Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعرات, اگست 13, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • عمران خان کی قیدِ تنہائی ختم کی جائے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • کتابوں کی آخری ہچکی :وسعت اللہ خان کا کالم
  • بلوچستان کے ضلع سوراب میں 15 اکست تک رات کا کرفیو : قلات اور خضدار میں پابندیاں
  • نئے صوبے کی باتیں :امر جلیل کا کالم
  • سہ ملکی دفاعی معاہدہ: توقعات اور حقائق : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیان وقت کی ضرورت ہے؟ پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا کالم
  • ’ مجتبیٰ خامنہ ای جسمانی لحاظ سے مکمل صحت مند‘ ہیں: ایرانی صدر کا سات گھنٹے طویل ملاقات کے بعد دعویٰ
  • جشن آزادی پر سکیورٹی : کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں موبائل سروس بند
  • مہاراجہ کی گھوڑیاں اور نئی سیاست :سہیل وڑائچ کا کالم
  • وزیر داخلہ کا بیان اور ہمارا گلا سڑا نظام : مہتاب حیدر تھہیم کا تجزیہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»تجزیے»عمران خان کی قیدِ تنہائی ختم کی جائے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
تجزیے

عمران خان کی قیدِ تنہائی ختم کی جائے : سید مجاہد علی کا تجزیہ

ایڈیٹراگست 13, 202614 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
imran khan with flag
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

