ہر صوبے میں تھانے ہوں گے۔ ایس ایچ او صاحبان ہوں گے اور وہ لوگ بےشمار ہوں گے۔ عدالتیں ہوں گی۔ ایک صوبائی بڑی عدالت ہوگی جس کا کوئی جج صوبائی عدالت کا چیف جسٹس ہوگا۔ وہ جج صاحب نئی صوبائی حکومت کی پسند کا ہوگا۔
Author: ایڈیٹر
پاکستان اگر بھارت کے ساتھ کسی تنازعہ میں ملوث ہوتا ہے تو معاہدے کے تحت دیگر ملکوں کو اس جنگ میں شامل ہونے پر مجبور نہیں کرسکتا بلکہ ترکیہ اور سعودی عرب خود مختارانہ طور پر یہ طے کرنے کے مجاز ہوں گے کہ کیا واقعی پاکستان پر حملہ ہؤا ہے اور کیا انہیں بھی اس جنگ میں ملوث ہونا چاہئے۔
اس بیان کو ایک تنبیہ، ایک اعتراف یا ایک اصلاحی دعوت جس زاویے سے بھی دیکھا جائے۔اس نے ریاستی نظام کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات ضرور اٹھائے ہیں۔
رہبری کے منصب تک پہنچنے کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کی کوئی آواز یا تصویر جاری نہیں کی گئی اور مسعود پزشکیان کے علاوہ کسی اور سرکاری عہدے دار نے ان سے بالمشافہ ملاقات کا ذکر نہیں کیا ہے۔
بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں موبائل فون سروس بند ہونے کا سلسلہ اتوار کو ڈیڑھ بجے کے بعد شروع ہوا۔ اس کے ساتھ ہی بلوچستان کے دیگر علاقوں سے بھی موبائل فون سروس بند ہونے کی اطلاعات موصول ہونا شروع ہوگئیں۔
پنجاب کے مہاراجوں کو گھوڑوں کا شوق تھا، پاکستان کے حکمرانوں کو نئے نئے نظام لانے اور سب کچھ بدلنے کا شوق ہے۔ شوق تو شوق ہے اس کی جتنی بھی قیمت ادا کرنی پڑے ادا کی جاتی ہے۔
پاکستان کے سیاسی نظام میں اپر مڈل کلاس تک کے آدمی کی رسائی صرف اور صرف ووٹر کی حد تک ہے اور اس کے ووٹ کے ساتھ کیا ہوتا ہے ووٹ دیتے وقت بیچارے کو خود یقین ہی نہیں ہوتا کہ جو جس جماعت کو ووٹ دے رہا ہے اس کے ووٹوں کی تعداد کی وجہ سے اگر وہ جیت پاتی بھی ہے یا نہیں یا اس سے جیتنے دیا جاتا بھی ہے یا نہیں کیونکہ پاکستان کے سیاسی نظام میں ایک مذاق کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں اہم ووٹ دینے والا نہیں بلکہ ووٹ گننے والا ہے
اگر کسی ایشر سنگھ گریوال نے سرگودھا آنا ہے تو سو دفعہ آئے، ہم اُس کا راستہ روکنے کے بجائے خود اُسے وہاں تک لے جائیں گے جہاں کبھی ملکہ دلفریب رہا کرتی تھی۔ وہ فلم میں وعدہ کرتا ہے کہ ”میں واپس آؤں گا“۔ ہم اِس وعدے کے دوسرے سرے پر بانہیں کھولے کھڑے ہیں اور ہمارے پاس کہنے کو بس ایک ہی جملہ ہے: جی آیاں نوں!
جنگ بند ہونے اور حالات معمول پر آنے کی صورت میں پاسداران کے جنرلز شاید من مانی کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہیں گے۔ خاص طور سے اگر انہیں ’قوت‘ فراہم کرنے والا رہبر اعلیٰ بھی کوئی فیصلہ کرنے یا عوام کو شکل دکھانے کے قابل نہیں ہے تو پاسداران انقلاب کی ’مجبوری‘ قابل فہم بھی ہوجاتی ہے۔
نیہا بورا نے الزام لگایا کہ انہیں ڈرانے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن وہ اس سے خوفزدہ نہیں ہوں گی اور طلبہ کی تحریک جاری رہے گی۔ دوسری جانب AISA اور سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ واقعہ سیاسی مخالفت کا نتیجہ ہے، جبکہ اس الزام کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
