoint ہفت روزہ سے وابستہ رہے اور لندن سے شائع ہونے والے اردو روزنامے آواز کے مدیر بھی رہے۔
وہ اردو اور پنجابی ادب کے ناقد بھی تھے اور پنجابی زبان و ادب سے گہری دلچسپی رکھتے تھے۔
جمعرات, ستمبر 17, 2026
تازہ خبریں:
- پیٹرول ، ڈیزل کی قیمتوں میں ستمبر کے دوران ساتویں بار اضافہ : عوام پر 41.55 روپے کا بوجھ ڈالا گیا
- حرف حق دل میں کھٹکتا ہے : وجاہت مسعود کا کالم
- آئین کے شیش محل میں پڑتی دراڑیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- اجتماعی سلامتی: تصور سے عملی حکمتِ عملی تک! امریکہ، ایران جنگ کے تناظر میں ۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (2)
- پیٹرول کی قیمت میں مزید پونے پانچ روپے کا اضافہ : ڈیزل بھی 6 روپے لیٹر مہنگا
- عوام سے لیڈروں کی دور ی کسی طوفان کا پیش خیمہ بنے گی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- موٹر سائیکل ، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف
- ایران، امریکہ جنگ کےشعلے : چین چَین کی بنسری کیوں بجا رہا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (1)
- اِس شہر کے کتنے روپ ہیں؟ ۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- دنیا میں امریکہ کا متبادل موجود نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ

