ابو شہاب ولدخانہ خراب۔۔۔ معذرت ۔پہلے ایک تکنیکی وضاحت پیش کر دوں تاکہ شہاب صاحب کے خاندانی شجرے پر کوئی حرف نہ آئے ۔ واضح ہو کہ ان کے والدِ محترم کا نام” خانہ خراب” ہرگز نہیں تھا۔ بلکہ یہ تو ان کا تخلص تھا ۔جو موصوف نے بہ امر مجبوری بقلم خود اختیار کیا تھا۔ ورنہ اس سے قبل آپ کا تخلص “شاد آباد” ہوا کرتا تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ شادی سے پہلے آپ ایک آزاد منش اور دھانسو قسم کے شاعر تھے ۔ آپ اپنی ہی دھن میں مگن زندگی کا مزہ لیے جا رہے تھے۔مگر پھر وہی ہوا جو ایسے لوگوں کے ساتھ ہوا کرتا ہے ۔ یعنی انہیں "اجل” نے آ لیا۔ (ضروری نوٹ: یہاں اجل سے مراد موت نہیں بلکہ شادی ہے۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں دونوں کا اثر تقریباً یکساں ہی سمجھا جاتا ہے) ۔
بعد از شادی (جسے بعد از مرگ بھی کہا جا سکتا ہے) آپ کو اپنی "نصف بہتر” کی طرف سے بعض ناقابلِ یقین اور محیر العقول واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔ تو آپ نے شرافت اسی میں جانی کہ اپنا تخلص "شاد آباد”سے بدل کر "خانہ خراب”رکھ لیں۔ تا حال آپ کو اسی نام سے لکھا اور پکارا جا رہا ہے۔اس بارے میں چاچے راوی سمیت محلے کے چند ویلے مشٹنڈوں کا کہنا ہے کہ چوہدری صاحب کی تبدیلیئ تخلص کا اصل محرک کوئی فلسفہ نہیں ، بلکہ کچھ اندوہناک خانگی حادثات تھے۔ ہوا کچھ یوں کہ شادی کے چند دن بعد ہی چوہدری صاحب کو شاعری کا دورہ پڑ گیا۔چنانچہ نویلی دلہن کو اپنی تازہ غزل سنانے کے لیے انہوں نے بڑے ارمانوں سے ڈائری کھولی۔ ابھی پہلا مصرع ہی پڑھا تھا کہ "ترے رخسار کی سرخی نے ہمیں مار ڈالا "۔ بیگم جو اس وقت بڑے شوق سے کچے پیاز اور مولیاں کھا رہی تھی۔انہیں ٹوکتے ہوئے بولی ۔سرخی سے یاد آیا۔ دوڑ کر بازار سے کلو ٹماٹر ۔پاؤ دیگی اور آدھا پاؤ کشمیری سرخ مرچیں تولیتے آؤ ۔کیا ہے کہ سالن میں رنگ نہیں آ رہا!۔۔یہ ڈالوں گی تو شوربہ سرخ ہو جائےگا۔
بیگم کی بات سنتے ہی انہوں نے محبوب کے رخسار کا شوربے کی سرخی سے مواز نہ کیا۔ ایسا کرتے ہی ان کے حلق سے ایک تسلی بخش چیخ برآمد ہونے ہی لگی تھی کہ انجام کا سوچتے ہوئے اسے ،اپنے ( ڈھائی انچ کے ) سینے میں ہی کہیں باعزت دفن کر دیا۔(اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا) پھر بغل میں تھیلا دابا، اور حواس باختہ نظروں سے بغلیں جھانکتے ہوئے بازار کی راہ لی۔اسی طرح کا دوسرا واقعہ سناتے ہوئے چاچا راوی بھی آبدیدہ ہو گیا بلکہ بیچ بیچ میں چیخیں بھی مارتا رہا ۔کہنے لگا چاندنی رات تھی۔چاند اپنی جوانی پہ تھا۔ چوہدری صاحب چھت پر بیٹھے ‘ماہِ کامل’ پر نظم سوچ رہے تھے کہ اتنے میں بیگم کی سپیکر نما آواز سنائی دی۔اجی سنتے ہو۔بچہ رو رہا ہے، دودھ ختم ہو گیا ہے، فوراً بازار جاؤ۔ چونکہ حکم سخت تھا اور چوہدری صاحب کو اپنی جان عزیز تھی۔اس لیے آپ نے چاند کی چاندنی کو بصدحسرت و یاس دیکھا اور سوچنے لگے کہ جس گھر میں ‘چاندنی’ کی جگہ ‘چائلڈ فارمولا’ اور ‘شاعری’ کی جگہ ‘شاپنگ لسٹ’ آ جائے۔وہاں ‘شاد آباد’ رہنا سفید جھوٹ ہوگا۔ یہ سوچ آتے ہی آپ نے وہیں بیٹھے بیٹھے اپنی ڈائری کھولی ۔ اس کے صفحہ اول پر بڑے بڑے جلی حروف میں لکھا کہ ۔ من مکھر مسمی جو کہ اس وقت صحتِ ثباتِ عقل اور کامل ہوش و حواسِ خمسہ کی قلمرو میں مقیم ہے۔ بلا جبر و اکراہ آج سے اپنا تخلص شا د آباد سے بدل کر ‘خانہ خراب’ رکھتا ہے ۔ تاکہ اسم اور مسمیٰ میں کامل ہم آہنگی و مطابقت پیدا ہو سکے ۔آئیندہ مجھے اسی نام سے لکھا اور پکارا جائے۔