عمران خان کی صحت اور زندگی کے بارے میں افواہ سازی و غیر یقینی اور تحریک انصاف کی قیادت کے باہمی انتشار کی وجہ سے پارٹی کارکنوں اور سیاسی افہام و تفہیم کی خواہش رکھنے والے عناصر میں شدید تشویش موجود ہے۔ تاہم حکومت کا رویہ سنگدلانہ اور غیر مصالحانہ ہے۔ حکومت اس صورت حال کو اپنی سیاسی کامیابی سمجھنے کی شدید غلط فہمی کا شکار ہے۔
تحریک انصاف کے بانی رہنما کے ساتھ ملاقاتوں پر پابندی کی وجہ سے خاص طور سے جھوٹ پھیلانے والے ،بے بنیاد خبریں عام کرکے ملک میں مزید مایوسی و پریشانی پیدا کررہے ہیں۔ حکومتی اہلکاروں کی باتوں سے لگتا ہے کہ وہ اس صورت حال کا مزہ لے رہے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ تحریک انصاف کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور اس کی قیادت ایک دوسرے سے الجھنے میں زیادہ مصروف ہے۔ اس لیے وہ کوئی سیاسی چیلنج نہیں بنے گی۔ یہ تاثر کسی حد تک درست ہوسکتا ہے لیکن عوامی بہبود اور جمہوریت کے نام پر حکومت بنانے والی پارٹیوں کو ہرگز یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ایک ایسی پارٹی کے ساتھ اس قسم کا ناجائز اور غیر منصفانہ سلوک روا رکھیں جسے پارلیمنٹ میں کثیر نمائندگی حاصل ہے۔ ملک میں عام طور سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ اگر کسی وقت ملک میں شفاف انتخابات ہوگئے تو تحریک انصاف کو واضح اکثریت حاصل کرنے سے نہیں روکا جاسکے گا۔
کسی سیاسی پارٹی کی ایسی عوامی مقبولیت اور رسائی کا تقاضا ہے کہ سیاسی و جمہوری بنیاد پر بننے والی حکومت اس کا احترام کرے اور پارٹی اور اس کے لیڈروں کو مناسب سپیس دی جائے۔ کچھ بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں اور ان کے قانونی حقوق سے محض عذر تراشی کی بنیادپر انکار نہ کیا جائے۔ تحریک انصاف اپنی مقبولیت اور پارلیمانی نمائیندگی کے باوجود اس وقت حکومت کے لیے کوئی سیاسی خطرہ نہیں ہے بلکہ اب تو ان کے بیانات میں پہلے سا جوش خروش یا دھمکی آمیز تمکنت بھی دکھائی نہیں دیتی۔ اس کا مظاہرہ گزشتہ روز خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی پریس کانفرنس سے کیا جاسکتا ہے۔ اس موقع پر اگرچہ پارٹی کی طرف سے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج کے بارے میں معلومات دی گئیں لیکن سہیل آفریدی نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’ہم کوئی غیرآئینی، غیرقانونی مطالبہ نہیں کر رہے۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ عمران خان کا اُن کے ذاتی ڈاکٹرز اور اہلخانہ کی موجودگی میں بہتر ہسپتال میں علاج ہو۔۔۔ اور اگر ملاقات کروائی جاتی ہے تو گارنٹی دیتے ہیں کہ باہر آ کر کوئی بھی شخص سیاسی بات نہیں کرے گا‘۔
چند ماہ پہلے حکومت نے اسی عذر کی بنا پر عمران خان کے ساتھ پارٹی لیڈروں ہی کی نہیں بلکہ ان کی بہنوں کی ملاقاتوں پر بھی پابندی لگا دی تھی۔ تحریک انصاف اس بنیادی اور ضروری انسانی حق کے لئے عدالتوں سے بھی انصاف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں سماعت کا منتظر ہے لیکن کوئی نہیں جانتا کہ اس کی نوبت کب آئے گی۔ تحریک انصاف اس دوران صرف عمران خان سے ملاقات کی سہولت دینے پر احتجاج کی کیفیت ختم کرنے اور تمام دوسرے مطالبوں سے دست بردار ہوچکی ہے۔ ایک وقت میں عمران خان کی فوری رہائی تحریک انصاف کے لیڈروں کا سب سے اہم مطالبہ تھا لیکن ملاقات کی درخواست کرتے ہوئے اب فوری رہائی کا مطالبہ نہیں دہرایا جاتا بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ اگر ملک میں قانون کی حکمرانی ہوجائے تو عمران خان تمام ناجائز مقدموں میں بری ہوجائیں گے۔ اس مؤقف سے یہی سمجھا جاسکتا ہے کہ اب پارٹی بھی رہائی کی بات نہیں کرتی بلکہ رسائی کی خواہش مند ہے۔ لیکن حکومت اس انسانی پہلو پر بھی غور کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔
اس حوالے سے وزیر مملکت طلال چوہدری کا مؤقف انتہائی بھونڈا ، ناجائز اور تمام انسانی اور قانونی اصولوں سے متصادم ہے۔ بی بی سی بات کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’اِس میں دو مسائل ہیں۔ ایک تو جیل کے کچھ اصول ہوتے ہیں اور دوسرا عدالت ہے۔ اگر انہیں شکایت ہے تو وہ پہلے سے عدالت جا چکے ہیں، اب بھی جا سکتے ہیں۔ اس میں حکومت کا کوئی براہِ راست عمل دخل نہیں ہے۔جیل کے اصولوں کے خلاف اگر اعتراض ہے تو عدالت کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ملاقات کی اجازت دے گی یا نہیں۔ عمران خان تک رسائی جیل حکام دے سکتے ہیں یا عدالت دے سکتی ہے۔ اگر جیل مینوئل کے مطابق یہ ممکن نہیں تو وہ (پی ٹی آئی) عدالت جائیں‘۔ یہ مؤقف ڈھٹائی کی بدترین مثال ہے اور سیاسی طرز عمل کے منافی ہے۔ عمران خان سے ملاقاتوں کا سلسلہ جیل مینوئل کی وجہ سے نہیں رکا بلکہ حکومت نے جان بوجھ کر ایک خاص طرح کے سیاسی ماحول کا خاتمہ کرنے کے لیے یہ فیصلہ کیا تھا اور جیل حکام کو عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان سے ملاقات کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا۔ ایسی ہٹ دھرمی سے حکومت کا سیاسی اعتبار قائم نہیں ہوگا بلکہ اس کی بد نیتی زیادہ نمایاں ہوگی۔
مسلم لیگ (ن) اس وقت مرکز کے علاوہ پنجاب میں حکمران ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی ان حکومتوں کو قائم رکھنے میں معاونت کرتی ہے۔ بار بار اختلافات سامنے آنے کے باوجود پیپلز پارٹی نے شہباز شریف کی حکومت گرانے کی کوئی کوشش نہیں کی کیوں کہ ایسی کوئی پیش رفت اس وقت طاقت کے مراکز میں قابل قبول نہیں ہے۔ اس کے باوجود اگر پیپلز پارٹی کسی قیدی سے ملاقاتوں پر پابندی جیسے بنیادی انسانی اور حساس معاملے پر کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کرتی تو یہ سمجھنا مشکل ہوگا کہ پیپلز پارٹی کی سیاست مسلم لیگ (ن) کی سیاست سے کیسے مختلف ہے۔ یہ دونوں پارٹیاں طویل عرصے سے ملکی سیاست میں سرگرم رہی ہیں ۔ ان سے زیادہ کوئی اس بات سے آگاہ نہیں ہوسکتا کہ سیاسی حالات اور اسٹبلشمنٹ سے تعلقات کسی وقت بھی کوئی ایسا موڑ لے سکتے ہیں جہاں حکومت کی بجائے ایک بار پھرقید و بند کی نوبت آجائے۔ اس وقت عمران خان بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا کررہے ہیں۔ ملک کی سیاسی پارٹیوں کو اس بارے میں اسٹبلشمنٹ کا ہتھکنڈا بننے کی بجائے سیاسی عمل کو خوشگوار بنانے کے لیے کام کرنا چاہئے۔Geographic Reference
اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ عمران خان کی عمر اس وقت 73 سال ہے۔ اگرچہ وہ صحت مند اور چاق و چوبند انسان ہیں لیکن انہیں طبی مسائل کا سامنا ہے ۔ گزشتہ دنوں انہیں آنکھوں کی تکلیف ہوئی تھی۔ اس کے بعد بھی کچھ شکایات سامنے آئی ہیں۔ عمران خان کو خواہ کسی وجہ سے قید تنہائی میں رکھا جارہا ہو لیکن عمر کے تقاضے یا حالات کی صعوبت کی بنا پر کسی وقت کوئی ناگہانی صورت حال رونما ہوسکتی ہے۔ ایسی کسی صورت میں اگر عمران خان کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس کی براہ راست ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوگی۔ اگرچہ اس ملک میں قومی لیڈروں کو پھانسی لگا کر بچ نکلنے کی تاریخ موجود ہے لیکن اب حالات اور شعور کی سطح بہر حال تبدیل ہوئی ہے۔ عمران خان کی صحت کے حوالے سے حکومت کو ان کے اہل خاندان اور پارٹی لیڈروں کے ساتھ مل کر کسی قابل عمل منصوبے پر عمل کرنا چاہئے۔ عمران خان کی صحت، علالت اور علاج کے بارے میں مصدقہ اور قابل تصدیق معلومات تسلسل سے فراہم ہونی چاہئیں۔ پی ٹی آئی کی دشمنی میں یک طرفہ بیانات اور انتہاپسندانہ اقدامات نہ تو سیاسی لیڈروں کو زیب دیتے ہیں اور نہ ہی ان کے ذریعے مستقبل کے لیے کوئی خوشگوار مثال قائم کی جارہی ہے۔
اس کے برعکس سرکاری ترجمانوں کا طرز تکلم افسوسناک اور غیر انسانی ہے۔ عمران خان ا س ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں۔ کرکٹ کے کھلاڑی کے طور پر انہیں قومی ہیرو کی حیثیت بھی حاصل ہے۔ سیاسی اختلاف یاغلطیوں کی بنیاد پر ان کی خدمات اور رتبے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ اس کے برعکس گزشتہ روز راولپنڈی میں ایک نوجون کی طرف سے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ اور جوابی فائر میں اس کی ہلاکت کے بعد وفاقی حکومت کے وزیروں نے انتہائی غیر معقول رویہ اختیار کیا۔ متعلقہ نوجوان کا تعلق تحریک انصاف کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ان سرکاری نمائیندوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گویا تحریک انصاف اپنے کارکنوں کو سکیورٹی فورسز پر حملوں کی ترغیب دے رہی ہے۔ ایسے بیانات سے تحریک انصاف کی بجائے حکومتی پارٹی کی بدحواسی و پریشانی ظاہر ہوتی ہے۔
بہتر ہوگا کہ اس پریشانی کو ختم کرنے کا راستہ نکالاجائے۔ پہلے مرحلے میں عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا جائے اور نتیجتاً جیل سے ان کی رہائی عمل میں آنا ضروری ہے۔ سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے مقدمات کی وجہ سے کسی سیاسی لیڈر کی طویل حراست ناقابل قبول پالیسی ہے جس کے ملکی سیاست کے علاوہ سماجی و نفسیاتی مزاج پر بھی ا ثرات مرتب ہوں گے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleکتابوں کی آخری ہچکی :وسعت اللہ خان کا کالم
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

کتابوں کی آخری ہچکی :وسعت اللہ خان کا کالم

اگست 13, 2026

بلوچستان کے ضلع سوراب میں 15 اکست تک رات کا کرفیو : قلات اور خضدار میں پابندیاں

اگست 12, 2026

نئے صوبے کی باتیں :امر جلیل کا کالم

اگست 12, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • عمران خان کی قیدِ تنہائی ختم کی جائے : سید مجاہد علی کا تجزیہ اگست 13, 2026
  • کتابوں کی آخری ہچکی :وسعت اللہ خان کا کالم اگست 13, 2026
  • بلوچستان کے ضلع سوراب میں 15 اکست تک رات کا کرفیو : قلات اور خضدار میں پابندیاں اگست 12, 2026
  • نئے صوبے کی باتیں :امر جلیل کا کالم اگست 12, 2026
  • سہ ملکی دفاعی معاہدہ: توقعات اور حقائق : سید مجاہد علی کا تجزیہ اگست 11, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.