یہ تحریر لکھنے کا خیال مجھے ڈاکٹر فراز صدیقی کے یوٹیوب پوڈکاسٹس دیکھ کر آیا۔ ڈاکٹر صدیقی امریکہ میں مقیم پلمونولوجسٹ (ماہرِ امراضِ تنفس) ہیں۔ وہ خود کو ملحد کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مذہبی تھے، لیکن کووڈ کے دوران ہونے والی اموات نے ان کی زندگی بدل دی اور انہوں نے اپنے عقائد پر خود سے سوالات اٹھانا شروع کر دیے۔ انہیں تسلی بخش جوابات نہیں ملے تو انہوں نے اسلام ترک کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ اپنے پروگرام میں مختلف ملحد اور غیرملحد شخصیات کو مدعو کرتے ہیں، جو ان کے ساتھ زیادہ تر مذہب ہی کے موضوع پر گفتگو کرتی ہیں۔ وہ دلائل کی بنیاد پر اسلامی تاریخ، سیاست، کلامِ الٰہی اور احادیثِ نبوی پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ مسلمانوں میں موجود مذہبی انتہاپسندی کے ماحول میں اس طرح کے متنازعہ پوڈکاسٹس کرنا یقیناً ایک بہادری کا کام ہے۔ لیکن کیا دنیا کو مذہب اور ردِ مذہب کی بحثوں میں الجھنے کی واقعی ضرورت ہے؟ یہ سوال میں نے ان کے ایک پوڈکاسٹ کے نیچے کمنٹ میں پوچھا ہے اور اب ان کے جواب کا منتظر ہوں۔
میں نے ان کے کچھ پروگرام دیکھ کر یہ اندازہ لگایا کہ اگرچہ وہ خود کو ریشنلِسٹ، یعنی مذہب کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے والا، سمجھتے ہیں۔ وہ بلاشبہ ایک مہذب اور نفیس انسان ہیں اور نہایت شائستگی کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر ناظرین کے سامنے رکھتے ہیں۔
ان کی ایک پوڈکاسٹ ’’قرآن والا‘‘ کے نام سے یوٹیوب چینل چلانے والی ایک ملحد شخصیت کے ساتھ ہے۔ ’’قرآن والا‘‘ نے اگرچہ اپنا چہرہ اور نام خفیہ رکھا ہوا ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ میرٹھ، ہندوستان سے تعلق رکھتے ہیں اور وہیں مقیم ہیں۔ ان کی گفتگو اگرچہ مدلل تھی، لیکن وہ شدید تنہائی کے دکھ میں مبتلا دکھائی دیے۔ ان کے بقول، ان کی بیوی، بچوں، بہن بھائیوں اور دوستوں نے ان سے مکمل تعلق ختم کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنا عقیدہ ٹوٹنے پر بھی دکھ کا اظہار کیا۔
مجھے لگتا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے ذاتی علمی سفر کے دوران کسی ایسے نتیجے پر پہنچ جائے جو ایک اسلامی معاشرے کے لیے قابلِ قبول نہیں، تو شاید اسے ہر حال میں اس کا اظہار کرنا ضروری نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس لیے کہ اس کا کوئی واضح فائدہ نہ ہو تو الٹا نقصان ضرور ہو سکتا ہے، اور یہ خود اس شخص کی ذہنی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ ہمیں سائنس اور مذہب کو الگ الگ رکھنا چاہیے۔ عقائد کی کوئی ایک متفقہ منطق نہیں ہوتی۔ خطرناک بات یہ ہے کہ ہر شخص یا افراد کے مختلف گروہوں کے درمیان ایک ہی مذہب کے بارے میں عقائد اور خیالات مختلف ہوتے ہیں۔ اسی اختلاف سے فرقے بنتے ہیں اور پھر وہ ایک دوسرے سے لڑتے ہیں۔
بحیثیتِ انسان ہمارا بنیادی کام انسانیت کو آگے بڑھانا ہونا چاہیے، جس کے لیے ہم مذہبی اخلاقیات اور سائنس، دونوں سے مدد لے سکتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ہمارے مذہبی عقائد کی بنیاد بھی اندھی تقلید نہیں بلکہ انسانیت ہونی چاہیے۔ لیکن یہ میرا ذاتی خیال ہے اور میں اس خیال کو دوسرے انسانوں پر مسلط کرنے کا قائل نہیں ہوں۔
خیر، بات ڈاکٹر فراز صدیقی کی ہو رہی تھی۔ وہ اپنی پوڈکاسٹس میں ڈاکٹر عرفان شہزاد کو اکثر مدعو کرتے ہیں۔ میں نے ان کی ایک پوڈکاسٹ ’’قتلِ عثمان اور واقعۂ کربلا‘‘ کے بارے میں دیکھی۔ اس میں ڈاکٹر عرفان شہزاد یہ ثابت کرتے نظر آئے کہ حضرت علیؓ، امام حسنؓ اور امام حسینؓ سیاسی طور پر کمزور اور غیر اہم شخصیات تھیں۔ یہ کہ حضرت علیؓ شاید قریش کے سرداروں سے کچھ بیزار تھے، یہ کہ معاویہؓ جنگ جیت چکے تھے لیکن انہوں نے اسلام کے وسیع تر مفاد میں اپنی فوج کو پیش قدمی سے روک دیا۔ یہ کہ اہلِ تشیع تو اپنے عقائد میں واضح ہیں، لیکن اہلِ سنت واضح نہیں ہیں، جس کی وجہ سے وہ متشیع ہو چکے ہیں۔ ان کے خیال میں اصلاح کی ضرورت، خدا نخواستہ، یزید کو نہیں بلکہ حسینؓ کو تھی۔ یہ کہ حسینؓ بنو امیہ سے عناد رکھتے تھے وغیرہ وغیرہ۔
اس پوڈکاسٹ نے مجھے کچھ پریشان کر دیا۔ شاید اس کی وجہ امام حسینؓ کے بارے میں میرے ذاتی عقائد ہیں۔ یہ عقائد میں نے اپنے گھر، مجلسوں، شیعہ کتابوں اور شیعہ تاریخ سے حاصل کیے ہیں۔ اپنے آپ کو بے حد روشن خیال اور اعتدال پسند سمجھنے کے باوجود مجھے یہ گفتگو سن کر دکھ ہوا۔ پھر میں نے سوچا کہ ایسے خیالات سن کر مختلف عقائد رکھنے والے کسی مذہبی انسان کا ردِعمل کیا ہوگا؟ یقیناً اس طرح کی پوڈکاسٹس نفرت اور تعصب کو فروغ دے سکتی ہیں۔ شاید معاشرے کو مذہبی شدت پسندی سے بچانے کے لیے ہمیں ایسی گفتگو کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہیے۔
ڈاکٹر فراز صدیقی کی رائے یقیناً مختلف ہوگی، کیونکہ وہ خود بھی مذہب کی حقیقت تک پہنچنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی دوسروں کو بھی اپنے نتائج سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے فالوورز کی تعداد ہزاروں میں ہے اور یہ تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔ وہ کمرشل یوٹیوبرز کی طرح بار بار ناظرین سے چینل کو سبسکرائب کرنے، ویڈیو کو لائک کرنے اور کمنٹ کرنے کی درخواست بھی کرتے نظر آتے ہیں۔
میں قارئین کے سامنے چند سوالات رکھنا چاہوں گا۔
کیا ہمیں آن لائن آ کر متنازعہ موضوعات پر مذہبی گفتگو کرنی چاہیے؟ کیا ہمیں اپنے مذہبی عقائد اور مذہب کے بارے میں اپنے خیالات کی تبلیغ کرنی چاہیے؟ کیا ہمیں دوسرے انسانوں کے عقائد پر براہِ راست اثرانداز ہونے کی کوشش کرنی چاہیے؟
کیا اس کے بجائے ہمیں سائنس اور اشتراکیت جیسے انسان دوست سیاسی نظریات کو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے؟ کیا ہمیں ایک دوسرے کو کھلے دل کے ساتھ قبول کرکے ایک متنوع معاشرے کی تشکیل کرنی چاہیے، یا ایک دوسرے کو مسترد کرکے اپنے ذاتی مذہبی عقائد اور نظریات کے لیے لڑنا جھگڑنا چاہیے؟
اور آخر میں، کیا ہمیں مذہب جیسے حساس اور متنازعہ موضوعات پر پروگرام کرکے معاشرے میں مزید تقسیم پیدا کرنی چاہیے، یا پھر انسانیت، سائنس، برداشت اور باہمی احترام جیسے موضوعات کو اپنی گفتگو کا مرکز بنانا چاہیے؟
شاید اصل سوال یہ نہیں کہ کون سا عقیدہ درست ہے اور کون سا غلط۔ شاید اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے اختلافِ عقیدہ کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ بہتر انسانوں کی طرح کیسے رہ سکتے ہیں۔
منگل, ستمبر 8, 2026
تازہ خبریں:
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
- پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا
- صحافی بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ منظور : پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاری ہوئی
- پی آئی اے، بیجنگ اور شریکے : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- پی ٹی آئی پنجاب کے سابق صدر حماد اظہر ملتان سے گرفتار۔لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا
- صوبوں کی بحث ۔۔ کھودا پہاڑ نکلا چوہا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- نئے صوبے ۔۔بسم اللہ اسلام آباد سے کریں : سہیل وڑائچ کا کالم
- زیارت۔۔ مسلح جنگجوؤں کا فوجی قافلے پر حملہ 16 فوجی شہید : بی ایل اے اور ٹی ٹی میں تعلق پر سوالات