یہ تو تھی چوہدری خانہ خراب صاحب کے حالات زندگی باعث شرمندگی کی چند جھلکیاں۔اب ہم ان کے اکلوتے بیٹے جو کہ اتفاق سے ناخلف بھی واقعہ ہوئے ہیں کے بارے میں کچھ بتائیں گے۔چوہدری صاحب کے یہ لختِ جگر دراصل قدرت کا وہ نایاب نمونہ ہیں۔ جن کے ہاں دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے شعور کی رسد منقطع ہو گئی تھی۔جس کا نقد نتیجہ یہ نکلا کہ اب آپ عقل کے بغیر بھی سکھی ہیں ۔باپ کی طرح آپ بھی درجہ چہارم کی شاعری کرتے ہیں۔ خواتین و حضرات! اب تک تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ یہ نادر و نایاب نمونہ کوئی اور نہیں، بلکہ وہی مشہورِ زمانہ شخصیت جناب چوہدری ابو شہاب ولدِ خانہ خراب ہیں۔جنہیں آپ ڈیٹ ایکسپائری یا زائد المعیاد آدمی بھی کہہ سکتے ہیں ۔ یہ وہ شاہکار شخصیت ہیں جو ہر محفل میں بیٹھتے ہی اعلان کرتی ہے۔بھائی! عقل مند وہی ہے جو دوسروں کو بےوقوف سمجھے۔جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ آپ کی جوانی تو کب کی ایکسپائیر ہو چکی تھی مگر آپ ہیں کہ خود کو اب بھی تازہ ترین "سٹاک” بلکہ حاضر سٹاک ” سمجھتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے باپ کی طرح "خانہ خراب” نہیں بلکہ "خانہ آباد” ہیں۔ ان کے سامنے بیگم چوں بھی نہیں کر سکتی۔(ہے نا حیرت کی بات) ،تفتیش پر معلوم ہوا کہ چوہدری صاحب ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ واقعی بیگم ان کے سامنے "چوں” بھی نہیں کر سکتی تھی کہ انہوں نے ایک گونگی بہری خاتون کے ساتھ نکاح مسنون کر رکھا تھا ۔ سچ تو یہ ہے کہ چوہدری صاحب کا سارا رعب و دبدبہ بیگم کی قوتِ سماعت و گویائی سے محرومی کا صدقہ ہے۔ قدرت نے کمالِ مہربانی سے بیگم کے کانوں اور زبان پر ایک ایسا مستقل لاک ڈاؤن نافذ کر رکھا تھا۔ جس کے واحد فیض یافتہ بلکہ انعام یافتہ صرف اور صرف چوہدری صاحب بذات خود ہیں ۔ چاچا راوی کہتا ہے کہ یہ بات بھی سچ ہے کہ اگر ان کی بیگم کے پاس زبان نامی وہ "ایٹمی ہتھیار” ہوتا ۔جو عام طور پر اس صنفِ نازک کا برانڈ مارک اور غریب شوہروں کے لیئے باعث نشانِ عبرت ہوا کرتا ہے۔ تو آج اس بقراطِ عصر پر عرصہ حیات تنگ ہونا تھا۔انہیں دور سے دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے آپ ‘وقت کے فریج’ میں رکھے وہ تربوز ہیں جس کی بجلی 1947 میں ایسی گئی کہ پھر لوٹ کر نہیں آئی۔
الاماشاء اللہ! آپ نزدیک سے بھی ایسے ہی لگتے ہیں ۔ آپ کی ایکسپائرڈ شخصیت قدرت کا وہ چلتا پھرتا اشتہار ہے جوہمیں چیخ چیخ کر بتاتا ہے کہ بدعائیں صرف لفظوں میں ہی نہیں ہوتیں۔ بلکہ کبھی کبھی جیتا جاگتا انسان بھی بن جاتا ہے ۔ اس لیئے نہ چھیڑ ملنگاں نوں ۔آپ کا دماغ آج بھی اسی پرانی فریکونسی پر اٹکا ہوا ہے جس پر قیامِ پاکستان کے وقت ریڈیو اسٹیشن سیٹ ہوا کرتےتھے۔ آپ ببانگ دہل فرماتے ہیں کہ سافٹ وئیر تو وہ اپ ڈیٹ کرے جس میں وائرس آ گیا ہو۔ہم تو بقلم خود چلتے پھرتے وائرس ہیں کہ جنہیں کسی اپ ڈیٹ کی ضرورت نہیں ۔آپ کے احوال لطیف پڑھنے کے بعد ایٹمی سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ چوہدری صاحب کی عقل پر زنگ نہیں لگا، بلکہ زنگ پر تھوڑی سی عقل لگ گئی ہے۔
ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
ایڈیٹر4 Views

