پاکستان میں جمہوریت کا سفر ابھی تک ایسے سوالات سے آزاد نہیں ہو سکا جن کے جواب صرف سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ آئین، پارلیمانی روایا ت، عوامی مینڈیٹ اور قومی مفاد کی کسوٹی پر تلاش کرنا ضروری ہیں۔ ان سوالات میں خواتین اور غیر مسلم شہریوں کے لیے مخصوص نشستوں کا نظام بھی شامل ہے۔ بنیادی سوال یہ نہیں کہ خواتین اور اقلیتوں کو پارلیمان میں نمائندگی ملنی چاہیے یا نہیں، کیونکہ اس پر کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان کی نمائندگی موجودہ مخصوص نشستوں کے ذریعے ہی برقرار رہنی چاہیے یا ایسا انتخابی نظام وضع کیا جا سکتا ہے جس میں وہ براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہو کر ایوانوں تک پہنچیں۔
موجودہ آئینی نظام کے مطابق قومی اسمبلی 336 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں 266 جنرل نشستیں، 60 خواتین اور 10 غیر مسلموں کے لیے مخصوص ہیں۔ صوبائی اسمبلیوں میں بھی خواتین اور غیر مسلموں کے لیے مخصوص نشستیں موجود ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے عام انتخابات 2024 کے نتائج کے مطابق چاروں صوبائی اسمبلیوں میں مجموعی طور پر 132 خواتین اور 24 غیر مسلموں کی مخصوص نشستیں ہیں۔
یہ نظام آئین کے آرٹیکل 51 اور آرٹیکل 106 کے تحت قائم ہے۔ جنرل نشستوں پر امیدوار براہِ راست عوامی ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں، جبکہ مخصوص نشستیں سیاسی جماعتوں کی ترجیحی فہرستوں اور متناسب نمائندگی کے اصول کے تحت تقسیم کی جاتی ہیں۔ اسی بنیاد پر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کیا نمائندگی برقرار رکھتے ہوئے انتخاب کا طریقۂ کار تبدیل کیا جا سکتا ہے؟
دنیا کی جمہوریتوں میں اس حوالے سے مختلف ماڈل موجود ہیں۔ برطانیہ میں خواتین کے لیے الگ مخصوص نشستیں نہیں، لیکن 2024 کے انتخابات میں 650 رکنی ہاؤس آف کامنز میں 263 خواتین براہِ راست عوامی ووٹ سے منتخب ہوئیں۔ بھارت میں شیڈول کاسٹ اور شیڈول ٹرائب کے لیے مخصوص حلقے ضرور ہیں، مگر ان حلقوں کے نمائندے بھی براہِ راست انتخابات کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں۔ موجودہ حلقہ بندی کے مطابق لوک سبھا میں 84 نشستیں شیڈول کاسٹ اور 47 شیڈول ٹرائب کے لیے مختص ہیں۔
ان مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ نمائندگی کے تحفظ اور براہِ راست عوامی مینڈیٹ کو ایک دوسرے کی ضد نہیں سمجھا جاتا۔ انتخابی نظام اس انداز میں بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے کہ مخصوص طبقات کی نمائندگی محفوظ رہے اور ان کے نمائندے براہِ راست ووٹ سے منتخب ہوں۔
پاکستان میں بھی اس تصور پر سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے۔ مخصوص نشستوں کے خاتمے کی تجویز کا مطلب خواتین اور غیر مسلم شہریوں کو سیاسی عمل سے باہر کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسا متبادل نظام تشکیل دینا چاہیے جس میں ان کی نمائندگی آئینی طور پر محفوظ بھی رہے اور وہ عوام کے ووٹ سے منتخب بھی ہوں۔
اس مقصد کے لیے قانون سازی کے ذریعے سیاسی جماعتوں کو پابند کیا جا سکتا ہے کہ وہ عام نشستوں پر خواتین اور غیر مسلم امیدواروں کو مناسب تعداد میں ٹکٹ دیں۔ انتخابی اخراجات، انتخابی تحفظ، مساوی مواقع اور میڈیا تک رسائی کے حوالے سے بھی مؤثر اقدامات کیے جا سکتے ہیں تاکہ وہ عملی طور پر انتخابی مقابلے میں شریک ہو سکیں۔
یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ پاکستان کا سماجی اور سیاسی ماحول برطانیہ یا دیگر ترقی یافتہ جمہوریتوں سے مختلف ہے۔ اگر مخصوص نشستیں فوری طور پر ختم کر دی جائیں اور متبادل انتظام نہ کیا جائے تو خواتین اور غیر مسلموں کی نمائندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے اصلاح کا مقصد نمائندگی ختم کرنا نہیں بلکہ اس کے طریقۂ انتخاب کو زیادہ جمہوری بنانا ہونا چاہیے۔
یہ بھی درست نہیں کہ مخصوص نشستوں کے خاتمے سے لازماً قومی خزانے میں بڑی مالی بچت ہوگی۔ اگر ان کی جگہ براہِ راست منتخب نشستیں قائم کی جاتی ہیں تو منتخب ارکان کو بھی وہی پارلیمانی سہولتیں حاصل ہوں گی۔ اس لیے کسی سرکاری مالی تخمینے کے بغیر بچت کے دعوے محتاط انداز میں ہی کیے جانے چاہییں۔
اصل سوال مالی نہیں بلکہ جمہوری جواب دہی کا ہے۔ براہِ راست منتخب نمائندہ اپنے ووٹروں کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے، جبکہ مخصوص نشستوں کے موجودہ نظام میں امیدواروں کا انتخاب سیاسی جماعتوں کی فہرستوں اور متناسب نمائندگی کے آئینی طریقۂ کار کے مطابق ہوتا ہے، اس لیے ان کے پاس براہِ راست جغرافیائی عوامی مینڈیٹ موجود نہیں ہوتا۔
اگر مستقبل میں خواتین اور غیر مسلم نمائندے براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہوں تو ان کی سیاسی حیثیت اور عوامی جواب دہی مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے آئینی ترمیم ناگزیر ہوگی۔ آئین کے آرٹیکل 238 اور 239 کے مطابق اس نوعیت کی تبدیلی کے لیے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی، اس لیے یہ محض سادہ قانون سازی کا معاملہ نہیں۔
جمہوریت کا حسن صرف ہر طبقے کو نمائندگی دینا نہیں بلکہ منتخب نمائندے کو عوام کے سامنے جواب دہ بنانا بھی ہے۔ اس لیے بحث کا محور مخصوص نشستوں کا خاتمہ نہیں بلکہ ایسا انتخابی نظام ہونا چاہیے جو نمائندگی، آئینی تحفظ اور عوامی مینڈیٹ تینوں کو یکجا کر سکے۔
مخصوص نشست نہیں، نمائندگی کا حق محفوظ رہے؛ طریقۂ انتخاب بدلے، آئینی تحفظ اور عوامی مینڈیٹ ساتھ ساتھ چلیں۔
مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
ایڈیٹر3 Views

